All topics

مجرور اسماء

اضافت دیگر کتب میں

8 passages

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۹

المُضَافُ اسْمٌ نُسِبَ إِلَى اسْمٍ بَعْدَهُ، فَتَعَرَّفَ بِسَبَبِ هَذِهِ النِّسْبَةِ أَوْ تَخَصَّص.

المُضَافُ يُحْذَفُ تَنْوِينُہ عِنْدَ الإِضَافَةِ إِذَا كَانَ مُنَوَّنًا قَبْلَهَا. وَتُحْذَفُ نُونُ المُضَافِ إِذَا كَانَ مُثَنًّى أَوْ جَمْعَ مُذَكَّرٍ سَالِمًا.

المُضَافُ إِلَيْهِ: اسْمٌ يَأْتِي بَعْدَ المُضَافِ وَهُوَ مَجْرُورٌ.

مضاف وہ اسم ہے جو اپنے مابعد کی طرف منسوب ہو ، اس نسبت کی وجہ سے وہ معرفہ بن جاتا ہے یا مخصوص ہو جاتا ہے۔

مضاف پر تنوین موجود ہو تو اضافت کی وجہ سے وہ حذف ہو جاتی ہے اگر مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم ہو تو اس کا نون حذف ہو جاتا ہے۔ (مضاف پر ان نہیں آتا)

مضاف الیہ وہ اسم ہے جو مضاف کے بعد آتا ہے اور مجرور ہوتا ہے۔

Read the rest (14)

الأمثلة :

(۱) لَعِبْنَا فِي فِنَاءِ الْمَدْرَسَةِ .

(٢) ابْتَعِدَ عَنْ قَرِينِ السُّوءِ

(٣) مَشَيْتُ عَلَى شَاطِي النَّيْلِ

(٤) رَكِبْتُ قِطَارَ الصَّبَاحِ .

(۱) أَغلَقْتُ مِصْرَاعَى الْبَابِ

(۲) غَسَلْتُ يَدَى الطَّفْلِ.

(٣) لَمَعَتْ عَيْنَا الْقِطْ

(٤) اِنْكَسَرَتْ عَجَلَتَا الدَّرَاجَةِ .

(۱) تَشْكُرُ الصُّحُفُ مُحْسِنِي الْأُمَّةِ

(٢) ثَرْوَةُ مِصْرَ مِنْ زَارِعَى الْأَرْضِ .

(٣) أَسْرَعَ سَائِقُوا السَّيَّارَاتِ

(٤) جَاءَ مُعَلِّمُوا الْمَدْرَسَةِ

Link

النحو الواضح (ثانویہ)

النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۵

( ۱ ) الإضافةُ المَعْنَوِيَّةُ واللفظية: اضافت لفظی اور معنوی

الْإِضَافَةُ قِسْمَانِ : مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ ..

(ا) فَالْإِضَافَةُ الْمَعْنَوِيَّةُ مَا أَفَادَتِ الْمُضَافَ تَعْرِيفاً أَوْ تَحْصِيْصَاً وَلَا يَكُونُ الْمُضافُ فِيهَا وَصْفاً مُضَافًا إِلَى مَعْمُولِهِ.

(ب) وَالْإِضَافَةُ اللَّفْظِيَّةُ مَا لَمْ تُفِدِ الْمُضَافَ إِلَّا التَّخْفِيْفَ بِحَذْفِ تَنْوِينِهِ إِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ مُنوَّنَاً، أَوْ حَذْفِ نُونِهِ إِنْ كَانَ مُثنى أَوْ جَمْعَ مُذَكَّرِ سَالِماً، وَيُضَافُ فِيهَا الْوَصْفُ إِلَى مَعْمُولِهِ.

يَمْتَنِعُ فِي الْإِضَافَةِ الْمَعْتَوِيَّةِ دُخُولُ أَلْ عَلَى الْمُصَافِ مُطْلَقًا و یَمتَنِعُ ذَلِکَ فی الاِضَافَۃِ اللَّفۡظِیَّۃِ أیۡضًا اِلّا فِیمَا یَاتِیۡ:

.(۱) ان يَكُونَ الْمُضَافُ مُثَنَّى أَوْ جَمْعِ مُذَكَّرٍ سَالِماً.

(۲) أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ مَقْرُونَا بِأَلُ اَوْ مُضَافَاً لِمَا فِيهِ أَلْ.

Read the rest (61)

اضافت کی دو قسمیں ہیں معنویہ اور لفظیہ -

پس اضافت معنویہ وہ ہے کہ جو مضاف کی تعریف اور تخصیص کا فائدہ دے، اور اس میں مضاف اس میں اس کلمہ میں ہوتا جو کہ وصف ہو کر اپنے معمول کی طرف مضاف ہو۔

اور اضافت لفظیہ مضاف کو صرف حذف نون کی وجہ سے تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اگر وہ اصل تنوین والا کلمہ ہو یا تثنیہ ہو یا جمع مذکر سالم ہو اور اس میں وصف کو اس کے معمول کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔

اضافت معنویہ میں مضاف پر مطلقاً الف لام کا داخل ہونا ممنوع ہے اور یہ اضافت لفظیہ میں بھی ممنوع ہے مگر ان مقامات میں جو کہ نیچے آرہے ہیں۔

ایک یہ کہ مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم ہو۔

دوسرا یہ کہ مضاف الیہ الف لام کے ساتھ ملا ہوا ہو یا اس کی طرف مضاف ہو کہ جس میں الف لام ہو۔

الأمثلة

(۱) نُورُ الشَّمْسِ قَوِى

عُنْقُ الجَمَلِ طَوِيلٌ

ريسُ الطَّاوُسِ جَمِيلٌ

(۲)أسْمَعُ بُكَاءَ طِفْل

أَرَى آثارَ أَقْدَامٍ

اَشُمُّ رَائحةَ وردٍ .

(۳) صَانِعُ المَعْرُوفِ مَشْكُورٌ .

مَحْمُودُ الْخِصَالِ مَمْدُوحٌ

سَرِيعُ الْغَضَبِ مَذمُومُ

(۴)الْحَافِظا دُرُوسِهِما مَكَافَانِ

الْمُتَّقِنُو أَعْمَالِهِمْ رَابِحُونَ.

الْمُنْصِفُ النَّاسِ مَحْبُوبٌ

الْمَحِبُّ فِعَلَ الخَيْرِ سَعِيدٌ

( ٢ ) الْمُضَافُ إِلى يَاءِ الْمُتَكَلِّم: یاء متکلم کی طرف مضاف

إِذَا أُضِيْفَ الْاِسْمُ إِلى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ كُسِرَ آخِرُهُ لِمُنَاسَبَةِ الْيَاءِ ، وَجَازَ فِي الْيَاءِ الْإِسْكَانُ وَالْفَتْحُ إِلَّا إِذَا كَانَ مَقْصُوراً، أَوْ مَنقُوصاً أَوْ مثَنّیٰ أَوْ جَمْعَ مُذَكَرٍ سَالِماً فَيَجِبُ تَسْكِيْنُ آخِرِ الْمُصَافِ وَفَتْحِ الْيَاءِ

جب کسی اسم کی یائے متکلم کی طرف اضافت کی جائے تو اس کے آخر کو یاء کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ دیتے ہیں اور اس میں یاء کو ساکن کرنا اور فتحہ دینا بھی جائز ہے، مگر جب وہ مقصور ہو یا منقوص ہو، تثنیہ ہو یا جمع مذکر سالم ہو تو اس وقت مضاف کے آخر اور یاء کے فتحہ کو ساکن کر دینا واجب ہے۔

الأمثلة

(۱)قُمْتُ بنَصيبي مِنَ العَمَل أو بنصيبيَ

سموت بآدابی أَو بِآدَابِيَ

أَعْطِفُ عَلَى الْفَقِيرِ بِصَدَقَاتِي أَوْ بِصَدَقَاتِيَ

(۲)

إِن عَصَايَ لَجَمِيلَةٌ

كانَتْ لَيَالِي فِي السَّفَرِ مُقْمِرَةً .

أَنْتُمَا صَاحِبَايَ الوَفِيَّان .

هؤلاءِ مُنقذِيَّ من الضِّيقِ .

(۳) ما يُضَافُ إِلَى الجَمْلَةِ وُجُوباً وَجَوَازاً: وہ جن کا جملہ کی طرف مضاف ہو واجب یا جائز ہے

حَيْثُ وَإِذْ وَإِذَا ظُرُوفٌ مَبْنِيَّةٌ لَا تُضَافُ إِلَّا إِلَى الْجُمَلِ .

اسم الزَّمَانِ المُبْهَم مَا دَلَّ عَلَى وَقْتِ غَيْرِ مَحْدُودٍ وَيُضَافُ إِلَى الْجُمْلَةِ وَالْمُفْرَدِ، فَإِذَا أُضِيْفَ إِلَى الْجُمْلَةِ جَازَ إِعْرَابُهُ وَبِنَاؤُهُ عَلَى الْفَتح

حيث ، اذ اور اذا یہ ظروف مبنی ہیں یہ صرف جملے کی طرف ہی مضاف ہوتے ہیں۔

اسم زمان مبہم وہ ہے کہ جو غیر محدود وقت پر دلالت کرے ، اور وہ جملہ اور مفرد کی طرف مضاف ہو، پس جب اس کو جملہ کی طرف مضاف کیا جائے تو اس کو معرب پڑھنا بھی جائز ہے اور مبنی برفتحہ پڑھنا بھی۔

الأمثلة :

(۱)جَلَسْتُ حَيْثُ الْمَنْظُرُ جَمِيلٌ .

جَلَسْتُ حَيْثُ يَجْمُلُ الْمَنْظُرُ .

جَلَسْتُ حَيْثُ جَمُلَ الْمَنْظَرُ .

(۲) جئْتُ إِذِ الْمَطَرُ هَاطِلُ .

جِئْتُ إِذْ هَطَلَ الْمَطَرُ .

(۳)أُجِيبُكَ إِذَا دَعَوْتَني.

أَجِيبُكَ إِذَا تَدْعُونِي .

(۴)نَزَلَ المَطَر على حِينِ الْفَلاحُ قَائِط أو حِينَ .

هَذَا وَقْتُ يُكافأُ الْمُجِدُّونَ أو وقتَ

زُرْتُكَ فِي زَمَنِ فُزۡتَ فِي الْأَمْتِحَانِ أو زَمَنَ

Link

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۵

مرکب اضافی

مرکب اضافی: دو اسموں کے ایسے مرکب کو کہتے ہیں جس میں پہلے اسم کی نسبت دوسرے اسم کی طرف کی گئی ہو، جیسے کتاب سعيدٍ، بيت خالدٍ -

مرکب اضافی کے پہلے اسم کو (جس کی نسبت دوسرےاسم کی طرف کی جارہی ہو)۔ مضاف اور دوسرے اسم کو (جس کی طرف نسبت کی گئی ہو ) مضاف الیه کہتے ہیں۔

(1) مضاف اور مضاف الیہ دونوں اسم ہوا کرتے ہیں۔

(۲) مضاف اسم نکرہ اور مضاف الیہ اکثر معرفہ اور کبھی نکرہ بھی ہوا کرتا ہے۔

(۳) مضاف پر ال اور تنوین نہیں آتی لیکن مضاف الیہ پر "ال" اور تنوین دونوں ہی آتے ہیں۔

(۴) مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوا کرتا ہے۔

(۵) اضافت میں مضاف سے تنوین ہی کی طرح اس کے نون جمع اور نون تثنیہ بھی گر جاتے ہیں۔ جیسے مسلمون الهند سے مُسْلِمُوا الْهِنْدِ اور كِتَابَانِ خَالِدٍ سے كِتَابا خَالِدٍ وغيرة

Read the rest (5)

(۶) کبھی ایک ہی ترکیب میں کئی مضاف الیہ ہوتے ہیں جیسے بابُ بیتِ صدِيقِكَ، لَوْنُ قَلنْسُوةِ مَحْمُود، ایسی صورت میں درمیانی مضاف الیه چونکہ ما بعد کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو جر (کسرہ) تو ہو گا مگر اس پر تنوین اور ال نہیں آئے گا۔

حاشیہ: کبھی مضاف الیہ جملہ میں بھی ہوا کرتا ہے۔ (جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ دونوں )

نوٹ: اضافت سے اسم میں تخصیص اور تعیین کے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلا: بیت خالدٍ میں اگر تم صرف لفظ ہیت کہو تو اس سے کوئی ایک غیر متعین ہی گھر مراد ہوگا۔ لیکن جب بیت کو مضاف بنا کر اس کی اضافت خالد کی طرف کر دو تو پھر بیت کی تعین ہو جائے گی اور اس سے ایک مخصوص گھر ( خالد کا گھر ) سمجھا جائے گا نہ کہ کوئی سا گھر۔

نوٹ: (۱) اردو میں مضاف الیہ پہلے ہوتا ہے اور مضاف بعد میں ہوتا ہے لیکن عربی میں اس کے بر عکس ہوتا ہے یعنی مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں جیسے کتابُ خالدٍ ( خالد کی کتاب ) ابنُ محمودٍ ( محمود کا بیٹا) وغیره۔

نوٹ: (۲) اردو میں اضافت کا ترجمہ " کا، کے ، کی" سے کیا جاتا ہے اور جب ضمائر کی طرف اضافت ہو تو ضمیر غائب کے لئے اس کا ضمیر مخاطب کے لئے تیرا اور ضمیر متکلم کے لئے میرا اور اپنے سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مبتدی طلبہ ضمائر کے ترجمہ میں خصوصاً اپنا وغیرہ میں غلطیاں کرتے ہیں۔ مثلاً جب کہنا ہو کہ خالد اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تو رکبَ خَالِدٌ فَرسَهُ کہا جائے گا لیکن اس کے بجائے میں اس کے گھوڑے پر سوار ہوا تو رَکِبتُ فَرسَہُ کہا جائیگا اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا کے لئے رَکبتُ فَرسِی کہا جائے گا۔

Link

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۲

مضاف اور مضاف الیہ کی صفت

آپ پڑھ چکے ہیں کہ اردو کے برعکس عربی میں صفت اپنے موصوف کے بعد آتی ہے اور متصل ہی آتی ہے مگر جہاں ترکیب توصیفی و ترکیب اضافی ایک ساتھ جمع ہو جائیں اور مقصود مضاف کی صفت لانی ہو تو اس صورت مندرجہ بالا قاعدہ سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ بخلاف مضاف الیہ کی صفت کے ۔ کیونکہ مضاف الیہ کی صفت اس سے متصل ہی آتی ہے۔ اس لئے طالب علم کے لئے اس میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ۔ اس کے برعکس مضاف کی صفت چونکہ مضاف سے متصلا نہیں آتی بلکہ مضاف الیہ کے بعد لائی جاتی ہے اور موصوف وصفت میں فصل ہو جاتا ہے۔اس لئے اکثر طلبا اس میں غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں ذیل کی مثالیں پڑھیئے ۔

رِيشَةُ الْقَلَمِ الثمینِ (قیمتی قلم کا نب) مضاف الیہ کی صفت

رِیشَةُ الْقَلَمُ الثمینةُ ( قلم کا قیمتی نب) مضاف کی صفت ۔

پہلی مثال میں الثَمينُ ، قلم ( مضاف الیہ) کی صفت ہے اس لئے مذکر اور مجرور ہے اور دوسری مثال میں الثّمِينَةُ رِيشةُ مضاف کی صفت ہے اس لیے مونث اور مرفوع ہے کیونکہ رِیشۃُ مرفوع ہی ہے پھر چونکہ رِیشۃُ معرفہ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے۔ اس لئے الثّمِينَةُ کو بھی ال کے ذریعے معرفہ بنالیا گیا ہے۔ اس قاعدہ کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے۔ ترجمہ کرتے وقت حسب ذیل باتوں کو یادر کھیئے۔

(۱) سب سے پہلے مضاف و مضاف الیہ کا ترجمہ کر لینا چاہئے پھر مضاف کی صفت مضاف الیہ کے بعد لکھنی چاہیے۔

(۲) مضاف الیہ تو ہر حال میں مجرور ہی ہوتا ہے مگر مضاف کی صفت کا اعراب مضاف کے مطابق رہے گا۔

(۳) مضاف کی تذکیر و تانیث پر بھی غور کرنا چاہئے تا کہ صفت اس کے مطابق لکھی جاسکے نہ کہ مضاف الیہ کے مطابق۔

(۴) اضافت سے چونکہ اسم میں تخصیص و تعیین پیدا کرنی مقصود ہوتی ہے۔ اس لئے اسماء کی اضافت عموما معرفہ کی طرف کی جاتی ہے۔ اس طرح وہ اسم نکرہ اضافت کے بعد معرفہ بن جاتا ہے۔ لہذا اب اس کی صفت بھی معرفہ ہی لکھی جانی چاہئے۔

Link

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۲۱

فصل المجرور بالمضاف

يكون الاسم مجرورا إذا سبقه المضاف، وكان ذلك الاسم مضافا إليه، نحو: هذا بيت - زيد ورجال، ومسلمات

("زيد" ورجال" و "مسلمات" مجرورات لكونها مضافة إليها وعلامة جرها الكسرة لكونها مفرد - منصرفا، وجمعا مكسرا، وجمع مؤنث سالما)

ونحو : هذا بيت عمر (عمر مجرور لكونه مضافا إليه، وعلامة جره الفتحة - لكونه غير منصرف)

ونحو: هذا بيت المسلمين، والمسلمين، وأخيك المسلمين" و "المسلمين" و"أخیک"- مجرورات لكونها مضافة إليها، وعلامة جرها الياء لكونها مثنى، وجمع مذكر سالماء واسما من الاسماء الستة)

والمضاف إليه:

هو اسم ينسب إليه اسم آخر قبله على تقدير حرف جر ، فالاسم الأول يسمی "مضافا" والثاني "مضافا إليه"

Read the rest (117)

وحرف الجر المقدر يكون كثيرا " من " إذا كان المضاف إليه جنسا للمضاف، نحو: اشتريت خاتم فضة (التقدير: اشتريت خاتما من فضة) ويكون قليلا " في " إذا كان ظرفا له ، نحو: صليت صلاة الصبح (التقدير: صليت الصلاة في الصبح ويكون غالبا "اللام" في ما سوی المذكور، نحو: عندي كتاب زيد (التقدير : عندي كتاب لزيد)

تقسيم الإضافة:

عملية نسبة المضاف إلى المضاف إليه تسمى إضافة، وهذه الإضافة قسمان:

ا. معنوية

٢- ولفظية

فالإضافة المعنوية : ( وتسمى محضة أو حقيقية)

هي نسبة اسم لا يكون صفة عاملة ، إلى معرفة، أو نكرة، وتفيد تعريف المضاف عند إضافته إلى المعرفة، نحو: كتاب سليم عندي، وتخصيصه عند إضافته إلى النكرة، نحو: كتاب نحو عندي، هذا من جهة المعنى، ومن جهة اللفظ تخفيف المضاف بحذف التنوين ونون التثنية والجمع من لفظه ، فحذف التنوين من "كتاب" في المثالين المذكورين، ومثال حذف النونين: هذان كتابا سليم وهؤلاء مسلموا أمريكا.

والإضافة اللفظية : ( وتسمى غير محضة أو مجازية )

هي نسبة الصفة العاملة إلى معمولها (أي فاعلها أو مفعولها في المعنى) وتفيد التخفيف فقط بحذف التنوين أو نوني التثنية والجمع من لفظ المضاف عند وجودها فيه قبل الإضافة، نحو: هذا ناصر الضعيف تقديره هذا ناصر الضعيف) وهذان مطيعا الأب (تقديره: هذان مطيعان أباهما) وهؤلاء مطيعو الأب (تقديره: هؤلاء مطيعون أباهم)

أحكام المضاف

المضاف يكون عادة نكرة، ويعرب حسب موقعه في الجملة، نحو: قلم خالد جميل (قلم: مبتدأ مرفوع وعلامة رفعه الضمة) وأخذت قلم خالد (قلم مفعول به منصوب وعلامة نصبه الفتحة) وكتبت بقلم خالد (قلم: مجرور بالباء، وعلامة جره الكسرة) يجرد المضاف من التنوين، ونوني التثنية والجمع في الإضافتين كما سبق. يجرد المضاف من "ال" في الإضافة المعنوية، وأما إذا كانت الإضافة لفظية فيجوز -

دخول "ال" على المضاف بشرط :

۱۔ أن يكون مثنى نحو: جاء المكرما سعد

٢۔ أو جمع مذكر سالما، نحو: جاء المكرمو سعد

۳۔ أو مضافاً إلى ما فيه ال، نحو: جاء الدارس النحو.

۴۔ أو مضافا إلى اسم مضاف إلى ما فيه "ال" نحو : جاء القاري كتاب الصرف -

المضاف في الإضافة اللفظية يستمر نكرة ولو أضيف الی معرفة ولذلک جاز وصف النكرة به نحو قوله تعالى: هذا عارض ممطرنا ( عارض موصوف نكرة، وقد وصف بالمضاف من الإضافة اللفظية لبقائه نكرة بعد إضافته )

يكتسب المضاف من المضاف إليه التذكير أو التأنيث فيعامل معاملته، بشرط أن يكون المضاف صالحا للاستغناء عنه، وإقامة المضاف إليه مقامه، نحو: قطعت بعض أصابعه وقرى أجزاء الكتاب (والأولى مراعاة المضاف فتقول: قطع بعض أصابعه، وقرئت أجزاء الكتاب)

لا يضاف اسم إلى مرادفه إلا إذا كانا علمين نحو محمد سعيد.

لا يضاف الموصوف إلى صفته وأما نحو: دار الآخرة، فهو على تقدير محذوف قد وصف بهذه الصفة، أي: دار الحياة الآخرة.

قد يكون في الكلام اسمان مضافان متماثلان في اللفظ والمعنى، و أحدهما معطوف على الآخر، فيحذف الثاني منهما استغناء عنه بالأول نحو ما كل سوداء تمرة، ولا - بيضاء شحمة، أي: ولا كل بيضاء شحمة.

قد يكون في الكلام اسمان مضاف إليهما متماثلان في اللفظ والمعنى وأحدهما معطوف على الآخر، فيحذف الأول منهما استغناء عنه بالثاني ، نحو: جاء شقيق وشقيقة حسن، والأصل: جاء شقيق حسن وشقيقة حسن، لكن الأولى فيه : جاء شقيق حسن وشقيقته.

أحكام المضاف إليه :

المضاف إليه يكون إما اسما ظاهرا، أو ضميرا.

إذا كان المضاف إليه اسما ظاهرا فانه يكون دائما مجرورا، ويكون عادة معرفة نحو قلم الطالب عندي، وقد يقع المضاف إليه نكرة، نحو: قلم طالب عندي

إذا كان المضاف إليه ضميرا فإنه يكون متصلا بالمضاف، ويعرب في محل جر، نحو: أخذت كتابك (الكاف: ضمير متصل مبني على الفتح في محل جر مضاف إليه )

الأسماء بالنسبة إلى إضافتها وعدمها:

الأسماء بالنسبة إلى إضافتها وعدمها ثلاثة أنواع:

ا۔ نوع تجوز إضافته، وهو كثير.

۲۔ نوع تمتنع إضافته كالضمائر، والإشارات، والموصولات (سوى "أي" ) وأسماء الشرط والاستفهام (سوى "أي" أيضا)

۳۔ نوع تلزم إضافته إلى المفرد، أو الجملة، فمما تلزم إضافته إلى المفرد عند، لدى، كلا، كلتا، قبل، بعد، وكل اسم يدل على جهة من الجهات الست مثل فوق، تحت وغيرهما، ومما تلزم إضافته إلى الجملة: إذ، إذا، حيث، وغيرها.

فصل المجرور بالمضاف (اضافت کے ذریعے مجرور)

اسم اس وقت مجرور ہوتا ہے جب اس سے پہلے کوئی مضاف آئے، اور وہ اسم مضاف الیہ ہو۔ جیسے: "هَذا بيتُ زيدٍ"، "رجالٍ" اور "مسلماتٍ": یہ اسماء مجرور ہیں کیونکہ یہ مضاف الیہ ہیں اور ان کی جر (زیر) کی علامت کسرة (زیر) ہے کیونکہ یہ مفرد منصرف (واحد) اور جمع مکسر (ٹوٹے ہوئے جمع) ہیں، اور جمع مؤنث سالم ہیں۔

اسی طرح: "هذا بيتُ عمرَ" (عمر مجرور ہے کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے، اور اس کی جر کی علامت فتحة (زبر) ہے کیونکہ یہ غیر منصرف ہے)۔

اسی طرح: "هذا بيت المسلمين، المسلمين، وأخيك"۔ (یہ اسماء مجرور ہیں کیونکہ یہ مضاف الیہ ہیں اور ان کی جر کی علامت "ياء" ہے، کیونکہ یہ مثنى (دوہری) اور جمع مذکر سالم ہیں اور اسماء میں سے ہیں جو جر میں مخصوص قاعدہ رکھتے ہیں)۔

مضاف الیہ کی تعریف:

مضاف الیہ وہ اسم ہے جس کی طرف دوسرے اسم کی نسبت کی جائے، جیسے کہ اس سے پہلے کوئی مضاف ہو، اور اس میں حرف جر مقدر ہو۔ اس میں زیادہ تر "من"کا استعمال ہوتا ہے جب مضاف الیہ مضاف کی جنس ہو۔

مثالیں:

- اشتريتُ خَاتمَ فضةٍ (اس کا مطلب ہے: میں نے چاندی کی انگوٹھی خریدی)۔

- صليت صلاة َالصبحِ(اس کا مطلب ہے: میں نے صبح کی نماز پڑھی)۔

اضافت کی تعریف اور اقسام

اضافت وہ نسبت ہے جو مضاف کو مضاف الیہ سے جوڑتی ہے، اور یہ دو طرح کی ہوتی ہے:

اضافت معنویہ (محضہ یا حقیقی)

اضافت لفظیہ (غیر محضہ یا مجازی)

1- اضافت معنویہ (محضہ یا حقیقی)

یہ وہ نسبت ہے جس میں مضاف کسی ایسے اسم کی طرف منسوب ہو جو عامل صفت نہ ہو، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ:

اگر مضاف کو کسی معرفہ اسم سے جوڑا جائے تو وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، جیسے:

"كتاب سليمٍ عندِي" (میرے پاس سلیم کی کتاب ہے) → "كتاب" معرفہ بن گیا۔

اگر مضاف کو کسی نکرہ اسم سے جوڑا جائے تو وہ مخصوص ہو جاتا ہے، جیسے:

"كتاب نحو عندي" (میرے پاس نحو کی ایک کتاب ہے) → "كتاب" نکرہ ہی رہا، مگر مخصوص ہوگیا۔

اس کا ایک اور فائدہ مضاف کا تخفیف (مختصر ہونا) بھی ہے، یعنی:

تنوین حذف ہو جاتی ہے، جیسے: "كتاب" (اصلاً "كتابٌ" تھا)۔

نون تثنیہ اور جمع حذف ہو جاتی ہے، جیسے:

"هذان كتابا سليم" (یہ دو کتابیں سلیم کی ہیں) → "كتابان" سے "نون" ختم ہو گئی۔

"هؤلاء مسلمو أمريكا" (یہ لوگ امریکہ کے مسلمان ہیں) → "مسلمون" سے "نون" ختم ہوگئی۔

2- اضافت لفظیہ (غیر محضہ یا مجازی)

یہ وہ نسبت ہے جس میں مضاف ایک عامل صفت ہوتا ہے، اور مضاف الیہ اس کا فاعل یا مفعول ہوتا ہے۔ اس میں صرف تخفیف کا فائدہ ہوتا ہے، نہ کہ معرفہ یا نکرہ بننے کا، جیسے:

"هذا ناصر الضعيف" → یعنی "هذا ناصرٌ الضعيف" (یہ کمزوروں کا مددگار ہے)۔

"هذان مطيعا الأب" → یعنی "هذان مطيعان أباهما" (یہ دونوں والد کے فرمانبردار ہیں)۔

"هؤلاء مطيعو الأب" → یعنی "هؤلاء مطيعون أباهم" (یہ لوگ والد کے تابع ہیں)۔

احکام المضاف (مضاف کے احکام)

مضاف عام طور پر نکرہ ہوتا ہے اور جملے میں اپنے محل کے مطابق معرب ہوتا ہے، جیسے:

"قلم خالد جميل" → "قلم" مبتدا ہے۔

"أخذت قلم خالد" → "قلم" مفعول بہ ہے۔

"كتبت بقلم خالد" → "قلم" مجرور ہے۔

مضاف ہمیشہ تنوین اور نون تثنیہ و جمع سے پاک ہوتا ہے۔

اضافت معنویہ میں مضاف پر "ال" داخل نہیں ہو سکتا۔

اضافت لفظیہ میں "ال" داخل ہو سکتا ہے، مگر چار شرائط کے ساتھ:

۱۔مثنی ہو، جیسے: "جاء المكرما سعد"۔

۲۔جمع مذكر سالم ہو، جیسے: "جاء المكرمو سعد"۔

۳۔ایسے اسم سے مضاف ہو جس میں "ال" ہو، جیسے: "جاء الدارس النحو"۔

۴۔ کسی ایسے اسم سے مضاف ہو جو خود کسی معرفہ سے مضاف ہو، جیسے: "جاء القاري كتاب الصرف"۔

اضافت لفظیہ میں مضاف نکرہ ہی رہتا ہے، چاہے معرفہ سے مضاف ہو، جیسے: "هذا عارض ممطرنا" → "عارض" نکرہ ہے کیونکہ یہ اضافت لفظیہ ہے۔

مضاف اپنے مضاف الیہ سے تذکیر و تانیث حاصل کرتا ہے، بشرطیکہ مضاف کے بغیر جملہ مکمل ہو سکتا ہو، جیسے:

"قطعت بعض أصابعه" → "بعض" مذکر ہے کیونکہ "أصابعه" مذکر ہے۔

"قرى أجزاء الكتاب" → "أجزاء" مونث ہے کیونکہ "الكتاب" مذکر ہے، مگر بہتر ہے کہ "أجزاء" کی تانیث کا لحاظ رکھا جائے اور یوں کہا جائے: "قرئت أجزاء الكتاب"۔

کسی اسم کو اس کے مترادف (ہم معنی) سے مضاف نہیں کیا جاتا، سوائے اگر وہ دونوں اعلام ہوں، جیسے: "محمد سعيد" (یہاں "محمد" اور "سعيد" دونوں اعلام ہیں)۔

موصوف کو صفت سے مضاف نہیں کیا جا سکتا، سوائے اگر کوئی محذوف مفہوم ہو، جیسے: "دار الآخرة" → اصل میں "دار الحياة الآخرة" تھا۔

دوسرے مضاف کا حذف:

جب کسی جملے میں دو مضافات ہوں جو لفظاً اور معنیً یکساں ہوں اور دوسرا مضاف پہلے پر معطوف ہو، تو دوسرا مضاف حذف کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم پہلے مضاف سے واضح ہوتا ہے، جیسے: ما كل سوداء تمرة، ولا بيضاء شحمة"

اصل جملہ: "ما كل سوداء تمرة، ولا كل بيضاء شحمة": ہر سیاہ چیز کھجور نہیں ہوتی، اور ہر سفید چیز چربی نہیں ہوتی۔

پہلے مضاف کا حذف:

کبھی کسی جملے میں دو مضاف الیہ ہوتے ہیں جو لفظاً اور معنیً یکساں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر معطوف ہوتا ہے، تو پہلا مضاف الیہ حذف کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم دوسرے مضاف الیہ سے واضح ہو جاتا ہے۔

مثال:

"جاء شقيق وشقيقة حسن" اصل جملہ: "جاء شقيق حسن وشقيقة حسن"

بہتر جملہ: "جاء شقيق حسن وشقيقته" : حسن کا بھائی اور بہن آئے۔

احکام المضاف إليه (مضاف الیہ کے احکام)

مضاف الیہ یا اسم ظاہر ہوگا یا ضمیر:

اگر اسم ظاہر ہو تو ہمیشہ مجرور ہوگا، جیسے: "قلم الطالب عندي"۔

نکرہ بھی ہو سکتا ہے، جیسے: "قلم طالب عندي"۔

اگر ضمیر ہو تو مضاف سے متصل ہوگا اور محل جر میں ہوگا، جیسے: "أخذت كتابك" → "كتاب" کا مضاف الیہ "ك" (ضمیر) ہے۔

اضافہ کے اعتبار سے اسماء کی اقسام

وہ اسماء جو اضافت قبول کرتے ہیں → عام الفاظ، جیسے: "كتاب خالد"۔

وہ اسماء جن کی اضافت منع ہے → ضمائر، اسماء اشارہ، موصولات (سوائے "أي" کے)، اور اسماء شرط و استفہام (سوائے "أي" کے)۔

وہ اسماء جو لازمی اضافت رکھتے ہیں:

مفرد سے مضاف ہوتے ہیں: عند، لدى، كلا، كلتا، قبل، بعد، فوق، تحت وغیرہ۔

جملے سے مضاف ہوتے ہیں: إذ، إذا، حيث وغیرہ۔

Link

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۵

كِتَابُ بلالٍ بلال کی کتاب۔

بَيْتُ الْإِمَامِ امام کا گھر

اس صورت میں پہلے جزء کو ”مضاف“ اور دوسرے جزء کو ”مضاف الیہ “ کہتے ہیں۔

مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہو گا خواہ اس کے آخر میں تنوین ہو جیسا کہ پہلی مثال میں ہے یا اس پر ”ال“ داخل ہو جیسا کہ دوسری مثال میں گذرا۔

مضاف پر ”ال یا تنوین نہیں آئے گی۔ بلکہ اس پر صرف ایک حرکت ہو گی جیسے : كتاب بلالٍ بلال کی کتاب

چنانچہ کتاب بلال یا الكِتَابُ بلالٌ کہنا غلط ہے۔ كِتَابُ مَنْ؟ کس کی کتاب اس مثال میں ” من مضاف الیہ ہے لیکن اس کے آخر میں کسرہ (زیر) نہیں ہے۔ حالانکہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ اور جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں بعض کلمات ایسے ہیں جو ہمیشہ یکساں حالت میں رہتے ہیں۔ ان کے آخر میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ہے ایسے کلمات کو ”مبنی “ کہتے ہیں۔

عَلَى مَكْتَبِ الْمُدِير مدیر کی میز پر

اس مثال میں مکتب حرف جر علی کی وجہ سے مجرور ہے اور المدیرِ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔

۲۔ تحت: نیچے۔ یہ اپنے بعد آنے والے اسم کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والا اسم (مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے) مجرور ہوتا ہے جیسے :

تحت المكتب میز کے نیچے

تَحْتَ الْكِتَابِ کتاب کے نیچے

Link

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱

مضاف الیہ ضمیر بھی ہو سکتا ہے، جیسے:

أَيْنَ ذَهَبَ أَخُوْكَ ؟تمہارا بھائی کہاں گیا ؟

مَارَأَيْتُ أَخَاكَ.میں نے تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا۔

مَا اسْمُ أَخيْكَ ؟تمہارے بھائی کا نام کیا ہے؟

اگر مضاف الیہ یائے متکلم ہو تو مضاف پر ہمیشہ ایک ہی حرکت رہے گی، جیسے:

يَدْرُسُ أَخِي بِالْجَامِعَةِ.:میرا بھائی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔

أَتَعْرِفُ أَخِي؟کیا تم میرے بھائی کو جانتے ہو؟

خُذِ العَنْوَانَ مِنْ أَخِي.: پتہ میرے بھائی سے حاصل کرلو۔

Link

المفصل

المفصل۔ سبق:

الإضافة

وإضافة الأسم للأسم على ضربين معنوية ولفظية. فالمعنوية ما أفاد تعريفاً كقولك دارعمرو، أو تخصيصاً كقولك غلام رجل ولا تخلو في الأمر العام من أن تكون بمعنى اللام كقولك مال زيد وأرضه وأبوه وابنه وسيده وعبده، أو بمعنى من كقولك خاتم فضة وسوار ذهب وباب ساج.

واللفظية أن تضاف الصفة إلى مفعولها في قولك هو ضارب يد وراكب فرس بمعنى ضارب زيداً وراكب فرساً؛ وإلى فاعلها كقولك زيد حسن الوجه ومعمور الدار، وهند جائلة الوشاح، بمعنى حسن وجهه ومعمورة داره وجائلوشاحهها. ولا تفيد إلا تخفيفاً في اللفظ والمعنى كما هو قبل الإضافة. ولاستواء الحالين وصف النكرة بهذه الصفة مضافة كما وصف بها مفصولة في قولك مررت برجل حسن الوجه وبرجل ضارب أخيه.

تجريد المضاف من التعريف:

وقضية الإضافة المعنوية ان يجرد لها المضاف من التعريف وما تقبله الكوفيون من قولهم الثلاثة الأثواب والخمسة الدراهم فبمعزل عند أصحابنا عن القياس واستعمال الفصحاء. قال الفرزدق:

فسما وأدرك خمسة الأشبار

وقال ذو الرمة:

ثلاث الأثافي والديار البلاقع

Read the rest (106)

وتقول في اللفظية مررت بزيد الحسن الوجه، وبهند الجائلة الوشاح، هما الضاربا زيد، وهم الضاربو زيد. قال الله تعالى : " والمقيمي الصلاة، ولا تقول الضارب زيد، لأنك لا تفيد فيه خفة بالإضافة كما أفدتها في المثنى والمجموع وقد أجازه الفراء. وأما الضارب الرجل فمشبه بالحسن الوجه.

المضاف إلى ضمير متصل:

وإذا كان المضاف إليه ضميراً متصلاً جاء ما فيه تنوين أو نون وما عدم واحداً منهما شرعاً في صحة الإضافة . لأنهم لما رقضوا يوجد فيه التنوين أو النون أن يجمعوا بينه وبين الضمير المتصل جعلوا ما لا يوجد فيه له تبعاً فقالوا الضاربك والضارباتك والضاربي بالضارباتي، كما قالوا لضارباك والضارباك والضاربوك والضاربي كما قال عبد الرحمن بن حسان

أيها الشائمي ليحسب مثلي إنما أنت في الضلال تهيم

وقوله هم

الأمرون الخير والفاعلونه

مما لا يعمل عليه.

الإضافة إلى غير ومثل وشبه

وكل اسم معرفة يتعرف به ما أضيف إليه إضافة معنوية، إلا أسماء توغلت في إبهامها فهي نكرات وإن أضيفت إلى المعارف، وهي نحو غير ومثل وشبه. ولذلك وصفت بها النكرات فقيل مررت برجل غيرك ومثلك وشبهك ودخل عليها رب قال:

یا رب مثلك في النساء غريرة

اللهم إلا إذا شهر المضاف بمغايرة المضاف إليه كقوله عز وجل: " غير المغضوب عليهم"، أو بمماثلته.

أنواع الأسماء المضافة:

والأسماء المضافة إضافة معنوية على ضربين لازمة للإضافة وغير لازمة لها. فاللازمة على ضربين ظروف وغير ظروف. فالظروف نحو فوق وتحت وأمام وقدام وخلف ووراء وتلقاء وتجاه وحذاء وعند ولدن ولدى وبين ووسط وسوى ومع ودون. وغير الظروف نحو مثل وشبه وغير وبيد وقيد وقداً وقاب وقيس وأي وبعض وكل وكلا وذو مؤنثة ومثناء ومجموعة وأولو وأولات وقد وقط وحسب.

وغير اللازمة نحو ثوب وفرس ودار وغيرها مما يضاف في حال دون حال.

حكم أي:

وأي اضافته إلى اثنين فصاعداً إذا أضيف إلى المعرفة كقولك أي الرجلين وأي الرجال. عندك، وأيهما وأيهم وأي من رأيت أفضل وأي الذين لقيت أكرم. وأما قولهم أبي وايك كان شراً فأخزاه الله، فكقولك اخزي الله الكاذب مني ومنك وهو بين وبينك والمعنى أينا ومنا وبيننا. قال العباس بن مردس:

فأبي ما وأيك كان شراً فقيد إلى المقامة لا يراها

واذا أضيف إلى النكرة أضيف إلى الواحد والإثنين والجماعة كقولك أي رجل وأي رجلين وأي رجال، ولا تقول أيا ضربت وبأي مررت إلا حيث جرى ذكر ما هو بعض منه كقوله عز وجل: "أياً ما تدعوا فله الأسماء الحسنى" ولا ستيجابه الإضافة عوضوا منها توسيط المقحم بينه وبين صفته في النداء.

حكم كلا:

وحق ما يضاف إليه كلا أن يكون معرفة ومثنى أو ما هو في معنى المثنى، كقوله:

فإن الله يعلمني ووهباً ويعلم أن سيلقاه كلانا

وقوله:

إن للخير وللشر مدى وكلا ذلك وجه وقبل

ونظيره "عوان" بين ذلك". ويجوز التفريق في الشعر كقولك كلا زيد وعمرو.

وحكمه إذا أضيف إلى الظاهر أن يجري مجرى عصا ورحا، تقول جاءني كلا الرجلين ورأيت كلا الرجلين، ومررت بكلا الرجلين. وإذا أضيف إلى المضمر أن يجري مجرى المثنى على ما ذكر.

ومن العرب من يقر آخره على الألف في الوجهين.

حكم إضافة أفعل التفضيل:

وأفعل التفضيل يضاف إلى نحو ما يضاف إليه أي تقول هو أفضل الرجلين وأفضل القوم، وتقول هو أفضل رجل وهما أفضل رجلين، وهم أفضل رجال، والمعنى في هذا إثبات الفضل على الرجال إذا فضلوا رجلاً رجلاً واثنين اثنين وجماعة جماعة. وله معنيان: أحدهما أن يراد أنه زائد على المضاف إليهم في الخصلة هو وهم فيها شركاء، والثاني أن يؤخذ مطلقاً له الزيادة فيها إطلاقاً ثم يضاف لا للتفضيل على المضاف إليهم لكن لمجرد التخصيص، كما يضاف ما لا تفضيل فيه وذلك نحو قولك الناقص والأشج أعدلا بني مروان، كأنك قلت عادلا بني مروان. فأنت على الأول يجوز لك توحيده في التثنية والجمع وأن لا تؤنثه قال الله تعالى : " ولتجدنهم أحرص الناس على حياة"، وعلى الثاني ليس لك إلا أن تثنيه وتجمعه تؤنثه وقد اجتمع الوجهان في قوله عليه السلام ألا أخبركم بأحبكم إلي وأقربكم مني مجالس يوم القيامة أحاسنكم أخلاقاً الموطون أكنافاً الذينب يألفون ويؤلفون ألا أخبركم بأبغضكم إلي وأبعدكم مني مجالس يوم القيامة أساوئكم أخلاقاً الثرثارون المتفيهقون ". وعلى الوجه الأول لا يجوز أن تقول يوسف أحسن أخوته، لأنك لما أضفت الأخوة إلى ضميره فقد أخرجته من جملتهم من قبل أن المضاف حقه أن يكون غير المضاف إليه ألا ترى أنك إذا قلت هؤلاء إخوة زيد في عداد المضافين إليه، وإذا خرج من جملتهم لم يجز إضافة أفعل الذي هو هو إليهم، لأن من شرطه إضافته إلى جملة هو بعضها. وعلى الوجه الثاني لا يمتنع ومنه قول من قال لنصيب أنت أشعر أهل جلدتك كأنه قال أنت شاعرهم:

إضافة الشيء إلى غيره:

ويضاف الشيء إلى غيره بأدنى ملابسة بينهما كقول أحد حاملي الخشبة لصاحبه خذ طرفك وقال:

إذا كوكب الخرقاء لاح بسحرة

أضاف الكوكب إليهم لجدها في عملها إذا طلع وقال:

إذا قال قدني قال بالله حلفة لتغني عني ذا إنائك أجمعا

الملابسة له في شربه وهو الساقي اللبن.

امتناع إضافة الشيء إلى نفسه:

والذي أبوه من إضافة الشيء إلى نفسه أن تأخذ الأسمين المعلقين على عين أو معنى واحد كالليث والأسد وزيد وأبي عبد الله والحبس والمنع ونظائر هن فتضيف أحدهما إلى الآخر فذلك بمكان من الإحالة. فأما نحو قولك جميع القوم وكل الدراهم وعين الشيء ونفسه فليس من ذلك.

عدم جواز إضافة الموصوف إلى صفته:

ولا يجوز إضافة الموصوف إلى صفته ولا الصفة إلى موصوفها وقالوا دار الآخرة وصلاة الأولى ومسجد الجامع وجانب الغربي وبقلة الحمقاء على تأويل دار الحياة الآخرة وصلاة الساعة الأولى ومسجد الوقت الجامع وجانب المكان الغربي وبقلة الحبة الحمقاء وقالوا عليه سحق عمامة وجرد قطيفة وأخلاق ثياب وهل عندك جانبة خبر ومغربة خبر على الذهاب بهذه الأوصاف مذهب خاتم وسوار وباب ومائة لكونها ومحتملة مثلها ليلخص أمرها بالإضافة كفعل النابغة في إجراء الطير على العائذات بياناً وتلخيصاً لا تقديماً للصفة على الموصوف حيث قال:

والمؤمن العائدات الطير يمسحها ركبان مكة بين الغيل والسند

إضافة المسمى إلى اسمه وقد أضيف المسمى إلى اسمه في نحو قولهم لقيته ذات مرة وذات ليلة ومررت به ذات يوم داره ذات اليمين وذات الشمال وسرنا ذات صباح قال أنس بن مدركة الخثعمي:

عزمت على إقامة ذي صباح لأمر ما يسود من يسود

وقال الكميت:

إليكم ذوي آل النبي تطلعت نوازع من قلبي ظماء وألبب

وقالوا في نحو قول لبيد:

إلى الحول ثم اسم السلام عليكما ومن يبك حولاً كاملاً فقد اعتذر

وفي قول ذي الرمة :

داع يناديه باسم الماء مبغوم

وقوله:

تداعين باسم الشيب في متعلم

أن المضاف يعنون الأسم مقحم خروجه ودخوله سواء وحكوا هذا حي زيد وأتيتك وحي فلان قائم وحي فلانة شاهد وأنشدوا:

يا قر إن إباك حي خويلد قد كنت خائفة على الإحماق

وعن الأخفش إنه سمع إعرابياً يقول في أبيات قالهن حي رباح بإقحام حي والمعنى هذا زيد وإن أباك خويلداً وقالهن رباح ومنه قول الشماخ

و نفيت عنه مقام الذئب

أي الذئب .

إضافة أسماء الزمان والمكان:

وتضاف أسماء الزمان إلى الفعل قال الله تعالى : " هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم، وتقول جئتك إذ جاء زيد، و آتيك : إذا احمر البسر، وما رأيتك منذ دخل الشتاء ومذ قدم الأمير. وقال:

حنت نوار ولات هنا حنت

وتضاف إلى الجملة الإبتدائية أيضاً كقولك أتيتك زمن الحجاج أمير، وإذ الخليفة عبد الملك. وقد أضيف المكان إليهما في قولهم اجلس حيث جلس زيد وحيث زيد جالس.

ومما يضاف إلى الفعل آية لقرب معناها من معنى الوقت قال:

بآية يقدمون الخيل شعثاً كان على سنابكها مداما

وقال آخر:

ألا من مبلغ عني تميماً بآية ما يحبون الطعاما

وذو في قولهم اذهب بذي تسلم واذهبا بذي تسلمان واذهبوا بذي تسلمون أي بذي سلامتك والمعنى بالأمر الذي يسلمك .

الفصل بين المضاف والمضاف إليه:

ويجوز الفصل بين المضاف والمضاف إليه بالظرف في الشعر من ذلك قول عمرو بن قميئة:

لله در اليوم من لامها

وقول درنا:

هما أخوا في الحرب من لا أخا له

وأما قول الفرزدق:

بين ذراعي وجبهة الأسد

وقول الأعشى:

إلا علالة أو بداهة سابح

فعلى حذف المضاف إليه من الأول استغناء عنه بالثاني وما يقع في بعض نسخ الكتاب من قوله:

فزججتها بمزجة زج القلوص أبي مزاده

فسيبويه برئ من عهدته.

حذف المضاف

وإذا امنوا الألباس حذفوا المضاف وأقاموا المضاف إليه مقامه وأعربوه بإعرابه والعلم فيه قوله تعالى:" واسأل القرية" لأنه لا يلبس أن المسؤول أهلها لا هي. ولا يقولون رأيت هندا يعنون رأيت غلام هند. وقد جاء الملبس في الشعر قال ذو الرمة:

عشية فر الحارثيون بعد ما قضى نحبه في ملتقى القوم هوبر

وقال:

بما أعي النطاسي حديما

أي ابن هوبر وابن حذيم. وكما أعطوا هذا الثابت حق المحذوف في الإعراب فقد أعطوه حقه في غيره قال حسان:

يسقون من ورد البريص عليهم بردى يصفق بالرحيق السلسل

فذكر الضمير في يصفق حيث أراد ماء بردي وقد جاء قوله عز وجل: " وكم من قرية أهلكناها فجاءها بأسنا بياتاً أو هم قائلون" . على ما للثابت والمحذوف جميعا.

وقد حذف المضاف وترك المضاف إليه في إعرابه في قولهم ما كل سواء ثمرة ولا بيضاء شحمة. قال سيبويه كأنك أظهرت كل فقلت ولا كل بيضاء قال أبو دؤاد:

أكل امرئ تحسبين امرأ ونار توقد بالليل نارا

ويقولون ما مثل عبد الله يقول ذلك ولا أخيه. ومثله ما مثل أخيك ولا أبيك يقولان ذاك. وهو في الشذوذ إضمار الجار.

حذف المضاف إليه:

وقد حذف المضاف إليه في قولهم كان ذلك إذ وحينئذ، ومررت بكل قائماً. وقال الله تعالى: " وكلاً آتينا حكماً وعلماً" وقال تعالى: " ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات، وقال: "لله الأمر من قبل ومن بعد"، وفعلته أول يريدون إذ كان كذا وكلهم وبعضهم وقبل كل شيء وبعده وأول كل شيء.

حذف الإثنين:

وقد جاء المحذوفين معاً في نحو قول أبي دؤاد يصف البرق:

أسال البحار فانتحى للعقيق

وقول الأسود:

وقد جعلتني من حزيمة إصبعا

قال الفسوي أي أسال سقيا سحابه وذا مسافة إصبع.

حكم المضاف إلى ياء المتكلم:

وما أضيف إلى ياء المتكلم فحكمه الكسر نحو قولك في الصحيح والجاري مجراه غلامي ودلوي، إلا إذا كان آخره ألفاً أو ياء متحركاً ما قبلها أو واواً أما الألف فلا يتغير إلا في لغة هذيل في نحو قوله:

سبقوا هوي وأعنقوا الهواهم

وفي حديث طلحة رضي الله عنه: فوضعوا اللج على قفي، يجعلونها إذا لم يكن التثنية ياء، و يدغمونها. وقالوا جميعاً لدي ولديه كما قالوا علي وعليه وعليك. وياء الإضافة مفتوحة إلا ماجاء عن نافع محياي ومماتي وهو غريب. وأما الياء فلا تخلو من أن ينفتح ما قبلها كياء التثنية وياء الأشقين والمصطفين والمرامين والمعلين أو ينكسر كياء الجمع. والواو لا تخلو من أن ينفتح ما قبلها کالأشقون و أخواتہ أو یضم کالمسلمون والمصطوفون۔ فما انفتح ما قبلہ من ذلك فمدغم في ياء المتكلم ياء ساكنة بين مفتوحين، وما انكسر ما قبله من ذلك أو انضم فمدغم فيها ياء ساكنة بين مكسور مفتوح.

والأسماء الستة متى أضيفت إلى ظاهر أو مضمر ما خلا الياء، فحكمها ما ذكرنا. فأما إذا أضيفت إلى الياء فحكمها حكمها غير مضافة، أي تحذف الأواخر، إلا ذو فإنه لا يضاف إلا إلى أسماء الأجناس الظاهرة وفي شعر كعب:

صبحنا الخزرجية مرهفات آبار ذوي أرومتها ذووها

وھو شاذ

وللفم مجريان أحدهما مجرى اخواته وهو أن يقال فمي والفصيح فيَّ في الأحوال الثلاث. وقد أجاز المبرد أبيّ وأخيّ وأنشد:

وأبي مالك ذو المجاز بدار

وصحة محمله على الجمع في قوله:

وفديننا بالابينا

تدفع ذلك

Link