كل المواضيع

اعراب و بناء کے اعتبار سے

معرب و مبنی کی تعریف دیگر کتب میں

3 نصًا

النحو الواضح (ثانویہ)

النحو الواضح (ثانویۃ) (جلد:۲) سبق:۱،۲

المبنی مِنَ الْأَفعال: افعال جو مبنی ہوتے ہیں

الْمَبْنِيُّ مِنَ الْأَفْعَالِ هُوَ الْمَاضِي وَالْآمُرُ وَالْمُضَارِعُ الْمُتَّصِلُ بِنُونِ التَّوْكِيدِ أَوْ نُونِ الْإِنَاثِ.

الْمَاضِي يُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَ بِضَمِيْرِ رَفَعٍ مُتَحَرِّک وَعَلَى الضَّمُ إِذَا اتَّصَلَ بِوَاوِ الْجَمَاعَةِ وَعَلَى الْفَتْحِ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ .

اَلْأمْرُ يُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا كَانَ صَحِيحَ الْآخِرِ وَلَمْ يَتَّصِلْ بِهِ شَيْءٌ أَوِ اتصَلَتْ بِهِ نُونُ النِّسْوَةِ ، وَعَلَى الْفَتْحِ إِذَا اتصَلَتْ بِهِ نُونُ التَّوْكِيدِ ثَقِيلَةً أَوْ خَفِيفَةً وَعَلَى حَذْفِ حَرْفِ الْعِلَّةٍ إِنْ كَانَ مُعْتَلَّ الآخِرِ، وَعَلَى حَذَفِ النُّونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ أَلِفَ اثنيْنِ أَو وَاوُ جَمَاعَةٍ أَوْ يَاء مُخَاطَبَةٍ.

الْمُضَارِعُ يُبنى عَلَى الْفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ نُونُ التَّوْكِيدِ ثَقِيْلَةً أَوْ خَفِيفَةٌ وَعَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ نُونُ النِّسْوَةِ.

افعال میں سے مبنی ماضی ، امر حاضر اور مضارع ہے جبکہ نون تاکید اور نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو۔

ماضی مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ ضمیر مرفوع متحرک اس کے ساتھ متصل ہو اور مبنی علی الضم ہوتا ہے جبکہ واو جمع متصل ہو، اور مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ ان دو صورتوں کے علاوہ ہو۔

اقرأ البقية (37)

امر مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ وہ صحیح الآخر ہو اور اس کے ساتھ کوئی چیز متصل نہ ہو یا اس کے ساتھ نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو، اور مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ نون تاکید ثقیله یا خفیفہ متصل ہو اور حرف علت کو حذف کر دیا جاتا ہے اگر اس کا آخر معتل ہو۔ اور نون کو حذف کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ الف تثنیہ متصل ہو یا واؤ جمع ہو یا یائے مخاطب ہو۔

مضارع مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ نون تاکید ثقیله یا خفیفہ متصل ہو اور مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو ۔

الأمثلة

(۱)

ركبتُ الْفَرَسَ

التُّجَارُرَبِحُوْا

حَضَرَ الغَائِبُ

(۲)

أطِعْ أبَاکَ

طَرِّزْنَ الثِّيَابَ

أُترُ كَنَّ الْجِدَالَ

أفْشِ السَّلَام

أوْفُوْا بِالعَهْدِ

(۳)

لأَنْصُرَنَّ الْمَظْلُوم

لَأجِیْدَنَّ عَمَلِىْ

اَلْبَنَاتُ یَأكُلْنَ

الْمُعْرَبُ مِنَ الْأَفْعَالِ: افعال جو معرب ہوتے ہیں

الْمُعْرَبُ مِنَ الْأَفْعَالِ هُوَ الْمُضَارِعُ الَّذِي لَمْ تَتَّصِلۡ بِآخِرِهِ نُونُ التوكيدِ او نُونُ الْإِنَاثِ.

يُرْفَعُ الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ بِالضّمَّةِ وَ تَنُوُبُ عَنْهَا النُّوْنُ فِي الْأَفْعَالِ الخَمْسَةِ ، وَيُنصَبُ بِالْفَتحَةِ وَيَنوُبُ عَنْهَا حَذَفَ النُّونِ فِي الْأَفْعَالِ الخمسَةِ وَيُجزمُ بالسكون وَ یَنُوۡبُ عَنْهُ حَذۡفُ حَرْفِ الْعِلْةِ فِي الأفعَالِ المُعتَلَةِ الآخِرِ، وَحَذۡفِ النُّونِ فِي الْأَفْعَالِ الْخَمْسَةِ.

افعال میں سے معرب وہ مضارع ہے کہ جس کے آخر میں نون تا کید اور نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل نہ ہو۔

فعل مضارع کو رفع دیا جاتا ہے ضمہ کے ذریعہ اور نون کو افعال خمسة میں اس کا قائم مقام بنایا جاتا ہے اور نصب دیا جاتا ہے فتحہ کے ساتھ اورافعال خمسه میں نون کو حذف کر دیا جاتا ہے ، اور جزم سکون کے ساتھ دیا جاتا ہے اور حرف علت کو افعال معتل کے آخر میں اس کے قائم مقام حذف کر دیا جاتا ہے اور افعال خمسہ میں نون کو حذف کر دیا جاتا ہے۔

الأمثلة

(۱)تُشْرِقُ الشَّمْسُ

الْقُضَاةُ يَعْدِلُونَ

(۲)لَنْ يُفْلِحَ الكَسلانُ

الْحُسَادُ لَنْ يَسُودُوا

(۳)لا تنهر سائلاً

لَا تَسۡمَعۡ إِلَّا فِي الْخَيْرِ

لا تُقصِّرُوا في أعۡمَالِكُم

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۵،۶،۷

أحوال بناء الفعل الماضى: فعل ماضی کے مبنی ہونے کی حالتیں

الفِعْلُ المَاضِي يُبْنَى عَلَى الفَتْحِ، إِلَّا إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "وَاوُ الجَمَاعَةِ" فَيُبْنَى عَلَى الضَّمِّ، أَوِ اتَّصَلَتْ بِهِ "التَّاءُ المُتَحَرِّكَةُ" أَوْ "نُونُ النِّسْوَةِ" أَوْ "نَا الدَّالَّةُ عَلَى الفَاعِلِ"، فَيُبْنَى عَلَى السُّكُونِ.

فعل ماضی فتحہ پر مبنی ہوتا ہے مگر جب اس کے ساتھ واؤ جمع (مذکر) آ جائے تو پھر ضمہ پر مبنی ہوتا ہے اور جب اس کے آخر میں تاء متحرکہ یا نون نسوۃ (جمع مؤنث) یا ’نا‘ علامت فاعل آ جائے تو سکون پر مبنی ہو جاتا ہے۔

الأمثلة :

اشْتَدَّ الْبَرْدُ

ثَارَ الْغُبَارُ

نَزَلَ الْمَطَرُ

اقرأ البقية (77)

الْأَوْلَادُ لَعِبُوا

الرِّجَالُ سَافَرُوا .

الْعُمَّالُ تَعِبُوا

فَتَحْتُ الْبَابَ

تَلَقَّفْتُ الْكُرَةَ

أَخَذْتُ جَائِزَةً .

صَدَقْتَ فِي قَوْلِكَ

عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ .

أَحْسَنْتَ إِلَى النَّاسِ.

الْبَنَاتُ تَعَلَّمْنَ الْحِيَاكَةَ

الْأُمَّهَاتِ أَطْعَمْنَ أَوْلَادَهُنَّ -

الْفَتَيَاتُ رَتَّبْنَ الْمَائِدَةَ

خَرَجْنَا إِلَى الْحُقُولِ .

اِسْتَنْشَقْنَا الْهَوَاءَ النَّقِيَ.

قَطَفْنَا الْأَرْهَارَ .

أحوال بناء الأمر: فعل امر کے مبنی ہونے کی حالتیں

يُبْنَى فِعْلُ الأَمْرِ عَلَى السُّكُونِ إِذَا كَانَ صَحِيحَ الآخِرِ وَلَمْ يَتَّصِلْ بِهِ شَيْءٌ، وَكَذَلِكَ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ النِّسْوَةِ".

وَيُبْنَى عَلَى الفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ التَّوْكِيدِ".

وَيُبْنَى عَلَى حَذْفِ حَرْفِ العِلَّةِ إِذَا كَانَ مُعْتَلَّ الآخِرِ.

وَيُبْنَى عَلَى حَذْفِ النُّونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "أَلِفُ الِاثْنَيْنِ" أَوْ "وَاوُ الجَمَاعَةِ" أَوْ "يَاءُ المُخَاطَبَةِ".

فعل امر اگر صحیح الاخر ہو اور اس کے ساتھ کوئی چیز (زائد حرف) متصل نہ ہو تو مبنی علی السکون ہوتا ہے اور اسی طرح جب اس کے ساتھ نون جمع مؤنث ملا ہوا ہو تو بھی مبنی علی السکون ہوتا ہے

اور جب فعل امر کے آخر میں نون تاکید ثقیلہ یا خفیفہ آیا ہو تو مبنی علی الفتح ہوتا ہے۔

اور اگر امر معتل الاخر ہو تو حرف علت حذف ہو جائے گا اور یہی حذف ہونا اس کے مبنی ہونے کی علامت ہے۔ اور اگر فعل امر کے ساتھ الف تثنیه یا واو جمع یا یاء مخاطب (واحد مؤنث) متصل ہو تو اس صورت میں نون کا حذف ہونا ہی امر کے مبنی ہونے کی علامت سمجھی جائے گی۔

الأمثلة :

نَظِفّۡ أَسْنَانَكَ بَعْدَ الأكل

تَمَهَّلْ فِي سَيْرِكَ

اسْتَمِعْ نُصْحَ الطَّبيبِ

اسْتَيْقِظْنَ مُبَكِّرَاتِ

أَجِدْنَ طَبْخَ الطَّعَامِ .

هَذَّبْنَ أَوْلَادَكُن .

تَجَنَّبَنَّ الْمِزَاحَ الكَثِيرَ.

عَاشِرَنَّ إِخْوَانَكَ بِالْمَعْرُوف

أُخْرُ جَنَّ إِلَى الْحُقُول

احْفَظَنْ عَهْدَ الصَّدِيقِ

أَحْسِنَنْ إِلَى النَّاسِ.

أَوْقِدَنْ مَصْبَاحَكِ .

أَلقِ الشَّبَكَةِ يَا صَيَاهُ .

ادْعُ الطَّبيبَ

تَحَرَّ الصَّدْقَ فِيمَا تَقُولُ

افْتَحَا نَوَافِذَ الْحُجْرَةِ

أَكْرِ مَا ضُيُوفَكُمَا

اهْزُزًا شَجَرَةَ النَّبْقِ .

أَخْرُجُوا إِلَى الْحُقُولِ .

رَتِّبِي أَثَاثَ الحُجْرَةِ

أَغْلِقِي بَابَ الدَّارِ .

اجْمَعُوا ثَمَرَ الْبُسْتَانِ

اِسْتَحِمُوا فِي النَّهْرِ .

احْفَظِي دَرْسَكِ :

أحوال بناء المضارع: فعل مضارع کے مبنی ہونے کی حالتیں

يُبْنَى الفِعْلُ المُضَارِعُ عَلَى الفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ التَّوْكِيدِ"، وَيُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ النِّسْوَةِ"، وَيُعْرَبُ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ.

فعل مضارع کے ساتھ نون تاکید مل کر آئے (متصل ہو جائے) تو وہ مبنی علی الفتح ہو گا اور اگر اس کے ساتھ نون مل کر آئے (نون جمع مؤنث کا اتصال ہو جائے) تو مبنی علی السکون ہو گا۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ مضارع معرب رہتا ہے۔

الأمثلة :

لأَسْتَمِعَنَّ النَّصِيحَةَ

لَيَذْهَبَنَّ الْغِلْمَانُ .

أَلَا تَسْتَرِيحَنْ يَا سَعِيدُ .

أَلَا تَرْحَمَنْ هَذَا الْمِسْكِينَ

الطَّالِبَاتُ يَسْتَمِعْنَ النَّصِيحَةَ

النِّسَاءُ يَذْهَبْنَ

أَلا تَسْتَرِحْنَ يَا فَتَيَاتُ .

أَلَا تَرْحَمْنَ هَذَا الْمِسْكِينَ

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد:۳) سبق :۱

عربی میں فعل کی تین صورتیں ہوتی ہیں، ماضی، مضارع اور امر۔ ماضی اور امر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ مبنی ہیں لیکن مضارع معرب ہے اس لئے جملہ میں اس کی حیثیتوں کے لحاظ سے اس کے آخر میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، جس طرح اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں اسی طرح مضارع کی بھی تین حالتیں ہوتی ہیں، جو یہ ہیں: مرفوع، منصوب اور مجزوم.

جب مضارع کے ساتھ جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث مخاطب پر دلالت کرنے والی ضمیر ( نون نسوة ) ہو تو وہ مبنی ہوگا، اس کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جیسے:

الْأَخَوَاتُ يَكْتُبْنَ.: بہنیں لکھ رہی ہیں ۔

مَاذَا تَكْتُبْنَ يَا أَخَوَاتُ؟ بہنو، آپ کیا لکھ رہی ہیں؟

دیگر چار صیغے مرفوع ہونے کی صورت میں ”مضموم“، منصوب ہونے کی صورت میں ”مفتوح“ اور مجزوم ہونے کی صورت میں ساکن ہوں گے۔

مرفوع کی مثالیں: نَكْتُبُ،أکتبُ،تكتبُ،يَكْتُبُ

منصوب کی مثالیں : لَنْ نَكْتُبَ ،لَنْ أَكْتُبَ ، لَنْ تَكْتُبَ ، لَنْ يَكْتُبَ

مجزوم کی مثالیں : لَمْ نَكْتُبْ ، لَمْ أَكْتُبْ، لَمْ تَكْتُبْ، لَمْ يَكْتُبْ

اقرأ البقية (24)

یہ تینوں ( ضمہ، فتحہ اور سکون) اصلی علامتیں ہیں، کچھ ثانوی (فرعی) علامتیں بھی ہیں جو مندرجہ ذیل صورتوں میں استعمال ہوتی ہیں:

۱۔ فعل کے ان پانچ صیغوں میں جنہیں" افعال خمسہ" کہا جاتا ہے، مرفوع ہونے کی صورت میں نون باقی رہے گا جب کہ منصوب اور مجزوم ہونے کی صورت میں حذف ہو جائے گا۔

مرفوع کی مثالیں : تَكْتُبيْنَ، تَكْتُبُونَ،تَكْتَبَان، يَكْتُبُوْنَ ، يكتبان

منصوب کی مثالیں: لَنْ تَكْتبى،لَنْ تَكْتُبُوا، لَنْ تَكْتُبَا ، لَن يَكْتُبُوا، لَنْ يَكْتُبَا

مجزوم مثالیں: لَمْ تَكْتُبیۡ، لَمْ تَكْتُبُوا ، لَمْ تَکُتبَا، لَمْ يَكْتُبُوْا، لَمْ يَكْتُبَا

۔۲ فعل ناقص سے مجزوم ہونے کی صورت میں تیسرا حرف اصلی جو کہ حرف علت ہے گر جاتا ہے صوتی لحاظ سے یہ تبدیلی ہوتی ہے کہ مد کی صورت میں جو آواز لمبی ہو جاتی ہے وہ مختصر ہو جائے گی، جیسے:

يَتْلُوسے لَمْ يَتْلُ.

يَبْكِي سے لَمْ يَبْكِ.

يَنْسَى سے لَمْ يَنْسَ.

اعراب تقدیری

فعل ناقص میں مندرجہ ذیل علامتیں مقدر ( پوشیدہ ) ہوتی ہیں، جیسے:

(۱) مرفوع ہونے کی علامت ضمہ ان تمام افعال میں جن کے آخر میں ”الف“، ”ياء“ یا ”واو" ہو:

أَمْشِي میں چل رہا ہوں، اتلو میں تلاوت کر رہا ہوں، انسی میں بھول رہا ہوں

ان کی اصلی صورت یہ ہے: أَمْشِيُ أَتْلُوُ أَنْسَيُ.

(۲) نصب کی علامت فتحہ ان افعال میں جو الف پرختم ہوتے ہیں، جیسے:

أُريد أن أنسى: میں بھولنا چاہتا ہوں

لیکن جو افعال ی یا و پرختم ہوتے ہیں ان میں فتحہ ظاہر ہوگا، جیسے:

أرِيْدُ أَنْ أَمْشِيَ. : میں چلنا چاہتا ہوں۔

أُرِيدُ أَنْ أَتْلُوَ.: میں تلاوت کرنا چاہتا ہوں۔

۳) جزم کی علامت سکون مضعف افعال میں محذوف ہوتی ہیں، جیسے:

لَم أَحُجَّ.: میں نے حج نہیں کیا۔

یہاں پر لَم داخل ہونے کی وجہ سے ضمہ حذف ہو گیا تو لم احج باقی رہا، التقاء الساكنین سے بچنے کے لئے ایک فتحہ بڑھا دیا گیا تو لم أحجَّ ہو گیا