كل المواضيع

مرفوع اسماء

مبتدااور خبر دیگر کتب میں

7 نصًا

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶

جملہ اسمیہ: مبتداء و خبر کہلاتا ہے اس کے پہلے جز کو مبتداء اور دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں الْوَلَدُ قَائِم میں الولد مبتدا اور قائم خبر ہے اور اسی طرح الْوَلَدُ يَقُومُ میں الْوَلَدُ . مبتداء اور یقوم اس کی خبر ہے۔

(۱) مبتداء عموماً معرفہ اور خبر عموما نکرہ ہوا کرتی ہے، بخلاف موصوف وصفت کے اس میں دونوں جز معرفہ یا دونوں جز نکرہ ہوا کرتے ہیں۔

اس عموم کے بر عکس مبتداء کبھی نکرہ بھی ہوتا ہے مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ

(۱) اس سے پہلے کوئی حرف نفی ہو جیسے ما احد حاضر

(۲) اس سے پہلے کوئی حرف استفہام ہو جیسے هَلْ كَرِيم یَبۡخَلُ بِمَالِهِ؟

(۳) یا وہ کسی نکرہ کی طرف مضاف ہو جیسے تاجرُ ثوبٍ مُسلمٌ

(۳) یا موصوف ہو جیسے وردةٌ حمراءُ تَتَفتّحُ

(۵) یا مجرور ہو جیسے فِيكَ شُجَاعَةٌ

اقرأ البقية (8)

(۶) یا حرف کی صورت میں خبر مقدم ہو جیسے عندی حصانٌ

اسی طرح خبر بھی کبھی معرفہ آتی ہے اور اسکی شرط یہ ہے کہ

(۱) خبر کسی موصوف کی صفت نہ بنتی ہو جیسے انا يُوسُف .

(۲) یا جب کہ مبتداء اور خبر کے درمیان ضمیر فصل کو لایا جائے جیسے الوَلَدُ ھُوَ الْقَائِمُ

(۲) مبتداء اور خبر دونوں ہمیشہ مرفوع ہوا کرتے ہیں۔

(۳) واحد ، تثنیہ، جمع، اور تذکیر و تانیث میں صفت ہی کی طرح خبر بھی اپنے پہلے جز (مبتداء) کے مطابق ہوا کرتی ہے۔

(۴) ایسے ہی مبتداء جب کسی غیر عاقل کی جمع ہو تو خبر (صفت ہی کی طرح) عمو ماً واحد مؤنث لائی جاتی ہے اور کبھی جمع مؤنث بھی جیسے الْأَقْلَامُ ثَمِينَة اور اقْلَامُ ثمینات (قلمیں قیمتی ہیں)۔

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۱) سبق:۸

المُبتدَأُ: اسمٌ مرفوعٌ في أوَّلِ الجُملةِ.

الخَبَرُ: اسمٌ مرفوعٌ يُكوِّنُ مع المُبتدَأِ جملةً مُفيدةً.

مبتدا وہ اسم مرفوع ہے جو جملہ کی ابتداء میں آتا ہے۔

خبر ہو اسم مرفوع ہے جو مبتدا کے ساتھ مل کر جملہ پورا کرتا ہے۔

الامثلة

التُّفَّاحَةُ حُلْوَةٌ

اقرأ البقية (5)

الصُّورَةُ جَمِيلَةٌ

الجَرْيُ مُفِيدٌ

القِطَارُ سَرِيعٌ

النَّظَافَةُ وَاجِبَةٌ

الأرْضُ مُسْتَدِيرَةٌ

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۱،۲

(۱) المبتدأ والخبر وتطابقهما: مبتدا اور خبر کی مطابقت

الخبرُ: يُطَابِقُ المبتدأ فِي الإِفْرَادِ وَالتَّثْنِيَةِ وَالجَمْعِ وَفِي التَّذْكِيرِ وَالتَّأْنِيثِ.

إِذَا كَانَ المُبْتَدَأُ جَمْعًا لِغَيْرِ عَاقِلٍ: يَجُوزُ الإِخْبَارُ عَنْهُ بِالجَمْعِ أَوْ بِالمُفْرَدِ المُؤَنَّثِ.

مبتداء اور خبر مفرد، تثنیہ وجمع ، مذکر اور مؤنث ہونے میں ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں۔

اگر مبتداء غیر عاقل کی جمع ہو تو خبر جمع بھی آ سکتی ہے اور مفرد مؤنث بھی۔

الأمثلة

اقرأ البقية (50)

النَّمِرُ شَرِسُ .

الكلبُ أليفٌ.

النجمُ لامعٌ

البنتانِ مُجتهدتانِ .

الحَديقتانِ مثمرتانِ.

الحُجرتانِ واسعتانِ .

البطةُ سابحةٌ.

زينبُ مطيعةٌ .

المدينةُ عامرةٌ .

المحْسِنُونَ مَمدوحونَ .

التَّلاميذُ أذكیاءُ.

الکُسالَى مُعاقبونَ .

التلميذانِ حاضرانِ.

الكتابانِ جديدانِ.

الخفيرانِ ساهرانِ.

السيداتُ مُهذَّباتٌ

الشَّجَرَاتُ مُورقاتٌ أو مورقۃٌ

القُصُورُ عاليةٌ أو عالياتٌ

(۲) خبر المبتدأ حين يكون جملة أو شبه جملة: خبر جب جملہ یا شبہ جملہ واقع ہو

كَمَا يَكُونُ خَبَرُ المُبْتَدَأِ مُفْرَدًا، يَكُونُ: جُمْلَةً فِعْلِيَّةً أوْ جُمْلَةً اسْمِيَّةً أوْ شِبْهَ جُمْلَةٍ: أیْ ظَرْفًا أَوْ جَارًّا وَمَجْرُورًا

يَجِبُ أَنْ تَشْتَمِلَ جُمْلَةُ الخَبَرِ عَلَى ضَمِيرٍ يَرْبِطُهَا بِالمُبْتَدَأِ.

خبر جس طرح مفرد آ سکتی ہے اسی طرح جملہ فعلیہ یا جملہ اسمیہ یا شبہ جملہ بھی آ سکتی ہے یعنی خبر جار مجرور اور ظرف بھی آسکتی ہے۔

خبر جب جملہ ہو تو اس میں ایک ضمیر کا موجود ہونا ضروری ہے جو مبتداء اور خبر کو جوڑے (مربوط) رکھے۔

الأمثلة

1. الحَرَكَةُ تُقَوِّي العَضَلَاتِ.

2. النَّظَافَةُ تُنَشِّطُ الجِسْمَ.

3. أَنْتَ أَطَعْتَ الأَمْرَ.

4. السَّلَحْفَاةُ زَحَفَتْ.

1. المُهَذَّبُ أَصْدِقَاؤُهُ كَثِيرُونَ.

2. المِصْبَاحُ ضَوْءُهُ شَدِيدٌ.

3. البِنْتُ جَمَالُهَا الشَّرَفُ.

4. التُّجَّارُ شِعَارُهُمُ الصِّدْقُ.

1. الكِتَابُ فِي القِمْطَرِ.

2. السَّرْجُ عَلَى الفَرَسِ.

3. المَطَرُ مِنَ السَّحَابِ.

4. النَّجَاةُ فِي الصِّدْقِ.

1. القَنْطَرَةُ فَوْقَ النِّيلِ.

2. المُتَنَزَّهُ أَمَامَ البَيْتِ.

3. السَّاعَةُ تَحْتَ الوِسَادَةِ.

4. الرَّاحَةُ بَعْدَ التَّعَبِ.

النحو الواضح (ثانویہ)

النحو الواضح ثانویۃ (جلد: ۱) سبق:۶

المبتدأ والخبر

( ۱) المبتدأ إذا كان نكرة: مبتدا جب نکرہ ہو

الْأَصْلُ فِي الْمُبْتَدَاءِ أَنْ يَكُونَ مَعْرِفَةٌ وَيَقَعُ نَكِرَةً إِذَا دَلَّتْ عَلَى عُمُومٍ، كَمَا إِذَا سُبِقَتْ بِنفِي أَوْ إِسْتِفْهَامٍ أَوْ دَلْتُ عَلَى خُصُوص كَمَا إِذَا أُضِيْفَتْ لِنكِرَةٍ أَوْ وُصِفَتْ أَوْ تَقَد مَهَا خَبرُهَا وَهُوَ ظَرْفٌ أَوْ جَارٌ وَمَجْرُورٌ .

مبتداء میں اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہو اور اگر کبھی نکرہ واقع ہو جائے تو وہ عموم پر دلالت کرے گی ، جیسا کہ پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ نفی یا استفہام کے ساتھ ہو یا وہ کسی خصوص پر دلالت کرے ، جیسا کہ کسی نکرہ کی وجہ سے اضافت کی جائے یا وصف کو بیان کیا جائے یا اس کی خبر کو مقدم کر دیا جائے ، اور وہ خبر ظرف ہو یا جار مجرور ہو۔

الأمثلة

(ا) عَلِّى مُهَذِّبٌ .

اَنتَ مُجِدٌّ .

اقرأ البقية (159)

الَّذِي أَعْجَبَنِي فِي الْقَاهِرَةِ نِظَامُهَا

الزَّرَاعَةُ عِمَادُ الثَّرْوَةِ

هَذِهِ مَنَارَةُ الْإِسْكَنْدَرِيَّة .

.صَاحِبُ الْحَاجَةِ مُولَعٌ بِإِنْجَازِهَا .

(ب).مَا مُجتَهِدٌ غَائِبٌ .

طَالِبُ إِحْسَانِ وَاقِفٌ

فِيكَ شَممٌ .

هَلْ كَرِيمٌ يُغِيثُ المَلْهُوفَ ؟

زهْرَةٌ صَفْراءُ ذَبُلَتۡ

عِنْدِي كِتَابٌ

(۲) مواضع حذف المبتدا وجوباً: مبتدا کو وجوبی طور پر حذف کرنے کے مواضع

يَجِبُ حَذَفَ الْمُبْتَدَاءِ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ .

(ا) إِذَا كَانَ خَبَرَهُ مَخصُوص نِعْمَ وَبِئْسَ.

(ب) إِذَا كَانَ خَبَرَهُ نَعْتاً مقطوعاً لِلْمَدْحِ أَوِ الذمَ أَوِ التَّرَحُم.

(ج) إِذَا كَانَ خَبرُهُ مَصْدَرَاً نَائِباً عَنْ فِعْلِهِ.

(د) إِذَا كَانَ خَبرَهُ مُشْعِراً بِالْقَسم.

چار مقام ایسے ہیں کہ جہاں مبتداء کو حذف کرنا واجب ہے ۔

جب اس کی خبر نعم اور بئس کا مخصوص ہو۔

جب اس کی خبر صفت مقطوعہ ہو مدح یا ذم یا ترحم کی وجہ سے۔

جب اس کی خبر مصدر ہو جو اس کے فعل سے نائب ہو

جب اس کی خبر سے قسم کا احساس پیدا ہو رہا ہو۔

الأمثلة

نِعْمَ الْفَاتحُ صَلاحُ الدِّينِ

نِعمتِ الأَم أَسْمَاءُ بنتُ أَبِي بَكْرِ

بئْسَ الْخُلُقُ خُلْفُ الوَعْدِ

اِقْتَدِ بعُمَرَ الْعَادِل

اجْتَنبِ اللَّئيْمَ الْخَسِيسُ .

تَصَدَّقْ عَلَى الْفَقِيرِ الْمِسْكِينُ

ثَباتٌ فِي شِدَّتِی

عَفوٌ وَاسِعٌ.

صَبْرٌ جَمِيلٌ .

في ذمَّتِي لَأَخْلَعَنَّ رِدَاءَ الكَسَلِ

فِي عُنُقِي لَأَبْذُلَنَّ كلَّ جُهْدي

فِي عُنُقِي لَأُكْرِمَنَّ الْغَرِيبَ .

(۳) مواضع حذف الخبر وجوباً: خبر کو وجوبا حذف کرنےکے مواضع

يُحْذَفَ الْخَبَرُ وَجُوْبًا فِي أَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ

(ا) إِذَا كَانَ الْمُبْتَدَاءُ صَرِيحاً فِي الْقَسَمِ.

(ب) إِذَا كَانَ الْمُبْتَدَاءُ بَعْدَ لَوْلا وَالْخَبَرُ كَونٌ عَامٌ نَحْو مَوْجُودِ وَكَائنُ.

(ج) إِذَا كَانَ الْمُبْتَدَاءُ مَتلُوا بِوَاوٍ لِعَطْفِ تَدَلُّ عَلَى الْمُصَاحَبَةِ.

(د) إِذَا أَغْنَتُ عَنِ الْخَبَرِ حَالٌ لَا تَصْلُحُ أَن تَكُونَ خَبَرًا وَالْمُبْتَدَاءُ مَصْدَرٌ مُضَافٌ إِلى مَعْمُولِهِ، أَو اِسمُ تَفْضِيلٍ مُضَاف إِلَى مَصْدَرٍصَرِيحٍ أَوْ مُؤَوَّلٍ.

خبر کو چار مقامات پر حذف کرنا واجب ہے۔

جب مبتداء قسم سے متعلق صریح اسم ہو۔

جب مبتدا لولا کے بعد ہو اور خبر کوئی عام ہو جیسے موجود اور کائن وغیرہ۔

جب مبتداء واو عطف کے ساتھ پڑھی جائے اور مصاحبہ پر دلالت کرے۔

جب حال خبر سے مستغنی کر دے اور خبر بننے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور مبتداء مصدر مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف یا اسم تفصیل ہو جو مضاف ہو رہا ہو صریح یا مصدر موول کی طرف۔

الأمثلة

(ا)

لَعَمْرُكَ لَأُخْلِصَنَّ لَكَ الْوُدَّ.

أَيْمُنُ اللَّهِ لَأَشْكُرَنَّ الْمُنْعِمَ

يَمِينُ اللَّهِ لَأُنْصِفَنَّ الْمَظْلُومَ

(ب )

لَولَا النِّيلُ لَكَانَتۡ بِلاَدُنَا قَفرًا .

لَولَا أملٌ فِي الشَّبابِ لَيَئِسْنَا.

لَولَا الاِبتِكَارُ ما تَقَدَّمَ الإِنْسَانُ.

(ح)

كُلُّ صَدِيقٍ وَصَدِيقُهُ

كُلُّ إِنْسَانِ وَعَلَهُ

كُلُّ عَمَلٍ وَجَزَاؤُه

(د )

اِحتِرَامِي التِّلمِيذَ مهذباً

أکثر حُبى الزَّهْرَ نَاضِرًا

أَحْسَنُ مَا يُرى الْبَسْتَانُ مُثمِرًا .

( ٤ ) مَوَاضِعُ تَقْدِيمِ الْمُبْتَدَا عَلَى الْخَبَرِ وُجُوبا: مبتدا کو خبر پر وجوبی طور پر مقدم کرنے کے مواضع

يَجِبُ تَقْدِيمُ الْمُبْتَدَاءِ فِي اَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ .

(ا) إِذَا كَانَ الْمُبْتَدَاءُ مِنَ الألْفَاظِ الَّتِي لَهَا الصَّدَارَةُ وَهِيَ : أَسْمَاءُ الْإِسْتِفْهَامِ، وَالشَّرْطِ، وَمَا التَّعَجُبيَّةُ وَكَمِ الْخَبَرِيَّةُ وَضَمِيرُ الشَّأْنِ، وَالْمُقْتَرِنُ بِلَامِ الْاِبْتِدَاءِ ، وَالْمَوْصُولُ الَّذِي اقْتَرَنَ خَبَرَهُ بِالْفَاءِ ..

(ب) إِذَا كَانَ الْمُبْتَدَاءُ مَقْصُوراً عَلَى الْخَبَرِ .

(ج) إِذَا كَانَ خَبرُ الْمُبْتَدَاءِ جُمْلَة فِعْلِيَّة فَاعِلُهَا ضَمِيرٌ مُسْتَتِرٌ يَعُودُ عَلَى الْمُبْتَدَاءِ

(د) إِذَا كَانَ الْمُبْتدَاءُ وَالْخَبَرُ مَعْرِفَتَيْنِ، أَوْ نَكِرَتَيْنِ مُتَسَاوِيَتَيْنِ فِي التَّخَصُّص.

چار مقامات پر مبتداء کو مقدم کرنا واجب ہے۔

جب مبتداء ان الفاظ میں سے ہو کہ جو صدارت کا تقاضہ کرتے ہیں اور وہ : اسمائے استفہام اور شرط ہیں اور ما تعجبیہ ہے اور کم خبر یہ ہے اور ضمیر شان ہے اور وہ کلمہ جو لام ابتداء سے ملا ہوا ہو اور وہ اسم موصول جس کی خبر فاء کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔

جب مبتداء خبر پر مقصور ہو۔

جب مبتداء کی خبر جملہ فعلیہ ہو کہ اس کا فاعل ضمیر مستتر ہو جو مبتداء پرلوٹنے والی ہو۔

جب مبتداء اور خبر دونوں معرفہ یا دونوں نکرہ ہونے میں تخصیص کے اعتبار سےبرابر ہوں۔

الأمثلة

(ا)من فَاتِحُ مِصْرَ مِنَ الْعَرَبِ ؟

من يُشاهِدِ الآثار يَدهَش .

ما أَعْظَمَ الْهَرَمَ !

كم طفلٍ مُهْمَلٍ فِي الطُّرْقاتِ !

هِيَ الدُّنْيَا تُعْطِي وَتَمْنَع

لَمِصْرُ هِبَةُ النَّيْلِ .

الذي يُجِيبُ فَلَهُ مُكافَأَةٌ

(۲)إِنَّمَا الْحَدِيدُ صُلْبُ

مَا أَنْتَ إِلَّا شَاعِرُ

(۳)الزَّهْرُ يُبْتَسِمُ

النَّسِيمُ رَقَّ .

(۴) عَلَى صَدِيقي

أَكْبَرُ مِنْكَ سِنَّا أَكثرُ مِنْكَ تَجربة

(٥) مَوَاضِعُ تَقْدِيمِ الخَبَرِ وُجُوباً: خبرکو وجوبا مقدم کرنے کے مقامات

يَجِبُّ تَقْدِيمُ الْخَبَرِ عَلَى الْمُبْتَدَاءِ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ.

(ا) إِذَا كَانَ الْخَبَرُ مِنَ الْأَلْفَاظِ الَّتِي لَهَا الصَّدَارَةُ.

(ب) إِذَا كَانَ الْخَبَرُ مَقْصُوراً عَلَى الْمُبْتَدَاءِ.

(ج) إِذَا كَانَ الخَبَرُ ظَرفاً أَوْ جَارًا وَمَجُرُورًا وَالْمُبْتَدَاءُ نَكِرَةً غَيْرَمُخَصَّصَةٍ .

(د)إِذَا عَادَ عَلَى بَعْضِ الْخَبرِ ضَمِيرٌ فِي الْمُبْتَدَاءِ

خبر کو چار مقامات میں مبتداء پر مقدم کرنا واجب ہے۔

جب خبر ان الفاظ میں سے ہو کہ جو صدارت کا تقاضہ کرتے ہیں۔

جب خبر مبتداء پر مقصور کردی گئی ہو۔

جب خبر ظرف ہو یا جار مجرور ہوں اور مبتداء نکرہ غیر مخصصہ ہو۔

جب مبتداء میں ضمیر خبر کے بعض پر لوٹے۔

الأمثلة

(۱)

أَيْنَ كِتابُكَ ؟

مّتى الاِمْتِحَانُ ؟

كَيْفَ الْخَلَاصُ ؟

(۲)

إِنَّمَا الشَّاعرُ الْبَحْترِى .

إِنَّمَا السَّابِقُ مُحَمَّد

مَا الْخَطِيبُ إِلَّا على .

(۳)

عِنْدِي سَيَّارَةٌ

لَدَى كِتَابٌ

لِلْقَادِمِ دَهْشَةٌ

(۴)

في الْفَضِيلَةِ ثَوَابُها

للعامل جَزَاءُ عمله

على الحصَانِ سَرْجُه

( ٦ ) سَدُّ الفاعل أو نَائِبِهِ مَسدَّ الخبر: فاعل یا اس کے نائب کو خبر کے قائم مقام کرنا

يُشْتَرَطُ فِي الْمُبْتَدَاءِ الْمُشْتَقِ الَّذِي يَرْفَعُ فَاعِلَا أَوْ نَائِبَ فَاعِلٍ يَسُدُّ مَسَدَّ الْخَبَرِ، أَنْ يَكُونَ مُعْتَمَدًا عَلَى نَفْي أَوْ اسْتِفْهَامٍ.

إِذَا كَانَ الْمُشْتَقُ مُفْرَداً وَتَالِيهِ مُفْرَداً جَازَ أَنْ يَكُونَ الْمُشْتَقُ مُبْتَدَاً وَمَا بَعْدَهُ فَاعِلَا أَوْ نَائِبَ فَاعِلٍ سَدَّ مَسَدَّ الْخَبَرِ وَأَنْ يَكُوْنَ الْمُشْتَقُ خَبَرًا مُقَدَّمَا وَتَالِيهِ مُبْتَدَاً مُؤَخَّرًا.

إِذَا كَانَ الْمُشْتَقُ مُفْرَداً وَتَالِيهِ مُثَنَّى أَوْ مَجْمُوعاً وَجَبَ أَنْ يَكُونَ الْمُشْتَقُ مُبْتَدَأَ وَمَا بَعْدَهُ فَاعِلاً أَوْ نَالِبَ فَاعِل سَدَّ مَسَدَّ الْخَبَرِ

إِذَا كَانَ الْمُشْتَقُ مُثنى اَوْ مَجْمُوعاً وَتَالِيْهِ كَذَلِكَ وَجَبَ أَنْ يَكُونَ الْمُشْتَقُ خَبَراً مُقَدَّمَا وَتَالِيْهِ مُبْتَدَأَ مُؤَخَّرًا.

یہ بات اس مبتداء میں شرط ٹھہرائی گئی کہ جو ایسا مشتق ہو کہ فاعل یا نائب فاعل کو خبر کے قائم مقام رفع دے، اسطرح کہ وہ حرف نفی یا حرف استفہام پر اعتماد کئے ہوئے ہو۔

جب مشتق مفرد ہو اور اس کے متصل بعد والا کلمہ مفرد ہو تو جائز ہے کہ مشتق جب مبتداء ہو اور اس کے بعد والا کلمہ فاعل یا نائب فاعل ہو قائم مقام خبر کے اور یہ کہ مشتق خبر مقدم ہو اوراس کا مابعد جو کہ متصل ہو وہ مبتداء مؤخر ہو۔

جب مشتق مفرد ہو اور اس کے بعد متصل کلمہ تثنیہ یا جمع ہو تو واجب ہے کہ مشتق مبتداء ہو اور اس کے بعد والا کلمہ فاعل یا نا ئب فاعل ہو جو قائم مقام ہو خبر کے۔

جب مشتق تثنیہ یا جمع ہو اور اس کے بعد والا کلمہ بھی اسی طرح ہو تو واجب ہے کہ مشتق خبر مقدم ہو اور بعد والا کلمہ مبتداء مؤخر ہو۔

الأمثلة

(۱)

مَا مُسَافِرٌ أَخُوكَ .

أَمُطِيع الْخَادِمُ ؟

ما مخذُولُ المُثابرُ

(۲)

مَا مُسَافِرُ أَخَوَاكَ

أَمُطِيعُ الْخَادِمُونَ ؟

مَا مَخْذُولُ الْمُثَابُرُونَ

(۳)

مَا مُسَافِرَانَ أَخَوَاكَ

أَمُطِيعُونَ الْخَادِمُونَ ؟

مَا مَخْذُولُونَ الْمُثَابُرُونَ

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۶

فصل المبتدأ والخبر

المبتدأ على قسمين:

(۱) مبتدأ له خبر

(ب) ومبتدأ له فاعل سد مسد الخبر

فالمبتدأ الذي له خبر: هو اسم مرفوع صريح أو مؤول في أول جملته غالبا مجرد من العوامل اللفظية الأصلية مخبر عنه، نحو: زيد قائم، وقوله تعالى: (وأن تصوموا خير لكم) .

اقرأ البقية (264)

والمبتدأ الذي له فاعل سد مسد الخير هو كل وصف مرفوع اعتمد على استفهام أو نفي، ورفع فاعلا ظاهرا، أو ضميرا منفصلا واستغنى بفاعله المرفوع ذلك عن الخبر في الإفادة وإتمام الجملة، نحو: أقائم الزيدان، أو أقائم أنتما.

والخبر: هو ما يكمل الجملة مع المبتدأ ويتم معناها الأساسي، بشرط أن يكون المبتدأ غير وصف، وإذا كان اسما مفردا يكون مسندا مرفوعا لفظا وإذا كان جملة أو شبه جملة يكون في محل رفع، نحو: الله أحد ، وزيد أبوه قائم

العامل في المبتدأ معنوي وهو "الابتداء" وهو كون الاسم مجرداً عن العوامل اللفظية الأصلية والعامل في الخبر لفظي وهو "المبتدأ"

أنواع المبتدأ:

المبتدأ يكون:

(۱) إما اسما معربا، نحو: زيد قائم

(ب) أو اسما مبنيا (ضيرا، أو اسم إشارة، أو اسما موصولا، أو اسم شرط .. الخ ستأتي تفاصيلها في مبحث الاسم المبني) نحو: أنا عربي (أنا ضمير مبني على السكون في محل رفع مبتدأ) وهذا كتاب (هذاء اسم إشارة مبني على السكون في محل رفع مبتدا) والذي يجتهد ينجح الذي اسم موصول مبني على السكون في محل رفع مبتدأ) ومن يزرع يحصد (من، اسم شرط مبني على السكون في محل رفع مبتدأ )

(ج) أو مصدرا مؤولا من "أن" المصدرية والفعل، نحو: أن تتحدوا خير لكم (المصدر المؤول من أن تتحدوا" أي اتحادكم مبتدأ)

مبتدا کی اقسام:

۱۔ مبتدا جس کی خبر ہو

۲۔ مبتدا جس کا فاعل خبر کی جگہ لے لے

مبتدا جس کی خبر ہو:

یہ وہ مرفوع اسم ہے جو عام طور پر جملے کے شروع میں ہوتا ہے اور اس پر کسی لفظی عامل کا اثر نہیں ہوتا، اور اس کے بارے میں خبر دی جاتی ہے، جیسے: "زيد قائم" (زید کھڑا ہے)، اور اللہ تعالیٰ کا قول: "وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ" (اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے)۔

مبتدا جس کا فاعل خبر کی جگہ لے لے:

یہ وہ مرفوع وصف ہوتا ہے جو استفہام یا نفی پر مبنی ہو، اور وہ ایک ظاہر یا مخفی فاعل کو مرفوع کرتا ہے، اور اس فاعل کے ذریعے جملے کو مکمل کر دیتا ہے، جیسے: "أقائم الزيدان؟" (کیا زیدان کھڑے ہیں؟)، یا "أقائم أنتما؟" (کیا تم دونوں کھڑے ہو؟)۔

خبر:

یہ وہ عنصر ہے جو جملے کو مبتدا کے ساتھ مکمل کرتا ہے اور اس کے معنی کو پورا کرتا ہے، بشرطیکہ مبتدا وصف نہ ہو۔ اگر خبر اسم مفرد ہو تو وہ مرفوع ہوتا ہے، اور اگر جملہ یا شبه جملہ ہو تو وہ محل رفع میں ہوتا ہے، جیسے: "الله أحد" (اللہ ایک ہے) اور "زيد أبوه قائم" (زید کا باپ کھڑا ہے)۔

مبتدا کا عامل معنوی ہوتا ہے اور وہ "ابتداء" کہلاتا ہے، یعنی یہ کہ اسم پر کوئی ظاہری عامل نہیں ہوتا۔

جبکہ خبر کا عامل لفظی ہوتا ہے، اور وہ "مبتدا" ہوتا ہے۔

مبتدا کی اقسام:

مبتدا تین طرح کا ہو سکتا ہے:

۱۔ معرب اسم: جیسے "زيد قائم" (زید کھڑا ہے)۔

۲۔ مبنی اسم: جیسے ضمیر، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول، یا اسمِ شرط وغیرہ۔ مثال کے طور پر:

"أنا عربي" (میں عربی ہوں) – "أنا" ایک ضمیر ہے جو مبتدا کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

"هذا كتاب" (یہ کتاب ہے) – "هذا" اسم اشارہ ہے جو مبتدا کے طور پر مرفوع ہے۔

"الذي يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، وہ کامیاب ہو گا) – "الذي" اسم موصول ہے جو مبتدا کے طور پر مرفوع ہے۔

"من يزرع يحصد" (جو بوئے گا، وہ کاٹے گا) – "من" اسم شرط ہے جو مبتدا کے طور پر مرفوع ہے۔

۳۔ مصدرمؤول: جو "أن" اور فعل سے بنا ہوا ہو ، مثال: "أن تتحدوا خير لكم" (تمہارا متحد ہونا تمہارے لیے بہتر ہے)۔

وہ مواقع جہاں نکرہ سے جملے کی ابتدا کی جا سکتی ہے:

۱۔ اضافہ کے ساتھ:

- جیسے: "كل يموت" (ہر شخص مرے گا) یعنی: "كل أحد" (ہر کوئی)۔

۲۔ تصغیر کے ساتھ:

- جیسے: "كتيب هذب أخلاقي" (ایک چھوٹی سی کتاب نے میری اخلاقیات کو سنوارا)، یعنی "كتاب صغير" (چھوٹی کتاب)۔

۳۔ خبر کی تقدیم:

- جیسے: "في الدار رجل" (گھر میں ایک آدمی ہے) اور "عند زيد كتاب" (زید کے پاس ایک کتاب ہے)۔

وہ مواقع جہاں نکرہ سے جملے کی عمومیت ہوتی ہے:

۱۔ اگر نکرہ شرطیہ اسم ہو:

- جیسے: "من سل سيف البغي قتل به" (جو شخص ظلم کی تلوار نکالے گا، اسے اسی سے قتل کیا جائے گا)۔

۲۔ اگر نکرہ اسم استفہام ہو:

- جیسے: "من فعل هذا؟" (یہ کس نے کیا؟) اور "ما عندك؟" (تمہارے پاس کیا ہے؟)۔

۳۔ اگر نکرہ استفہام یا نفی کے بعد آئے:

- جیسے: "هل رجل فيكم؟" (کیا تم میں کوئی آدمی ہے؟) اور "ما ظالم ناجح" (کوئی ظالم کامیاب نہیں ہوتا)۔

۴۔ اگر نکرہ "رب" کے بعد آئے:

- جیسے: "رب عذر أقبح من ذنب" (بہت سے بہانے گناہ سے زیادہ بدتر ہوتے ہیں)۔

تعريف المبتدأ وتنكيره:

الأصل في المبتدأ أن يكون معرفة، لأنه محكوم عليه والمحكوم عليه يجب أن يكون معلوما ولو إلى حد ما ليكون الحكم مفيدا، وذلك لأن الإخبار عن المجهول لا يفيد إذا السامع لا يعرفه فيتحير فيه فلا يستمع إلى ما يُخبر به عنه.

فإن أفادت النكرة جاز الابتداء بها، وتفيد النكرة :

(۱) إذا دلت على عموم (۲) أو دلت على خصوص

أما اختصاصها فيقربها من المعرفة.

وأما عمومها فيستغرق كل أفراد الجنس: (لا يراد فرد واحد منه) فتشبه المعرف بـ "أل" الجنسية.

تخصص النكرة التي يصح الابتداء بها:

أهم الأمور التي تتخصص بها النكرة، فيسوغ الابتداء بها ما يلي:

۱۔ الوصف لفظا، نحو: قوله تعالى : ولعبد مؤمن .

أو الوصف تقديرا، نحو: شرأھرذاناب أي شر عظيم.

۲۔ الإضافة لفظا، نحو: حلية الأدب . خير حلية

أو الإضافة معنى ، نحو: : كل يموت . أي كل أحد

۳۔ التصغير ، نحو: كتيب هذب أخلاقي أي كتاب صغير )

۴۔ تقديم الخبر الذي يكون ظرفا، نحو في الدار ،رجل، وعند زيد كتاب .

تعمم النكرة التي يصح الابتداء بها:

أهم الأمور التي تتعمم بها الفكرة، فيسوغ الابتداء بها ما يلي.

ا۔ إذا كانت اسم شرط ، نحو: من سل سيف البغي قتل به

٢۔ إذا كانت اسم استفهام، نحو: من فعل هذا؟ وما عندك ؟

۳۔ إذا وقعت بعد استفهام أو نفي ، نحو: هل رجل فيكم، ونحو: ما ظالم ناجح على لغۃ بني تميم الذين لا تعمل "ما على رأيهم)

۴۔ إذا وقعت بعد "رب" نحو رب عذر أقبح من ذنب.

مبتدا کا معرفہ اور نکرہ ہونا

مبتدا کا اصل قاعدہ یہ ہے کہ وہ معرفہ ہو، کیونکہ اس پر حکم لگایا جاتا ہے، اور جس چیز پر حکم لگایا جائے وہ کسی حد تک معلوم ہونی چاہیے تاکہ حکم مفید ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی نامعلوم چیز کی خبر دی جائے تو وہ فائدہ مند نہیں ہوگی، کیونکہ سننے والا اسے نہیں جانتا ہوگا اور تذبذب کا شکار ہوگا، لہذا وہ اس کے بارے میں دی جانے والی خبر کو نہیں سمجھے گا۔

لیکن اگر نکرہ کوئی فائدہ دے رہی ہو تو اس کا مبتدا ہونا جائز ہے، اور نکرہ درج ذیل صورتوں میں مفید ہوتی ہے:

۱۔ جب وہ عموم پر دلالت کرے

۲۔ جب وہ کسی خاص چیز پر دلالت کرے

اگر نکرہ کی تخصیص کی جائے تو وہ معرفہ کے قریب ہو جاتی ہے، اور اگر وہ عموم پر دلالت کرے تو وہ پورے جنس کے تمام افراد پر محیط ہو جاتی ہے، لہذا وہ معرفہ کی طرح ہو جاتی ہے، جیسے "أل" جنس کے لیے آتی ہے۔

وہ نکرہ الفاظ جنہیں مبتدا بنایا جا سکتا ہے

نکرہ کی وہ صورتیں جن میں اسے مبتدا بنانا جائز ہوتا ہے، درج ذیل ہیں:

۱۔ جب وہ لفظی یا معنوی طور پر موصوف ہو:

لفظی صفت کے ساتھ: جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: "وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ" (اور مؤمن غلام، مشرک سے بہتر ہے)۔

تقدیری صفت کے ساتھ: جیسے "شرٌ أهرذاناب" (یعنی بہت بڑا شر)۔

۲۔ جب وہ اضافت کے ساتھ مخصوص ہو:

لفظی اضافت کے ساتھ: جیسے "حليةُ الأدبِ خيرُ حليةٍ" (ادب کی زینت سب سے بہترین زینت ہے)۔

معنوی اضافت کے ساتھ: جیسے "كلُّ يموتُ" (یعنی ہر کوئی مرتا ہے، یعنی ہر شخص)۔

۳۔ جب اس میں تصغیر (چھوٹے پن) کا مفہوم ہو:

جیسے "كُتَيِّبٌ هَذَّبَ أَخْلاَقِي" (یعنی ایک چھوٹی سی کتاب نے میری اخلاقیات سنواری)۔

۴۔ جب اس کا خبر مقدم ہو اور وہ ظرف ہو:

جیسے "في الدارِ رجلٌ" (گھر میں ایک آدمی ہے)۔

جیسے "عند زيدٍ كتابٌ" (زید کے پاس ایک کتاب ہے)۔

وہ نکرہ الفاظ جو عموم پر دلالت کرتے ہیں اور مبتدا بن سکتے ہیں

نکرہ کے وہ الفاظ جو عموم کی دلالت رکھتے ہیں اور جنہیں مبتدا بنانا جائز ہوتا ہے، درج ذیل ہیں:

۱۔ اگر وہ اسم شرط ہو:

جیسے "مَن سَلَّ سيفَ البغيِ قُتِلَ بهِ" (جو شخص ظلم کی تلوار اٹھائے گا، اسی سے قتل ہوگا)۔

۲۔ اگر وہ اسم استفہام ہو:

جیسے "مَن فعلَ هذا؟" (یہ کس نے کیا؟)

جیسے "ما عندكَ؟" (تمہارے پاس کیا ہے؟)

۳۔ اگر وہ کسی استفہامیہ یا منفی جملے کے بعد آئے:

جیسے "هل رجلٌ فيكم؟" (کیا تم میں کوئی آدمی ہے؟)

جیسے "ما ظالمٌ ناجحٌ" (کوئی ظالم کامیاب نہیں)۔

(یہ جملہ بنی تمیم کے لغوی اصول کے مطابق ہے، جن کے ہاں "ما" عامل نہیں ہوتی)۔

۴۔ اگر وہ "رُبَّ" کے بعد آئے:

جیسے "ربّ عذرٍ أقبحُ من ذنبٍ" (بعض اوقات عذر، گناہ سے بھی بدتر ہوتا ہے)۔

مرتبة المبتدأ والخبر:

الأصل في المبتدأ "التقديم لأنه محكوم عليه

والأصل في الخبر "التأخير" لأنه محكوم به.

ويجوز خلاف هذا الأصل أي : تقديم الخبر وتأخير المبتدأ إذا لم يوجد ما يوجب تقديم المبتدأ أو الخبر، نحو قائم زيد وهناك مواضع يجب فيها تقديم المبتدأ. أو الخبر وهي كما يلي:

يتقدم المبتدأ على الخبر وجوبا في أربعة مواضع:

أولا: إذا كان المبتدأ من الألفاظ التي لها الصدارة بنفسها (وهي اسماء الاستفهام والشرط، وما التعجبية، وكم الخبرية، والموصول الذي اقترن خبره بالفاء نحو من بالباب؟ ومن يجتهد ينجح، وما أحسن الأدب، وكم كتب عندي، الذي ينجح بالمرتبة الأولى فله جائزة.

أولها الصدارة بغيرها، وهي الألفاظ التي دخلت عليها لام الابتداء، أو كانت مضافة إلى ماله الصدارة) نحو: لمحمد خاتم النبيين، وكتاب من عِنْدَكَ ؟ وَمَالُ كَمْ رِجَالٍ عِندي.

ثانيا: إذا كان المبتدأ محصورا بـ"إنما" أو "إلا" والخبر محصورا فيه، نحو: إنما البحتري شاعر وما البحتري الاشاعر.

ثالثا: إذا كان الخبر جملة فعلية فاعلها ضمير مستتر يعود على المبتدأ نحو الحق يعلو .

رابعا: إذا كان المبتدأ والخبر معرفتين متساويتين في التعريف، أو نكرتين - متساويتين في التخصيص، ولا قرينة تبين المراد نحو: كتابي رفيقي، وأكبر منك سنا - أكثر منك تجربة

ويتقدم الخبر على المبتدأ وجوبا في أربعة مواضع:

أولا: إذا كان الخبر من الألفاظ التي لها الصدارة وهي أسماء الاستفهام، مثل: أين ومتى وكيف) -

نحو: أين العصفور، ومتى السفر، وكيف الحال

ثانيا: إذا كان الخبر محصورا بـ "إنما" أو "إلا" والمبتدأ محصورا فيه نحو إنما في البيت الأهل وما في البيت إلا الأهل.

ثالثا: إذا كان الخبر ظرفا أو جارا ومجرورا، والمبتدأ نكرة لا مسوغ لكونها مبتدأ إلا تقدم الخبر، نحو: عندي كتاب، وعلى المكتب قلم .

رابعا: إذا كان المبتدأ مشتملا على ضمير يعود على بعض الخبر، نحو: في المدرسة تلاميذها.

من المواضع التي يحذف فيها المبتدأ ما يلي:

ا۔ يحذف عادة المبتدأ من العناوين، كعناوين الكتب والقصص والصحف ... الخ. مثال العنوان: "حالات رفع الاسم وتقديره هذه حالات رفع الاسم وقد حذف المبتدأ)

۲۔ ويحذف المبتدأ إذا كان الخبر مصدرا مرفوعا نائبا عن فعله، أي يؤدي معناه ويغني عن التلفظ به، مثل: صبر جميل وتقديره: صبري صبر جميل، وقد حذف المبتدأ )

۳۔ ويحذف المبتدأ إذا دل عليه دليل، مثل أن تقول: " على المكتب جوابا لمن سأل أين الكتاب ؟ (أي الكتاب على المكتب، وقد حذف المبتدأ)

مبتدا اور خبر کی ترتیب

اصول کے مطابق مبتدا پہلے آتا ہے کیونکہ اس پر حکم لگایا جاتا ہے، اور خبر بعد میں آتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے حکم لگایا جاتا ہے۔

تاہم، اس اصول کے خلاف بھی عمل ہو سکتا ہے، یعنی خبر کو پہلے اور مبتدا کو بعد میں لایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کوئی ایسی وجہ نہ ہو جو مبتدا یا خبر کو اپنی اصل جگہ پر لانے پر مجبور کرے، جیسے: "قائم زيد" (زید کھڑا ہے)۔

لیکن کچھ مواقع پر مبتدا یا خبر کو اپنی اصل جگہ پر لانا ضروری ہوتا ہے:

مبتدا کو چار مواقع پر خبر سے پہلے لانا ضروری ہے:

۱۔ جب مبتدا وہ الفاظ ہوں جنہیں جملے میں خودبخود ابتدا کا مقام حاصل ہوتا ہے، جیسے اسماءاستفہام (من، ما)، اسماءشرطیہ (من، ما)،"ما" تعجبیہ ،"كم" خبریہ ، اور اسماء موصولہ جن کے ساتھ فاء آئی ہو، جیسے:

- "من بالباب؟" (دروازے پر کون ہے؟)

- "من يجتهد ينجح" (جو محنت کرتا ہے، وہ کامیاب ہوتا ہے)

- "ما أحسن الأدب!" (ادب کتنا اچھا ہے!)

- "كم كتب عندي!" (میرے پاس کتنی کتابیں ہیں!)

- "الذي ينجح بالمرتبة الأولى فله جائزة" (جو پہلی پوزیشن حاصل کرے گا، اس کے لیے انعام ہے)۔

جب مبتدا وہ الفاظ ہوں جن پر "لامِ ابتدا" داخل ہو، یا وہ کسی ایسے لفظ کی طرف مضاف ہو جسے ابتدا کا مقام حاصل ہو، جیسے:

- "لَمحمد خاتم النبيين" (محمد خاتم النبیین ہیں)

- "كتاب من عندك؟" (یہ کتاب آپ کے پاس سے آئی ہے؟)

- "مالُ كم رجالٍ عندي" (میرے پاس کتنے آدمیوں کا مال ہے)۔

۲۔ جب مبتدا "إنما" یا "إلا" کے ذریعے محصور ہو، جیسے:

- "إنما البحتري شاعر" (البحتری صرف شاعر ہے)

- "ما البحتري إلا شاعر" (البحتری شاعر کے سوا کچھ نہیں)۔

۳۔ جب خبر جملہ فعلیہ ہو اور اس کا فاعل ایک ضمیر مستتر ہو جو مبتدا کی طرف لوٹ رہا ہو، جیسے:

- "الحق يعلو" (حق بلند ہوتا ہے)۔

۴۔ اگر مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں اور تعریف میں برابر ہوں، یا دونوں نکرہ ہوں اور تخصیص میں برابر ہوں، اور کوئی ایسی قرینہ موجود نہ ہو جو مراد کو واضح کرے، جیسے: کتابی رفیقی (میری کتاب میرا ساتھی ہے)،

وأكبر منك سنا - أكثر منك تجربة (تم سے عمر میں بڑا، تم سے زیادہ تجربہ کار)۔

خبر کو چار مواقع پر مبتدا سے پہلے لانا ضروری ہے:

۱۔ جب خبر وہ الفاظ ہوں جنہیں جملے میں ابتدا کا مقام حاصل ہوتا ہے، جیسے استفہامیہ اسماء (أين، متى، كيف)، جیسے:

- "أين العصفور؟" (چڑیا کہاں ہے؟)

- "متى السفر؟" (سفر کب ہے؟)

- "كيف الحال؟" (حال کیسا ہے؟)۔

۲۔ جب خبر "إنما" یا "إلا" کے ذریعے محصور ہو، جیسے:

- "إنما في البيت الأهل" (گھر میں صرف اہلِ خانہ ہیں)

- "ما في البيت إلا الأهل" (گھر میں اہلِ خانہ کے سوا کوئی نہیں)۔

۳۔ جب خبر ظرف یا جار و مجرور ہو، اور مبتدا نکرہ ہو جسے مبتدا بننے کے قابل بنانے کے لیے خبر کو پہلے لانا ضروری ہو، جیسے:

- "عندي كتاب" (میرے پاس ایک کتاب ہے)

- "على المكتب قلم" (میز پر ایک قلم ہے)۔

۴۔ جب مبتدا میں ایک ضمیر ہو جو خبر کے کسی حصے کی طرف لوٹتا ہو، جیسے:

- "في المدرسة تلاميذها" (اسکول میں اس کے طلباء ہیں)۔

وہ مواقع جہاں مبتدا کو حذف کیا جاتا ہے:

۱۔ مبتدا کو عام طور پر کتابوں، کہانیوں، اور اخباری سرخیوں میں حذف کیا جاتا ہے، جیسے:

- عنوان: "حالات رفع الاسم" (یہ دراصل "هذه حالات رفع الاسم" ہے اور اس میں مبتدا حذف کیا گیا ہے)۔

۲۔ جب خبر ایک مصدر ہو جو اپنے فعل کی جگہ لے اور جملے کو مکمل کرنے کے لیے مبتدا کی ضرورت نہ ہو، جیسے:

- "صبر جميل" (صبر بہترین ہے)، اس کا اصل جملہ ہے: "صبري صبر جميل" (میرا صبر بہترین ہے)، جس میں مبتدا حذف ہو چکا ہے۔

۳۔ جب مبتدا پر کوئی دلیل ہو تو اسے حذف کیا جا سکتا ہے، جیسے:

- "على المكتب" (میز پر ہے)، جواباً جب کوئی پوچھے: "أين الكتاب؟" (کتاب کہاں ہے؟)، تو اس کا مطلب ہے: "الكتاب على المكتب" (کتاب میز پر ہے)، اور مبتدا حذف ہو چکا ہے۔

مطابقة الخبر للمبتدأ :

الخبر يطابق المبتدأ في العدد (الإفراد، والتثنية، والجمع) وفي النوع (التذكير والثانية) مثل: المدرس حاضر ، المدرسان حاضران المدرس والطالب حاضران المدرستان حاضرتان، المدرسون حاضرون المدرسات حاضرات.

وإذا كان المبتدأ جمعا لغير عاقل (مثل: الجبال السيارات .. الخ) جاز أن يكون الخبر مفردا .مؤنثا أو جمعا مؤنثا، مثل: الجبال عالية، أو عاليات السيارات مسرعة أو مسرعات.

تلزم المطابقة المذكورة إذا كان الخبر المفرد مشتقاء مشتملا على ضمير عائد إلى المبتدأ كالأمثلة المذكورة وإذا كان جامدا غير مشتمل على ضمير فلا تلزم فيه المطابقة نحو السكوت سلامة، القناعة غنى ، يداك ورجلاك رحمة من الله.

خبر کا مبتدا سے مطابقت کرنا :

خبر کو مبتدا کے ساتھ عدد (واحد، تثنیہ، اور جمع) اور جنس (مذکر اور مؤنث) میں مطابقت کرنی ہوتی ہے، جیسے:

- "المدرس حاضر" (استاد حاضر ہے)

- "المدرسان حاضران" (دو استاد حاضر ہیں)

- "المدرس والطالب حاضران" (استاد اور طالب علم دونوں حاضر ہیں)

- "المدرستان حاضرتان" (دو خواتین استاد حاضر ہیں)

- "المدرسون حاضرون" (تمام مرد استاد حاضر ہیں)

- "المدرسات حاضرات" (تمام خواتین استاد حاضر ہیں)۔

اگر مبتدا غیر ذی عقل (غیر انسان) کے جمع کی شکل میں ہو، جیسے "الجبال" (پہاڑ) یا "السيارات" (گاڑیاں)، تو خبر مؤنث واحد یا مؤنث جمع دونوں ہو سکتی ہے، جیسے:

- "الجبال عالية" (پہاڑ بلند ہیں) یا "الجبال عاليات" (پہاڑ بلند ہیں)۔

- "السيارات مسرعة" (گاڑیاں تیز ہیں) یا "السيارات مسرعات" (گاڑیاں تیز ہیں)۔

خبر اور مبتدا کے درمیان مذکورہ مطابقت اس وقت ضروری ہوتی ہے جب خبر مشتق ہو اور اس میں مبتدا کی طرف لوٹنے والا ضمیر موجود ہو، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔ لیکن اگر خبر جامد ہو اور اس میں کوئی ضمیر نہ ہو، تو مطابقت لازمی نہیں ہوتی، جیسے:

- "السكوت سلامة" (خاموشی حفاظت ہے)

- "القناعة غنى" (قناعت دولت ہے)

- "يداك ورجلاك رحمة من الله" (تمہارے ہاتھ اور پاؤں اللہ کی رحمت ہیں)۔

أنواع الخبر:

الخبر ثلاثة أنواع: مفرد، وشبه جملة، وجملة:

(۱) الخبر المفرد: يكون إما اسما جامدا وإما اسما مشتقا.

والاسم الجامد هو مالم يؤخذ من غيره، مثل: الفرات نهر، والسكوت سلامة فكلمنا نهر وسلامة، اسمان جامدان وقعا خبرا مفردا)

والاسم المشتق هو ما أخذ من الفعل ودل على صفة، مثل: العلم نافع، المهذبون محبوبون.

(ب) الخبر شبه الجملة: (جارو مجرور أو ظرف)

هو المُتعلق المحذوف لكل من الظرف والجار والمجرور مثل: الجنة تحت أقدام الأمهات، والحمد لله، فإذا قدر المتعلق المحذوف وصفا كان الخبر من قبيل (المفرد) مثل: كائنة في المثال الأول و كائن في الثاني، وإذا قدر التعلق المحذوف فعلا كان الخبر من قبيل (الجملة) مثل تكون في المثال الأول، و "يكون في الثاني وهذا المتعلق إذا دل على وجود مطلق (كـ يكون، وكائن ) وما شاكلهما وجب حذن لفقدان الفائدة من ذكره.

وأما إذا دل على وجود مقيد بصفة، ولم يدل عليها دليل وجب ذكره، مثل: الطيور مغردة فوق الشجرة (رجب ذكر مفردة لأنه لا يوجد في الجملة دليل يدل على التغريد) وإن دل عليها دليل يحذف، مثل: الفارس فوق الجواد، أي: راكب فوق الجواد (كلمة "الفارس " دليل يدل على الركوب)

(ج) الجملة الخبرية تكون إما :

۱۔ جملة فعلية، مثل: الشمس أشرقت أشرقت: فعل ماض فاعله ضمير مستتر تقديره: هي، والفعل والفاعل جملة فعلية في محل رفع خبر المبتدأ )

۲۔ أو جملة اسمية، مثل: النجاح أساسه العمل أساسه العمل: جملة اسمية في محل رفع خبر المبتدأ) ۔ ۔ والغالب في هذه الجملة أن تكون خبرية . وقد تأتي إنشائية نادرا فتقع خبراء نحو: سليم لا تضربه (لا تضربه جملة إنشائية وقعت خبرا عن "سليم )

يلزم في الجملة الواقعة خبراً أن تكون مشتملة على رابط (من ضمير أو غيره) يربطها بالمبتدأ مثل: زيد قام أبوه، الفوز سببه الاجتهاد.

تعدد الخبر:

يجوز أن يكون للمبتدأ الواحد أخبار متعددة، مثل: زيد عالم، فاضل، عاقل.

خبر کی اقسام:

خبر کی تین اقسام ہیں: مفرد، شبه جملة، اور جملة:

۱۔ خبر مفرد:

خبر مفرد دو طرح کا ہوتا ہے: اسم جامد یا اسم مشتق۔

- اسم جامد وہ اسم ہے جو کسی اور سے ماخوذ نہ ہو، جیسے:

- الفرات نهر (دریا فرات ایک دریا ہے)

- السكوت سلامة (خاموشی سلامتی ہے)۔

یہاں "نهر" اور "سلامة" جامد اسم ہیں جو خبر مفرد کے طور پر آئے ہیں۔

- اسم مشتق وہ اسم ہے جو فعل سے ماخوذ ہو اور صفت کا اظہار کرے، جیسے:

- العلم نافع (علم فائدہ مند ہے)

- المهذبون محبوبون (تربیت یافتہ لوگ محبوب ہیں)۔

۲۔ خبر شبه جملة (جار و مجرور یا ظرف):

یہ وہ خبر ہوتی ہے جو متعلق محذوف کے ساتھ ہوتی ہے(جار و مجرور یا ظرف)۔

- جیسے: الجنة تحت أقدام الأمهات (جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے) اور الحمد لله (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔

یہاں "تحت" اور "لله" میں متعلق محذوف موجود ہے۔ اگر متعلق محذوف کو وصف سمجھا جائے تو خبر مفرد ہوگی، جیسے:

- "كائنة" (موجود ہے) اور "كائن" (موجود ہے)۔

اگر متعلق محذوف کو فعل سمجھا جائے تو خبر جملہ ہوگی، جیسے:

- "تكون" (ہوتی ہے)۔

- اگر متعلق محذوف مطلق وجود پر دلالت کرے، جیسے: "يكون" (ہوتا ہے)، تو اسے حذف کرنا واجب ہوتا ہے کیونکہ ذکر کرنے میں فائدہ نہیں ہوتا۔

۳۔ جملة خبرية :

یہ دو طرح کی ہوتی ہے:

- جملة فعلية:

جیسے: الشمس أشرقت (سورج طلوع ہو چکا ہے)۔ یہاں "أشرقت" ایک فعل ماضی ہے جس کا فاعل ضمیر مستتر ہے جو سورج کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور یہ جملہ فعلیہ خبر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

- جملة اسمية:

جیسے: النجاح أساسه العمل (کامیابی کی بنیاد محنت ہے)۔ یہاں "أساسه العمل" ایک جملہ اسمية ہے جو خبر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

رابطہ کی شرط:

جملہ خبر میں یہ لازمی ہے کہ اس میں کوئی رابطہ ہو جو اسے مبتدا سے جوڑتا ہو، جیسے:

- زيد قام أبوه (زید کا والد کھڑا ہوا)

- الفوز سببه الاجتهاد (کامیابی کا سبب محنت ہے)۔

تعدد خبر:

ایک مبتداء کے کئی اخبار ہو سکتے ہیں، جیسے:

- زيد عالم، فاضل، عاقل (زید عالم، فاضل، اور عاقل ہے)۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۳) سبق:۱۱

جملہ اسمیہ مبتدا اور خبر سے مل کر بنتا ہے، مبتدا اس اسم کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی اطلاع دی جائے اور خبر وہ اسم ہے جس کے ذریعہ سے اطلاع دی جائے، جیسے: الْقَمَرُ جَمِيلٌ چاند خوبصورت ہے۔

اس جملہ میں آپ الْقَمَرُ (چاند) کے بارے میں اطلاع دینا چاہتے ہیں اس لئے یہ مبتدا ہے، اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ جَمِيلٌ (خوبصورت ہے) لہذا وہ خبر ہے۔

مبتدا اور خبر دونوں مرفوع ہوں گے۔

ا۔ مبتدا کے احکام

مبتدا کی قسمیں:

ا۔ مبتدا یا تو اسم ہوگا یا ضمیر ہوگا، جیسے:

اللَّهُ رَبُّنَا. اللہ تعالی ہمارا پروردگار ہے۔

الْقِرَاءَةُ مُفِيدَةٌ. پڑھنا فائدہ مند ہے۔

اقرأ البقية (56)

الْجُلُوْسُ هُنَا مَمْنُوْعٌ. یہاں بیٹھنا منع ہے۔

نَحْنُ طُلاب. ہم طلبہ ہیں۔

ب: مصدر مؤول، جیسے:

وَ أَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ﴾ [البقرة: ۱۸۴] اور تم روزہ رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔

وَ أَنْ تَعْفُوْا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى [البقرة ۲۳۷] اور تم معاف کر دو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے۔

مبتدا معرفہ ہوتا ہے:

جیسے: مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله محمد صلى الله عليه وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ (مُحَمَّدٌ معرفہ ہے اس لئے کہ وہ ایک متعین شخص کا نام ہے )

أَنَا مُدَرِّسٌ. میں استاذ ہوں۔ ( انا معرفہ ہے اس لئے کہ وہ ضمیر ہے )۔

هذَا مَسْجِدٌ. یہ مسجد ہے۔ (هذا معرفہ ہے اس لئے کہ وہ اسم اشارہ ہے )۔

الَّذِي يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مُشْرِكٌ. جو غیر اللہ کی عبادت کرے وہ مشرک ہے۔ (الذي معرفہ ہے اس

لئے کہ وہ اسم موصول ہے )

الْقُرْآنُ كِتَابُ الله قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔ (الْقُرْآنُ معرفہ ہے اس لئے کہ اس پر ال داخل ہے)

مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلاة جنت کی کنجی نماز ہے۔ (مفتاح معرفہ ہے اس لئے کہ وہ معرفہ کی طرف مضاف ہے)۔

مندرجہ ذیل صورتوں میں مبتدا نکرہ بھی ہوسکتا ہے:

(۱) خبر شبه جملہ ہو، شبہ جملہ کی دوصورتیں ہیں:

ا: جار مجرور، جیسے: فِي الْبَيْتِ، عَلَى الْمَكْتَبِ، كَالْمَاءِ.

ب: ظرف، جیسے: اَلْيَومَ ، غَدًا، تَحْتَ، فَوْقِ، عِنْدَ.

اس صورت میں خبر مبتدا سے پہلے ہوگی، جیسے: فِی الْعَرْفَةِ رَجُلٌ۔ کمرہ میں ایک آدمی ہے ۔ اس جملہ میں فِی الْغُرْفَةِ خبر ہے اور رَجُلٌ مبتدا ہے جب کہ رَجُلٌ فِی الْغُرْفَةِ جملہ نہیں ہے، اسی طرح لِي أَخ میرا ایک بھائی ہے۔ اس جملہ میں اسم نکرہ أخ مبتدا ہے۔

تَحْتَ الْمَكْتَب سَاعَةٌ میز کے نیچے ایک گھڑی ہے۔ اس جملہ میں ساعة مبتدا ہے اور تحت الْمَكْتَبِ خبر جب کہ سَاعَةٌ تَحْتَ الْمَكْتب جملہ نہیں ہے، اسی طرح عِنْدَنَا سَيَّارَةً ہمارے پاس ایک کا رہے۔

(۲) مبتدا اسم استفہام ہو، جیسے: مَنْ:کون، ما:کیا، کم:کتنا وغیرہ اسماء، جیسے:

مَابِكَ؟ تمہیں کیا ہوا؟ (تمہیں کیا تکلیف / پریشانی ہے؟ اس جملہ میں اسم استفہام ما مبتدا ہے اور شبہ جملہ بک خبر ہے۔

مَنْ مَرِيضٌ ؟ کون بیمار ہے؟ یہاں مَنْ مبتدا اور مَرِيضٌ خبر ہے۔

كُمْ طَالِبًا فِي الْفَضْلِ؟ درجہ میں کتنے طلبہ ہیں؟ یہاں کَم مبتدا ہے اور شبہ جملہ فِي الفَضلِ خبر ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی کئی صورتوں میں مبتد انکرہ ہوسکتا ہے ۔

مبتدا اور خبر کے احکام ( تقدیم اور تاخیر کے لحاظ سے )

عام طور پر مبتدا خبر سے پہلے ہوتا ہے، جیسے: أَنتَ مُدَرِّس تم استاذ ہو۔ لیکن یہ قاعدہ الٹ بھی سکتا ہے، جیسے: أَمَدَرِّسُ أَنْتَ؟ کیا تم استاذ ہو؟ عجیب هذا یہ تو عجیب ہے۔ لیکن مبتدا اگر اسم استفہام ہو تو لازما وہ خبر سے پہلے ہوگا، جیسے: مَابكَ ؟ مَنْ مَرِيضٌ؟

اور مندرجہ ذیل صورتوں میں خبر لازما مبتدا سے پہلے ہوگی:

الف - خبر اسم استفہام ہو، جیسے: مَا اسْمُكَ ؟ یہاں اسم مبتدا ہے اور ما خبر ۔

ب:۔ خبر شبہ جملہ ہو اور مبتدا نکرہ، جیسے:

فِي الْمَسْجِدِ رِجَالٌ مسجد میں کئی آدمی ہیں۔

أَمَامَ الْبَيْتِ شَجَرَةٌ. گھر کے سامنے ایک درخت ہے۔

مبتدا یا خبر کو حذف کرنا

مبتدا یا خبر کو اس وقت حذف کیا جا سکتا ہے جب کہ وہ پہلے سے معلوم ہوں، جیسے: ما اسمک کے جواب میں کوئی کہے: حَامِدٌ، یہاں حَامِدٌ خبر ہے اور مبتدا محذوف ہے، مکمل جملہ یوں ہے: اِسْمِي حَامِدٌ ، لیکن مبتدا بغیر ذکر کئے بھی سمجھ میں آجا رہا ہے اس لئے اس کو حذف کر دیا گیا۔

اسی طرح مَنْ يَعْرِف کون جانتا ہے؟ کے جواب میں انا کہنا، انا یہاں مبتدا ہے اور خبر محذوف، پورا جملہ یوں ہے: أنا أغرف.

خبر کے احکام

خبر کی تین قسمیں ہیں: مفرد، جملہ، شبہ جملہ۔

ا۔ مفرد ( جو جملہ نہ ہو) جیسے:

اَلْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِن مومن مومن کا آئینہ ہے۔ (۱)

۲۔ جملہ، خواہ جملہ اسمیہ ہو یا جملہ فعلیہ، جیسے: بِلال أَبُوهُ وَزِيْرٌ بلال کے والد وزیر ہیں ۔ یہاں بلال مبتدا ہے اور جملہ اسمیہ أَبُوهُ وَزِيْرٌ خبر، اور ابوهُ مبتدا ہے اور وزیر اس کی خبر (اس طرح پورا جملہ اسمیہ : أبوه وزير مبتدا: بلال کی خبر ہے) اسی طرح الْمُدِيرُ مَا اسْمُهُ ؟ ہیڈ ماسٹر کا نام کیا ہے؟ یہاں المدير مبتدا ہے اور جملہ اسميه: مَا اسْمُہ اس کی خبر ، اس جملہ خبریہ میں ماخبر مقدم ہے اور اسْمُهُ مبتدا ۔

الطلاب دَخَلُوا طلبہ داخل ہوئے۔ یہاں الطلاب مبتدا ہے اور جملہ فعلیہ دَخَلُوا خبر ہے۔

وَاللهُ خَلَقَكُمْ. اور اللہ ہی نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ یہاں الله مبتدا ہے اور جملہ فعلیہ خَلَقَكُمْ خبرہے۔

۳- شبه جمله ( ظرف یا جار مجرور ) جیسے:

الْحَمْدُ لِله تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ یہاں الحمد مبتدا ہے اور جار مجرور لِلَّهِ (لِ + الله ) خبر ہے اور محل رفع میں ہے۔

الجنّة تَحْتَ ظِلال السُّيُوفِ. جنت تلواروں کے سایے تلے ہے۔

(۲) یہاں اَلْجَنَّة مبتدا ہے اور ظرف تخت خبر ہے اور ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب اور خبر واقع ہونے کی بناء پرمحل رفع میں ہے۔

مبتدا اور خبر کے درمیان موافقت

خبر عدد اور جنس میں مبتدا کے موافق ہوگی، جیسے:

( ا ) ۔عدد میں: اَلْمُدَرِّسُ وَاقِفٌ وَالطُّلابُ جَالِسُوْنَ ، بَابَا الْفَصْلِ مُغْلَقَان وَنَافِذَتَانِ مَفْتُوْحَتَان یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اگر مبتدا مفرد ہے تو تو خبر بھی مفرد ہے، مبتدامثنی ہے تو خبر بھی مثنی ہے اور مبتدا جمع ہے تو خبر بھی جمع ہے۔

(۲) ۔ جنس میں : حَامِدٌ مُهَنْدِسٌ ، وَزَوْجَتُهُ طَبيبةٌ، وَابْنَاهُمَا تَاجران، وَبِنتَاهُمَا مُدَرِّستان یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اگر مبتدامذ کر ہے تو تو خبر بھی مذکر ہے، مبتدا مونث ہے تو خبر بھی مؤنث ہے۔

المفصل

المفصل۔ سبق:۶

المبتدأ والخبر

تعريفهما هما الإسمان المجردان للإسناد نحو قولك زيد منطلق. والمراد بالتجريد اخلاؤهما من العوامل التي هي كان وإن وحسبت وأخواتها، لأنهما إذا لم يخلوا منها تلعبت بهما وغصيتهما القرار على الرفع. وإنما اشترط في التجريد أن يكون من أجل الإسناد لأنهما لو جردا للإسناد لكانا في حكم الأصوات التي حقها أن ينعق بها غير معربة لأن الإعراب لا يستحق إلا بعد العقد والتركيب. وكونهما مجردين للإسناد هو رافعهما لأنه معنى قد تناولهما معاً تناولاً واحداً من حيث أن الإسناد لا يتأتى بدون طرفين مسند ومسند إليه. ونظير ذلك أن معنى التشبيه في كأن لما اقتضى مشبها و مشبها به كانت عامله في الجزءين وشبههما بالفاعل أن المبتدأ مثله في أنه مسند إليه والخبر في أنه جزء ثان من الجملة.

أنواع المبتدأ

والمبتدأ على نوعين معرفة وهو القياس، ونكرة إما موصوفة كالتي في قوله عز وجل: " ولعبد مؤمن" وإما غير موضوفة كالتي في قولهم أرجل في الدار أم امرأة، وما أحد خير منك، وشر أهر ذا ناب، وتحت رأسي سرج، و علی ابیہ درع

أنواع الخبر

والخبر على نوعين مفرد وجملة. فالمفرد على ضربين خال عن الضمير ومتضمن له وذلك زيد غلامك وعمرو منطلق والجملة على أربعة أضرب فعليه واسمية وشرطية وظرفية. وذلك زيد ذهب أخوه، وعمرو أبوه منطلق، وبكر أن تعطه يشكرك ، وخالد في الدار .

اقرأ البقية (22)

ولا بد في الجملة الواقعة خبراً من ذكر يرجع إلى المبتدأ وقولك في الدار معناه استقر فيها. وقد يكون الراجع معلوماً فيستغنى عن ذكره وذلك في مثل قولهم الكر بستين والسمن منوان بدرهم. وقوله تعالى : " ولمن صبر وغفر إن ذلك لمن عزم الأمور".

تقدم الخبر على المبتدأ:

ويجوز تقديم الخبر على المبتدأ كقولك تميمي أنا، ومشنو من يشنوك، وكقوله تعالى : " سواء محياهم ومماتهم" وسواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم" ، المعنى سواء عليهم الإنذار وعدمه. وقد التزم تقديمه فيما وقع فيه المبتدأ نكرة والخبر ظرفاً وذلك قولك في الدار رجل.

وأما سلام عليك وويل لك وما أشبههما من الأدعية فمتروكة على حالها إذا كانت منصوبة منزلة منزلة الفعل. وفي قولهم أين زيد وكيف عمرو ومتى القتال.

حذف المبتدأ أو الخبر

ويجوز حذف أحدهما. فمن حذف المبتدأ قول المستهل الهلال والله، وقولك وقد شممت ريحاً: المسك والله، أو رأيت شخصاً فقلت: عبد الله وربي. ومنه قول المرقش:

لا يبعد الله التلبب وال غارات إذ قال الخميس نعم

ومن حذف الخبر قولهم خرجت فإذا السبع، وقول ذي الرمة:

فيا ظبية الوعساء بين جلاجل وبين النقا أنت أم أم سالم

ومنه قوله تعالى: " فصبر جميل" يحتمل الأمرين أي فأمري صبر جميل أو فصبر جميل أجمل. وقد التزم حذف الخبر في قوهم لولا زيد لكان كذا لسد الجواب مسدة. ومما حذف فيه الخبر لسد غيره مسده قولهم أقائم الزيدان، وضربي زيداً قائماً، وأكثر شربي السويق ملتوناً، وأخطب ما يكون الأمير قائماً وقولهم كل رجل وضيعته.

وقد يقع المبتدأ والخبر معرفتين كقولك زيد المنطلق، والله إليهنا، ومحمد نبينا. ومنه قوله أنت أنت وقول أبي النجم

أنا أبو النجم وشعري شعري

ولا يجوز تقديم الخبر هنا بل أيهما قدمت فهو المبتدأ

تعدد الخبر

وقد يجيئ للمبتدأ خبران فصاعداً منه قولك هذا حلو حامض. وقوله تعالى : " وهو الغفور الودود ذو العرش المجيد فعال لما يريد".

دخول الفاء على الخبر

إذا تضمن المبتدأ معنى الشرط جاز دخول الفاء على خبره، وذلك على نوعين الأسم الموصول والنكرة الموصوفة إذا كانت الصلة أو الصفة فعلاً أو ظرفاً كقوله تعالى : " الذين ينفقون أموالهم بالليل والنهار سراً وعلانية فلهم أجرهم عند ربهم وقوله: " فما بكم من نعمة فمن الله وقولك كل رجل يأتيني أو في الدار فله درهم. وإذا أدخلت ليت أو لعل لم تدخل الفاء بالإجماع. وفي دخول إن خلاف بين الإخفش وصاحب الكتاب.