كل المواضيع

مرفوع اسماء

حروف مشبہ بالفعل دیگر کتب میں

9 نصًا

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۵

اِنّ و أخواتھا(ان اور اس کے اخوات )

إِنَّ وَأَنَّ وَكَأَنَّ وَلَكِنَّ وَلَيْتَ وَلَعَلَّ تَدْخُلُ عَلَى الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ، فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَأَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا.

إن ،أن، كأن، لكن، ليت، لعل مبتدأ وخبر پر داخل ہوتے ہیں۔ مبتداء کو نصب دے کر اس کا اسم کہلاتا ہے اور خبر کو رفع دے کر اِنّ کی خبر کہلاتی ہے

الامثلة

  1. الْجَمَلُ صَبُورٌ → إِنَّ الْجَمَلَ صَبُورٌ.
  1. الْهَرَمُ قَدِيمٌ → إِنَّ الْهَرَمَ قَدِيمٌ.
  1. الْاِمْتِحَانُ قَرِيبٌ → عَلِمْت أَنَّ الْاِمْتِحَانَ قَرِيبٌ.
اقرأ البقية (9)
  1. الزَّهْرَةُ نَاضِرَةٌ → يَسُرُّنِي أَنَّ الزَّهْرَةَ نَاضِرَةٌ.
  1. الْكِتَابُ أُسْتَاذٌ → كَأَنَّ الْكِتَابَ أُسْتَاذٌ.
  1. الْقَمَرُ مِصْبَاحٌ → كَأَنَّ الْقَمَرَ مِصْبَاحٌ.
  1. الْأَثَاثُ قَدِيمٌ → الْبَيْتُ جَدِيدٌ لَكِنَّ الْأَثَاثَ قَدِيمٌ.
  1. الْخَسَائِرُ قَلِيلَةٌ → شَبَّتِ النَّارُ لَكِنَّ الْخَسَائِرَ قَلِيلَةٌ.
  1. الْفَاكِهَةُ نَاضِجَةٌ → لَيْتَ الْفَاكِهَةَ نَاضِجَةٌ.
  1. الْقَمَرُ طَالِعٌ → لَيْتَ الْقَمَرَ طَالِعٌ.
  1. الْكِتَابُ رَخِيصٌ → لَعَلَّ الْكِتَابَ رَخِيصٌ.
  1. الْمَرِيضُ نَائِمٌ → لَعَلَّ الْمَرِيضَ نَائِمٌ.

النحو الواضح (ثانویہ)

النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۰،۱۱

تخفيفُ إِنَّ وَأَنَّ وَكَانَ وَلَكِنَّ :

تُخَفَّفُ إِنَّ وَأَنَّ وَكَأَنَّ وَلَكِنَّ ، أَمَّا إِنَّ فَيَجُوزُ عِندَ التَّخْفِيفِ إِعْمَالُهَا وَإِهْمَالُهَا ، وإِذا أُهْمِلَتْ دَخَلَتْ لَامُ الاِبْتِدَاءِ عَلىٰ الْخَبَرِ فَارِقَةً بَيْنَ الإِثباتِ والنَّفْى

وأَمَّا أَنَّ وكَأَنَّ فلا تُهْمَلَانِ ، غَيْرَ أنَّ الاسم فِيهِمَا يَكونُ ضَمِيرُ الشأنِ مَحْذُوفاً. وأَمَّا لكنَّ فَتُهْمَلُ وُجُوباً

إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ اور لَكِنَّ کو تخفیف (ہلکا) کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک إِنَّ کا تعلق ہے، تخفیف کے وقت اسے استعمال کرنا یا نہ کرنا دونوں جائز ہیں۔ اور اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو لام الابتداء خبر پر داخل ہو جاتی ہے جو اثبات اور نفی کے درمیان فرق کرتی ہے۔

جہاں تک أَنَّ اور كَأَنَّ کا تعلق ہے، یہ کبھی استعمال نہیں ہوتی ہیں، لیکن ان دونوں میں اسم ضمیر الشأن محذوف ہوتا ہے، اور لَكِنَّ تو اسے وجوباً (ضروری طور پر) استعمال نہیں کیا جاتا۔

الامثلة

اقرأ البقية (29)

(۱)

إِنْ عَمَلَكَ مُتقَن أو إِنْ عَمَلُكَ لَمُتقَنٌ

إِنْ مَرَضَهُ عُضَالٌ أو إِن مَرَضُهُ لَعُضَالُ

(۲)

عَلِمْتُ أنْ لَيسَ لِمقصَّرٍ فَلَاحٌ

بَلَغَنِي أَنْ لَم يُقبَضۡ عَلى اللِّصِّ

كأن قَد طَلَعَ القَمَرُ

كأن لم يُهْمِلْ وَاجِبَهُ أَحَدٌ

(۳)

الشَّمْسُ طَالِعَةٌ لٰكِنِ المَطَرُ نَازِلٌ۔

الكِتابُ صَغِيرٌ لَكِنْ نَفْعُهُ عَظِيمٌ .

كَفَ إِنَّ وأخواتها عن العمل: اِنَّ اور اس کے اخوات کو عمل سے روکنا

تَتَّصِلُ مَا الزَّائِدَةُ بِإِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فَتَكُفُّهَا عَنِ الْعَمَلِ، وَ تَزِيلُ اخْتِصَاصَهَا بِالْأَسْمَاءِ إِلَّا لَيْتَ فَيَجُوزُ اعْمَالُهَا وِإِلْغَاءُهَا وَلَا يَزُولُ اِخْتَصَاصُهَا بِالْأَسْمَاءِ

جب ما کافہ اِنّ اور اس کے اخوات کے ساتھ متصل ہوتا ہے تو اس کو عمل سے روک دیتا ہے اور اس کے اسماء کے ساتھ اختصاص کو زائل کر دیتا ہے، مگر لیت میں یہ بات نہیں ہے، پس جائز ہے اس کو عمل دینا اور اس کو عمل سے ملغہ رکھنا اور اس کا اسماء کے ساتھ اختصاص زائل نہیں ہوتا۔

الامثلة

(۱)

إنَّمَا الحَيَاةُ جِهَادٌ

إنَّمَا القَنَاعَةُ كَنزٌ

إِنَّمَا تُقَاسُ هِمَمُ النَّاسِ بِالأَعْمَالِ

إنَّمَا يُعَاقَبُ الْمُسِيءُ

(۲)

لَيتَمَا الدَّهْرَ مُسَالِمٌ

لَيتَمَا الإنسَانُ كَامِلٌ

لَيتَمَاالسُرُورُ دَائِمٌ

لَيتَمَا الشَبَابُ راجِعٌ

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق: ۲۰

حروف مشبہ بالفعل چھ ہیں اور وہ یہ ہیں :-

إنَّ ، أَنَّ ، كَانَ ، لَيْتَ ، لكن ، لعل

یہ حروف جملہ اسمیہ (مبتدا و خبر)، پر داخل ہوتے ہیں اور اپنے اسم (مبتدا) کو نصب دیتے ہیں۔ خبر اپنے حال پر مرفوع ہی باقی رہتی ہے ۔ ان کو مشبہ بالفعل اس لئے کہتے ہیں کہ فعل کی طرح یہ بھی ایک اسم (مبتدا) کو نصب اور دوسرے اسم (خبر) کو رفع دیتے ہیں ۔

(۱) إن اور أنّ جملہ میں تاکید وتحقیق کے معنی پیدا کرتے ہیں جیسے: اِنَّ زیدًا قائمٌ

(۲) كانَّ تشبیہ کے معنی دیتا ہے جیسے كَانَّ مَحمُودا اسد (گویا کہ محمود شیر ہے)

(۳) لیت و لعل تمنا و آرزو کے لئے آتے ہیں مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ لیت سے امر محال کی بھی تمنا کی جاتی ہے اور لعل سے امرممکن کی ہی۔

(۴) لکنّ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی جملہ سابقہ سے جو شبہ اور و ہم پیدا ہوتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے آتا ہے۔

اِنّ اور أن میں فرق یہ ہے کہ ان مع اپنے معمول کے مصدر کے معنی میں موول ہوتا ہے اور اس طرح دوسرے جملہ کا جزو بن جاتا ہے جیسے :- علمت أنك ذاهب، يعني علمت ذهابك .

اقرأ البقية (8)

اِنَّ مصدر کے معنی میں مؤول نہیں ہوتا اور نہ کسی دوسرے جملہ کا جزو بنتا ہے بلکہ مستقل جملہ پر آتا ہے جیسے: اِنّ اللہ علی کل شیئٍ قدیر

ذیل کی صورتوں میں انّ کو بالکسر ہی لکھنا اور پڑھنا چاہیئے :-

(1) جبکہ شروع کلام میں ہو جیسے: إِنَّ الحَرَّشَديد

(۲)جبکہ قول اور قول کے مشتقات کے بعد ہو جیسے: قُلْ إِنَّ الْحَقَّ وَاضِحٌ

(۳) جبکہ صلہ کے شروع میں ہو جیسے زرت الذي اِنّى أجله . جاء الذين إِنَّ مجیئھم يسرني

أنّ جیسا کہ بتایا گیا وسط کلام میں آتا ہے ، علم کے بعد اور مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ اَنَّ ہی پڑھا جاتا ہے۔ خصوصا حروف جارہ کے بعد جیسے الم يعلم بأنّ الله یری

نوٹ:۔ جملہ اسمیہ میں جس طرح خبر کو مفرد یا جملہ یا شبہ جملہ سبھی لا سکتے ہیں اسی طرح نواسخ کی خبر بھی مفرد، جملہ اور شبہ جملہ سب آتے ہیں۔ جیسے إِنَّ الله يَرْزُقُ الْعِبَادَ .

شرح مائۃ عامل

شرح مائۃ عامل۔ سبق:۲

الحروف المشبهة بالفعل، وهي تدخل على المبتدأ والخبر تنصب المبتدأ وترفع الخبر، وهي ستة حروف: "إنّ وأنّ" وهما لتحقيق مضمون

الجملة الاسمية مثل: إن زيدا قائم أي حققت قيام زيد، وبلغني أن زيدا منطلق أي بلغني ثبوت انطلاق زيد.

و"كأن" وهي للتشبيه نحو :كأنّ زيدا أسد.

و "لكن" وهي للاستدراك أي لدفع التوهم الناشئ من الكلام السابق، ولهذا لا تقع إلا بين الجملتين اللتين تكونان متغايرتين بالمفهوم مثل: غاب زيد لكن بكرا حاضر، وما جاءني زيد لكن عمرا جاءني.

و"ليت" وهي للتمني مثل: ليت زيدا قائم أي أتمنى قيامه.

و"لعل" وهي للترجي مثل لعل السلطان يكرمني،

والفرق بين التمني والترجي أن الأول يستعمل في الممكنات كما مر والممتنعات مثل: ليت الشباب يعود والترجي مخصوص بالممكنات فلا يقال: لعل الشباب يعود، وتدخل "ما" الكافة على جميعها فتكفها عن العمل كقوله تعالى : أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ و إنما زيد منطلق.

اقرأ البقية (9)

یہ وہ حروف ہیں جو فعل کی طرح ہوتے ہیں، اور یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو منصو ب کرتے ہیں اور خبر کو مرفوع کرتے ہیں۔

یہ چھ حروف ہوتے ہیں:

"إنّ" اور "أنّ" جو جملہ اسمیہ کے مضمون کی تصدیق کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جیسے: "إن زيدا قائم" یعنی زید کے قیام کی تصدیق کی گئی ہے، اور "بلغني أن زيدا منطلق" یعنی مجھے اطلاع ملی کہ زید روانہ ہو گیا ہے۔

"كأنّ" تشبیہ کے لیے ہے، جیسے: "كأن زيدا أسد" یعنی زید گویا شیر ہے۔

"لكنّ" استدراک کے لیے ہے، یعنی پچھلی بات سے پیدا شدہ توہم کو دور کرنے کے لیے، لہذا یہ صرف دو مختلف مفہوم جملوں کے درمیان آتی ہے، جیسے: "غاب زيد لكن بكرا حاضر" یعنی زید غائب ہے لیکن بکر حاضر ہے، اور "ما جاءني زيد لكن عمرا جاءني" یعنی زید نہیں آیا لیکن عمرو آیا۔

"ليت" تمنا کے لیے ہے، جیسے: "ليت زيدا قائم" یعنی میں زید کے قیام کی تمنا کرتا ہوں۔

"لعلّ" ترغیب کے لیے ہے، جیسے: "لعل السلطان يكرمني" یعنی شاید سلطان مجھے عزت دے۔

تمنّا اور ترجّی (آرزو اور امید) کے درمیان فرق یہ ہے کہ تمنّا ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ممکن ہوں جیسا کہ پہلے بیان ہوا، اور ان چیزوں کے لیے بھی جو ناممکن ہوں، جیسے: "لَیْتَ الشَّبَابَ یَعُوْدُ"، جبکہ ترجّی صرف ممکن چیزوں کے لیے مخصوص ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاتا: "لَعَلَّ الشَّبَابَ یَعُوْدُ"۔

"ما" کافہ (جو عمل کو روک دیتی ہے) ان دونوں پر داخل ہوتی ہے اور ان کو عمل سے روک دیتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ" اور"إنما زيد منطلق" ۔

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۰

فصل خبر إن وأخواتها (أي الحروف المشبهة بالأفعال)

هذه الحروف تدخل على المبتدأ والخبر، فتنصب المبتدأ ويسمى اسمها، وترفع الخبر ويسمى خبرها.

وهي:

ا۔ إنّ: للتوكيد، نحو: إن المجتهد ناجح

۲۔ أنّ : للتوكيد، ولا بد أن يتقدمها كلام، نحو: يسرني أن خالداً ناجح .

۳۔ كأن للتشبيه إذا كان خبرها جامدا، وللظن إذا كان خبرها مشتقا نحو: كأن محمدا أسد ( للتشبيه) وكأنك فاهم (للظن)

۴۔ لكن : للاستدراك، أي لأن تثبت لما بعدها حكما مخالفا لحكم ما قبلها ولذلك لا بد أن يتقدمها كلام، نحو: الكتاب صغير لكنه مفيد.

۵۔ ليت للتمني، أي محبة حصول الشيء، ويكون ذلك في الممكن نحو: ليت زيدا قائم وغير الممكن نحو: ليت الشباب يعود يوماً.

اقرأ البقية (40)

۶۔ لعل للترجي، وهو ترقب شيء لا وثوق بحصوله، ولا يكون ذلك إلا في الممكن سواء أكان محبوبا نحو : لعل الله يرحمنا، أم مكروها، نحو: لعل العدو يقدم.

وحكمه في كونه مفردا، أو جملة، أو شبه جملة، أو معرفة أو نكرة كحكم خبر المبتدأ.

ولا يجوز تقديم أخبارها على أسمائها إلا إذا كان الخبر ظرفا أو جارا ومجرورا والاسم معرفة، نحو: إن في الدار زيدا، وإن مع خالد زيدا.

ويجب تقديم خبرها إذا كان اسمها نكرة، ولا مسوغ لكون تلك النكرة اسما لها سوى تقديم خبرها، نحو: إن مع العسر يسرا.

ويجب تقديم الخبر أيضا في موضعين:

أولها: إذا لزم من تأخيره عود الضمير على متأخر لفظا ورتبة، نحو: إن في الدار صاحبها.

وثانيهما: إذا كان الاسم مقترنا بلام التأكيد، نحو: إن في ذلك لعبرة

"إن" اور اس کے اخوات (حروف مشبہ بالفعل) کا بیان:

یہ حروف مبتدأ اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، جس سے مبتدأ منصوب ہو جاتا ہے اور اسے "اسم" کہا جاتا ہے، جبکہ خبر مرفوع ہو جاتی ہے اور اسے "خبر" کہا جاتا ہے۔

یہ حروف درج ذیل ہیں:

۱۔ إنّ: یہ تاکید کے لیے آتا ہے، جیسے: إن المجتهد ناجح (بیشک محنتی کامیاب ہے)۔

۲۔ أنّ: یہ بھی تاکید کے لیے آتا ہے، لیکن اس سے پہلے کوئی بات ہونی چاہیے، جیسے: يسرني أن خالداً ناجح (مجھے خوشی ہے کہ خالد کامیاب ہے)۔

۳۔ كأنّ: یہ تشبیہ کے لیے آتا ہے اگر اس کی خبر جامد ہو، اور گمان کے لیے آتا ہے اگر اس کی خبر مشتق ہو، جیسے:

- كأن محمداً أسد (گویا محمد شیر ہے) — تشبیہ کے لیے۔

- كأنك فاهم (گویا تم سمجھ رہے ہو) — گمان کے لیے۔

۴۔ لكنّ: یہ استدراک کے لیے آتا ہے، یعنی بعد میں آنے والی چیز کے لیے ایسا حکم جو پہلے سے مختلف ہو، اور اس سے پہلے کوئی بات ہونی چاہیے، جیسے:

- الكتاب صغير لكنه مفيد (کتاب چھوٹی ہے لیکن مفید ہے)۔

۵۔ ليت: یہ تمنا (آرزو) کے لیے آتا ہے، یعنی کسی چیز کے ہونے کی خواہش، چاہے وہ ممکن ہو یا ناممکن، جیسے:

- ليت زيدا قائم (کاش زید کھڑا ہو) — ممکن کی تمنا۔

- ليت الشباب يعود يوماً (کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے) — ناممکن کی تمنا۔

۶۔ لعلّ: امید اور توقع کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا مطلب کسی ایسے امر کا انتظار کرنا ہوتا ہے جس کے حاصل ہونے کا یقین نہ ہو۔ یہ صرف اسی چیز کے لیے آتا ہے جو ممکن ہو، چاہے وہ پسندیدہ ہو یا نہ ہو۔جیسے:

- لعل الله يرحمنا (شاید اللہ ہم پر رحم کرے) — محبوب چیز کی امید۔

- لعل العدو يقدم (شاید دشمن آگے بڑھے) — ناپسندیدہ چیز کی امید۔

خبر کے احکام:

خبر کا مفرد، جملہ یا شبه جملة ہونا اور اس کا نکرہ یا معرفہ ہونا، ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ مبتدأ کی خبر میں ہوتا ہے۔

خبر کے اسم پر مقدم ہونے کی اجازت:

خبر کو اسم پر مقدم نہیں کیا جا سکتا سوائے اس صورت میں جب خبر ظرف یا جار و مجرور ہو اور اسم معرفہ ہو، جیسے:

- إن في الدار زيدا (بیشک زید گھر میں ہے)

- إن مع خالد زيدا (بیشک زید خالد کے ساتھ ہے)۔

خبر کے مقدم ہونے کی وجوبی صورتیں:

خبر کو دو صورتوں میں مقدم کرنا واجب ہوتا ہے:

۱۔ اگر تاخیر کی صورت میں ضمیر کا مرجع مؤخر ہو جائے، جیسے:

- إن في الدار صاحبها (بیشک اس کا مالک گھر میں ہے)۔

۲۔ جب اسم "لام تاکید" کے ساتھ ہو، جیسے:

- إن في ذلك لعبرة (بیشک اس میں عبرت ہے)۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱، ۳

اِنّ: جملہ اسمیہ کے شروع میں داخل ہوتا ہے۔ جیسے : الْكِتَابُ سَهْلٌ إِنَّ الْكِتَابَ سَهْلٌ

یہاں یہ بات یاد رہے کہ اِنَّ داخل ہونے کے بعد پہلا لفظ (مبتدا) منصوب ہو جاتا ہے اِنَّ داخل ہونے کے بعد مبتدا کو اِسمُ اِنَّ ( إِنَّ کا اسم ) اور خبر کو خَبَرُ إِنَّ ( إِنَّ کی خبر ) کہتے ہیں۔

اِنَّ معنی میں زور اور تاکید پیدا کر دیتا ہے ، جس کے لئے اردو میں بے شک ، بلاشبہ ، یقیناً اور ”ہی“ کا استعمال ہوتا ہے ۔

نوٹ :- اگر مبتدا پر اِنَّداخل ہونے سے پہلے ایک ضمہ ہو تو وہ ایک فتحہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے :

الْمُدَرِّسُ جَدِيدٌ إِنَّ الْمُدَرِّسَ جَدِيدٌ

آمِنَةٌ طَالِبَةٌ ان آمِنَة طالبة

لیکن اگر مبتدا پر دو ضمہ ہوں تو اِنَّ داخل ہونے پر وہ دو فتحہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسے :

حَامِدٌ مَرِيضٌ إِنَّ حَامِدًا مَرِيْضٌ

اقرأ البقية (21)

اگر مبتدا ضمیر ہو تو اِنَّ داخل ہونے کے بعد وہ ضمیر نصب سے بدل جاتا ہے۔ جیسے

ضمیر

أَنْتَ غَبِي إِنَّكَ غَبِيٌّ

کأنّ :( گویا، ایسا لگتا ہے ) یہ بھی اِنَّ کے اخوات ( بہنوں ) میں سے ہے اور اُسی جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے :

كَأَنَّ الْإِمَامَ مَرِيْضٌ گویا امام مریض ہیں

مَنْ هذِهِ الْفَتَاةُ ؟ كَأَنَّهَا أُخْتُك لڑکی کون ہے؟ گویا یہ تیری بہن ہے

كَأَنَّكَ مِنَ الْهَنْدِ گویا تم ہندستان کے ہو

لكنّ (لیکن): یہ بھی اِنَّ کے اخوات ( بہوں ) میں سے ہے اور اُسی جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے :

بلال مُجْتَهَدٌ وَلَكِنَّ حَامِدًا كَسَلَانُ بلال محنتی ہے لیکن حامد کاہل ہے

أَخِي مُتَزَوِّجُ وَ لَكِنِّي عَزَبٌ میرا بھائی شادی شدہ ہے لیکن میں کنوارا ہوں

سَيَّارَتِي قَدِيْمَةٌ وَ لَكِنَّهَا قَوِيَّة میری کار پرانی ہے لیکن وہ مضبوط ہے

لَعَلَّ: یہ بھی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے اور اِنَّ کی طرح عمل کرتا ہے، اس کو اختُ إِنَّ یعنی ان کی بہن کہا جاتا ہے۔ یہ دو معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے :

ا :- امید ہے، توقع ہے۔

۲:- خدشہ ہے، اندیشہ ہے، خوف ہے۔ جیسے

الجوُّ جَمِيلٌ .موسم خوشگوار ہے

لَعَلَّ الْجَوَّ جَمِيلٌ امید ہے کہ موسم خوشگوار ہوگا

الْمُدَرِّسُ مَرِيض استاد بیمار ہیں

لَعَلَّ الْمُدَرِّسَ مَرِيضٌ اندیشہ ہے کہ استاذ یمار ہیں

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۲۱

حروف مشبه بالفعل یعنی فعل سے مشابہ حروف

یہ کل چھ حروف ہیں: إِنَّ أَنَّ كَأَنَّ لَيْتَ، لَكِنَّ، لَعَلَّ. انہیں إِنَّ اور اس کی اُخوات بھی کہا جاتا ہے، یہ دو پہلؤوں سے فعل کے مشابہ ہیں ۔

(۱) معنی کے لحاظ سے، إِنَّ اور اَنَّ کا معنی ہے: میں تاکید کے ساتھ کہتا ہوں، کاَنَّ : میں سمجھتا ہوں، لکن : میں تصحیح کرتا ہوں ، لیت میں تمنا کرتا ہوں، اور لعل کا معنی ہے: میں امید کرتا ہوں مجھے اندیشہ ہے۔

(۲) اعراب میں: چنانچہ جس طرح مفعول بہ منصوب ہوتا ہے اسی طرح ان حروف کے اسماء بھی منصوب ہوتےہیں۔

حروف مشبهة بالفعل کے معانی

إِنَّ، أَنَّ یہ دونوں تاکید کے اظہار کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جیسے : ﴿إنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [المائدة : ٢] بے شک اللہ زبردست عذاب والا ہے ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [الأنفال: ۲۵] اور یقین جانو کہ اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔

كاَنَّ تشبیہ کا معنی دیتا ہے، جیسے: كَأَنَّ الْعِلْمَ نُور گویا کہ علم نور ہے کبھی یہ ظن اور گمان کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، جیسے : كَأَنَّني أَعْرِفُكَ شاید میں تمہیں پہچانتا ہوں

لٰكِنَّ استدراک کا معنی دیتا ہے ، جیسے: حَامِدٌ ذَكِيٌّ لِٰكِنَّهُ كَسۡلانُ حامد ذہین ہے لیکن وہ ست (کابل)

اقرأ البقية (25)

ہے۔

لیت: حسرت اور تمنا کے اظہار کے لئے آتا ہے، جیسے لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ. کاش جوانی لوٹ آتی۔

لعل: توقع یا اندیشہ کو بتاتا ہے، جیسے: لَعَلَّ الله يَغْفِرُ لِي. امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دیں گے۔ لَعَلَّ الْجَرِيْحَ يَمُوتُ ڈر ہے کہ زخمی مرجائے گا۔

یہ حروف مبتدا خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں ، اِنَّ کے داخل ہونے کے بعد مبتدا ان کا اسم اور خبر ان کی خبر کہلاتے ہیں، جیسے:

مبتدا: اللّٰه خبر: غَفُوْرٌ

اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ

اسم انَّ : اللّٰهَ

خبر اِنّ : غَفُوْرٌ

مبتدا کے برخلاف اگر انّ اور اس کے اخوات کی خبر جملہ فعلیہ ہو تو اِنّ کا اسم نکرہ ہوسکتا ہے، جیسے: كَأَنَّ شَيْئًا لَمْ يَحدُث گویا کہ کچھ نہیں ہوا۔

مبتدا کی خبر کی طرح إِنَّ اور اس کی اخوات کی خبر بھی مفرد، جملہ یا شبہ جملہ ہوگی، جیسے:

ا۔ مفرد۔﴿ إِنَّ اللهَ سَرِ يعُ الْحِسَابِ ﴾ [آل عمران: ۱۹۹] یقینا اللہ تعالی بہت جلد حساب لینے والے ہیں۔

۲۔ جملہ

الف- جمله فعليه: ﴿ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا) [الزمر: ۵۳] یقینا اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں۔

ب - جملہ اسمیہ: ﴿إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ [لقمان: ۲۴] یقینا صرف اللہ تعالی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔

۳۔ شبہ جملہ

ا۔ جار ومجرور : كَأَنَّكَ مِنَ الصِّيْنِ. غالبا تم چین کے باشندے ہو۔

ب۔ ظرف : لَعَلَّ الْمُدَرِّسَ عِنْدَ الْمُدِيرِ. غالبا استاد ہیڈ ماسٹر کے پاس ہیں۔

اگر خبر شبہ جملہ ہو تو وہ اسم سے پہلے بھی آسکتی ہے، جیسے:

﴿إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ لا ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ﴾ [الغاشية: ۲۶،۲۵] یقینا ہماری ہی طرف ان کا پلٹنا ہے ، پھر بے شک ہمارے ہی ذمہ ہے ان کا حساب لینا۔

اصل ترتیب یوں ہوگی: إِنَّ إِيَابَهُمْ إِلَيْنَا ثُمَّ إِنَّ حِسَابَهُمْ عَلَيْنَا . اسم چونکہ معرفہ ہے اس لئے اس کی تاخیر جائز ہے، ضروری نہیں، اگر اسم نکرہ ہو تو لازما وہ مؤخر ہوگا ، جیسے:

﴿إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَّجَحِيْمًا﴾(۱)[المزمل:١٣] یقینا ہمارے پاس سخت بیڑیاں اور جہنم ہے۔

﴿إنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [الانشراح: ٦] یقین تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

یہاں یوں کہنا درست نہ ہوگا: إِنَّ أَنكالاً لَدَيْنَا يَا إِنَّ يُسْرًا مَعَ الْعُسْرِ.

اگر لیت کا اسم ضمیر متکلم ی ہو تو اس کے ساتھ لازما نونِ وقایہ استعمال ہوگا ، جیسے: لَيْتَنِي طِفل کاش میں ایک بچہ ہوتا۔

اگر إِنَّ ، أَنَّ كَأَنَّ، لکن کا اسم بنے تو نونِ وقایہ کا استعمال جائز ہے ،ضروری نہیں ، جیسے: إِنِّي إِنَّنِي. أَنِّي أَنَّنِي. كَأَنِّي، كَأَنَّنِي. لكني، لكنني . لَعَلَّ کے ساتھ نونِ وقایہ استعمال نہیں ہوگا ، ہم کہتے ہیں : لَعَلى لَا أَرَاكَ مُدَّةً طَوِيْلَةٌ. شاید میں ایک لمبے عرصے تک تم سے نہ مل سکوں گا۔

المفصل

المفصل۔ سبق:۷

خبر إن وأخواتها

سبب رفع خبر إن

هو المرفوع في نحو قولك إن زيداً أخوك، ولعل بشراً صاحبك. وارتفاعه عند أصحابنا بالحرف لأنه أشبه الفعل في لزومه الأسماء والماضي منه في بنائه على الفتح فألحق منصوبه بالمفعول ومرفوعه بالفاعل، ونزل قولك إن زيداً أخوك منزلة ضرب زيداً أخوك. وكأن عمراً الأسد منزلة فرس عمراً الأسد. وعند الكوفيين هو مرتفع بما كان مرتفعا به في قولك زيد أخوك ولا عمل للحرف فيه. وجميع ما ذكر في خبر المبتدأ من أصنافه وأحواله وشرائطه قائم فيه، ما خلا جواز تقديمه إذا وقع ظرفاً كقولك إن في الدار زيداً، ولعل عندك عمراً، وفي التنزيل: "إن إلينا إيابهم ثم إن علينا حسابهم"

حذف خبر إن

وإن عمراً أي إن لنا وقال الأعشى:

إن محلا وإن مرتحلا وإن في السفر اذ مضوا مهلا

وتقول إن غيرها إبلا وشاء أي إن لنا. وقال:

يا ليت أيام الصبى رواجعا

وقد حذف في قولهم إن مالا وإن ولدا عدداً أي إن لهم مالاً.

ويقول الرجل للرجل هل لكم أحد من الناس عليكم فيقول إن زيداً أي ياليت لنا. ومنه قول عمر بن عبد العزيز رضي الله عنه لقرشي مت إليه بقرابة: فإن ذاك. ثم ذكر حاجته فقال : لعل ذاك أي فإن ذاك مصدق ولعل مطلوبك حاصل. وقد التزم حذفه في قولهم ليت شعري.

المفصل

المفصل۔ سبق:

الخبر والاسم في بابي كان وإن

لما شبه العامل في البابين بالفعل المتعدي شبه ما عمل فيه بالفاعل والمفعول ويضمر العامل في خبر كان في مثل قولهم الناس مجزيون بأعمالهم إن خيراً فخير وإن شراً فشر، والمرء مقتول بما قتل به أن خنجراً فخنجر وإن سيفاً فسيف، أي إن كان عمله خيراً فجزاؤه خير وإن كان شراً فجزاؤه شر.

والرفع أحسن في الآخر ومنهم من يرفعهما ويضمر الرافع أي أن كان معه خنجر فالذي يقتل به خنجر قال النعمان بن المنذر : قد قيل ذلك إن حقاً وإن كذبا ومنه الإطعام ولو تمراً وائتني بداية ولو حماراً. وإن شئت رفعت بمعنى ولو يكون ثمر وحمار، ادفع الشر ولو إصبعاً. ومنه أما أنت منطلقاً انطلقت، والمعنى لأن كنت منطلقاً، وما مزيدة معوضة من الفعل المضمر .

ومنه قول الهذلي:

أبا خراشة أما أنت ذا نفر

وروى قوله:

إما أقمت وأما أنت مرتحلاً فالله يكلأ ما تأتي وما تذرا

بكسر الأول فتح الثاني.