كل المواضيع

جملہ

جملہ اسمیہ دیگر کتب میں

4 نصًا

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱۰

كلُّ جُملةٍ تَتَرَكَّبُ من مُبتدَأٍ وخَبَرٍ تُسَمَّى جُملةً اسميَّةً.

ہر وہ جملہ جو مبتداء اور خبر سے مرکب ہو جملہ اسمیہ کہلاتا ہے۔

الامثلة

  1. الدَّارُ وَاسِعَةٌ
  2. الجَوُّ مُعْتَدِلٌ
  3. الغُبَارُ ثَائِرٌ
  4. الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ
  5. الطَّرِيقُ ضَيِّقَةٌ
  6. الفَأْرَةُ مُخْتَبِئَةٌ

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۶

جملہ اسمیہ: جیسے: الْوَلَدُ قَائِمٌ (لڑکا کھڑا ہے) یا الوَلَدُ يَقُومُ (لڑکا کھڑا ہوتا ہے) فَاطِمَةٌ جَالِسَةٌ ( فاطمہ بیٹھی ہے ) یا فَاطِمَةُ تَجْلِسُ (فاطمہ بیٹھتی ہے) یہ سب جملہ اسمیہ ہمیں کیونکہ ان کا پہلا جز اسم ہے۔ جملہ اسمیہ: مبتداء و خبر کہلاتا ہے اس کے پہلے جز کو مبتداء اور دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں الْوَلَدُ قَائِم میں الولد مبتدا اور قائم خبر ہے اور اسی طرح الْوَلَدُ يَقُومُ میں الْوَلَدُ . مبتداء اور یقوم اس کی خبر ہے۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۱

جملہ اسمیہ ، ایسا جملہ جو اسم سے شروع ہوتا ہے۔ جیسے الْكِتَابُ سَهْل. (کتاب آسان ہے) ایسے جملوں میں پہلے جزء کو مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق: ۱۰

عربی میں جملوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ،

جملہ اسمیہ اسم سے شروع ہوتا ہے، جیسے: اَلْبَيْتُ جَمِيلٌ گھر خوبصورت ہے ۔

اور جملہ فعلیہ فعل سے شروع ہوتا ہے، جیسے: دَخَلَ الْمُدَرِّسُ استاذ داخل ہوئے۔

ان دونوں کی کچھ مزید تفصیلات یہ ہیں:

جملہ اسمیہ کی ابتدا میں ذیل میں سے کوئی کلمہ ہو گا :

ا۔ اسم یا ضمیر ، جیسے: هَذِهِ مَدْرَسَةٌ، أَنَا مُجْتَهِدٌ، اللَّهُ غَفُوْرٌ.

۲۔ مصدر مؤول ( اَنۡ اور مضارع سے بنی ہوئی ترکیب جو مصدر کی طرح عمل کرے) جیسے :وَأنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَكُمْ.تم روزہ رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔

۳۔ حروف مشبه بالفعل، جیسے: إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ.بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔