تمرین الصرف
تمرین الصرف ۔ سبق:۱
اسم: وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی خود بتائے اور اپنے معنی بتانے میں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو اور تینوں زمانوں (حال ، ماضی ، مستقبل ) میں سے کو ئی زمانہ اس میں نہ پایا جائے۔
مثال: قَلَمٌ ، حَامِدٌ ، مَسْجِدٌ ، أنَا
اسم
4 passages
تمرین الصرف ۔ سبق:۱
اسم: وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی خود بتائے اور اپنے معنی بتانے میں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو اور تینوں زمانوں (حال ، ماضی ، مستقبل ) میں سے کو ئی زمانہ اس میں نہ پایا جائے۔
مثال: قَلَمٌ ، حَامِدٌ ، مَسْجِدٌ ، أنَا
معلم الانشاء (جلد:۱)
اسم اُس کلمہ کو کہتے ہیں جس سے کسی آدمی یا جانور یا جگہ یا چیز یا کسی کا نام سمجھ میں آئے اور اس کے اندر ماضی، حال اور مستقبل میں سے کوئی زمانہ نہ پایا جائے۔
مثال: خَالِدٌ - القرآنُ - الفرسُ - لكھنو - الشجرُ - الاِبريقُ - القرأةُ - الجَرىُ وغيره
النحو الواضح (ابتدائیۃ جلد:۱) سبق:۲
الاسم : فالاسمُ: كلُّ لفظٍ سُمِّيَ به إنسانٌ أو حيوانٌ أو نباتٌ أو جمادٌ أو أيُّ شيءٍ آخر.
نحو: ركب ابراهيمُ الحصانَ ، يُداعب اسماعيلُ القِطَّ
ترجمہ: اسم وہ لفظ ہے جو انسان ، حيوان ، نبات، جماد یا کسی دوسری چیز کا نام ہو۔
تیسیر النحو۔ سبق:۱
الاسم هو كل كلمة تدل بنفسها على معنى (أي على انسان، أو حيوان، أو نبات، أو جماد، أو مكان أو زمان، أو صفة، أو حدث) ولا تقترن وضعا بزمن من الأزمنة الثلاثة
مثل: رجلٌ، أسدٌ، زهرةٌ، حائطٌ، مكةُ، شهرٌ، نظيفٌ.
ترجمہ: "اسم ہر وہ لفظ ہے جو اپنے آپ میں ایک معنی ظاہر کرتا ہے (یعنی انسان، جانور، نباتات، جمادات، جگہ، وقت، صفت یا واقعہ) اور وضعاً تینوں زمانوں میں سے کسی بھی وقت کے ساتھ مربوط نہیں ہوتا۔"