الصرف
تثنیہ و جمع کا بیان
الدروس مكتوبة باللغة الأردية.
1 تثنیہ و جمع کا بیان
(کتاب الصرف : سبق ۷۰)
افراد کے اعتبار سے اسم کی تین قسمیں ہیں۔
۱۔واحد:جو ایک پر دلالت کرے۔جیسے رَجُلٌ،إِمْرَأَۃٌ
۲۔تثنیہ:جو دو پر دلالت کرے یہ صیغہ واحد کے آخر میں الف ماقبل مفتوح اور نون مکسور زیادہ کرنے سے بنتاہے جیسے رَجُلَانِ، إِمْرَأَتَانِ
واحد کے آخر میں الف ہوتو مفصلہ ذیل تغیرات ہوتے ہیں۔
الف:اگر الف مقصورۃ ہو اور سہ حرفی میں ’’و کا بدل ہوتو ’’و‘‘ ہوجاتاہے جیسے عصا اسے عصوان اور ’’ی‘‘ کا بدل ہو تو ی ہوجاتا ہے۔جیسے فتی سے فتیان،اور غیرسہ حرفی میں عمومًا ی ہوجاتاہے خواہ و یا ی کا بدل ہو جیسے مصطفیٰ(مادہ صفْوٌ)سے مصطفیان اور مجتبیٰ سے مجتبیان، خواہ علامت تانیث ہو جیسے حبلٰی سے حُبْلَیَانِ
ب۔اگر الف ممدودہ ہو اور اصلی ہوتو ہمزہ قائم رہتاہے جیسے قُرَّاءٌ سے قُرَّاءَانِ اور اگر اصلی نہ ہو اور علامت تانیث ہوتو ہمزہ کا ’’و‘‘ سے بدلنا واجب ہے جیسے حَمْرَاءُ سے حمراوانِ ورنہ جائز ہے جیسے کساء سے کساوانِ اور کِساأ نِ۔
۳۔جمع وہ ہے جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اسکی دو قسمیں ہیں۔
اول جمع سالم :جس میں واحد کی بنا قائم رہتی ہے۔ صرف اس کے آخری میں و ساکن ماقبل مضموم اور نون مفتوح (و،ن)زیادہ کرنے سے جمع مذکر سالم بن جاتی ہے جیسے مُسلِمٌ سے مُسْلِمُونَ اور ا،ت لگانےسے جمع مؤنث جیسے ھِنْدٌ سے ھِنْدَاتٌ اگر واحد کے آخر میں ’’ۃ‘‘ تانیث کی ہو،تو گر جاتی ہے جیسے مُسْلِمَۃٌ سے مُسْلِمَاتٌ
تنبیہ:جمع سالم بنانے کے وقت امورذیل کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
۱۔اگر علم مذکر عاقل یا صفت مذکر عاقل کی ہو تو جمع و ،ن سے آئے گی جیسے زیدٌ سے زیدونَ ، قاتلٌ سے قاَتِلونَ
۲ ۔ اگر علم مونث عاقل یا صفت مونث عاقل یا صفت غیر عاقل کی ہوتو جمع (ا،ت) سے آئیگی۔جیسے ھِنْدٌ،ھِنْدَاتٌ قَاتِلَۃٌ سے قَاتِلَاتٌ اور صَافِنٌ (عمدہ گھوڑا)صَافِناتٌ۔
ان دونوں شرائط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جمع مذکر سالم صرف ذوی العقول کے علم یا صفت کی ہو تی ہے غیر علم یا صفت غیر ذوی العقول کی نہیں ہوتی
پس رَجُلٌ کی جمع رَجُلُونَ اور ناھقٌ کی جمع ناھِقُونَ نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ پہلا کلمہ صفت نہیں اور دوسرا صفت توہے مگر غیر عاقل کی ہے اَرْضٌ سَنَۃٌ کی جمع اَرضُونَ سِنُونَ خلاف قیاس آئی ہے۔
دوم:جمع مکسر جس میں واحد کی بنا(وزن)ٹوٹ جائے
اسکی دو قسمیں ہیں
ایک جمع قلت: جس کا اطلاق تین سے دس تک ہوتاہے
دوسری جمع کثرت: جس کا اطلاق دس سے زیاہ پر ہوتاہے
جمع قلت کے چار وزن ہیں اور کثرت کے اوزان بے شمار اور زیادہ تر سماع پر منحصرہیں، مشہور اوزان نقشہ ذیل میں درج کئے جاتےہیں۔
خود کا جائزہ لیں
2 جمع قلت کے اوزان (کتاب الصرف : سبق ۷۱ ، ۷۲)
خود کا جائزہ لیں
3 جمع کثرت کے اوزان
خود کا جائزہ لیں
4 منتھی الجموع کے اوزان
تنبیہ
تنبیہ:جو اسم رباعی یا اسکا ہم وزن ہو اسکی جمع قیاسًا اوزان نمبر 11کے مطابق آئیگی جیسے جَعْفَرُ(نام)جَعَافِرُ إصبع جمع اصَابعُ اگر آخر میں ۃ ہوتو گرجائیگی جیسے تجربۃ جمع تجارب اگر آخر حرف سے پہلے مدہ زائدہ ہوتو ی ما قبل مکسور سے بدل کر اس کی جمع وزن نمبر۲ کی صورت میں ہوگی جیسے قِرْطَاسِ (کاغذ)قَرَاطِیسُ سلطان(بادشاہ) سلاطین،اقلیم ولایت اقالیم جو اسم خماسی ہو اسکا اخیر حرف گراکر اوزان نمبر ۱ کے مطابق جمع بناؤ جیسے سفرجل(بہی)سفارج اگر اخیر حرف سے پہلے مدہ زائدہ ہوتو اسکو بھی گرادو جیسے عندلیب( بلبل)،عنادلُ جمع۔
جمع کے متعلق چند فوائد :
۱ ۔کبھی جمع کے حرف اور ہوتے ہیں اور واحد کے اور اسکو اصطلاح میں جمع من غیر لفظ کہتےہیں جیسے إِمْرأۃٌ کی جمع نساءٌ اور ذو کی جمع اولوا۔
۲ ۔ کبھی مفرد اور جمع کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہوتاہے،جیسے اُمٌّ(ماں)اُمَّھَاتٌ،فَمٌ(منہ)افواۃٌ،ماءٌ(پانی)جمع میاۃ۔
۳۔ کبھی واحد اور جمع میں کچھ فرق نہیں ہوتا،صرف اعتباری فرق ہوتاہے جیسے فلکٌ(کشتی وکشتاں)
۴ ۔کبھی جمع کی جمع کی جاتی ہے اور اسکو جمع الجمع کہتے ہیں جیسے کلبٌ(کتا)اکلبُ اکالبُ حمارٌ(گدھا)حُمْرٌ حُمُرَاتٌ
نِعْمَۃٌ(نعمت)انعم،اناعم بیتٌ(گھر)بیوتٌ بیوتاتٌ
۵ ۔ بعض الفاظ ایسے ہیں کہ ۃ کے ساتھ واحد پر اوار بدون ت کے جنس پر اور کبھی ۃ کے ساتھ جنس پر اور بدون ۃ کے واحد پر دلالت کرےہیں ان کو اسم جنس کہتے ہیں جیسے شجرۃٌ (درخت)شَجَرٌ(درختہا)کمأٌ(کھنبیان) تمرۃ(کھجور)تَمْرٌ(کھجوریں)جبأٌ(ایک قسم کی گھاس) جَبََّۃٌ(بہت ہی گھاس)
بعض الفاظ ایسے ہیں ہیں کہ ان میں جمعیت کے معنٰی پائے جاتے ہیں اور ان کا واحد نہیں ہوتا جیسے قَومٌ گروہ رَھَطٌ(جتھا)یا واحد ہوتاہے،مگر اسکا وزن جمع کے اوزان سے خارج ہوتاہے جیسے راکبٌ(سوار)رَکْبٌ(سواران)رَفِیْقٌ(ہمراہی) رُفْقَۃٌ(ہمراہیں)خادم (خدمتگار) خَدَمٌ(خدمتگاران)صاحب(مصاحب)صحَابۃ(مصاحبان)ایسے اسماء کو اسم جمع کہتےہیں۔
خود کا جائزہ لیں