Grammar

The map

  • حروف اصلیہ کے اعتبار سے
    • مثال (معتلل الفاء)
    • اجوف (معتلل العین)
    • ناقص (معتلل الام)
    • لفیف کابیان
    • مضاعف کا بیان
    • مھموز کا بیان

1 The rule

تعریف

اجوف : وہ فعل جس کے عین کلمہ میں حرفِ علت ہو۔

مثال: قَالَ (اس نے کہا)، بَاعَ (اس نے بیچا)

2 اجوف کا بیان (کتاب الصرف : سبق ۳۲ ،۳۳)

اجوف واوی ابواب ذیل سے آتاہے۔

۱۔نَصَرَ یَنْصُرُ سے جیسے قَالَ یَقُولُ (القَولُ بات کرنا)

۲۔سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے خَافَ یَخَافُ (الخَوفُ ڈرنا)

اجوف یائی ابواب ذیل سے آتاہے

۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ سے جیسے بَاعَ یَبِیعُ (البیعُ بیچنا)

۲۔سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے نَالَ یَنَالُ (النَیلُ پانا)

ان میں سے سمع یسمع کثیر الوقوع ہےاور اس سے کم ضرب یضرب اور سب سے کم نصر ینصر

اجوف کے متعدد صیغوں میں تعلیل ہوتی ہے اور اسکے لئے چند قاعدے ہیں۔ ان سب کا یکجا درج کرنا موجب تطویل سمجھ کر ہر ایک گردان کے محاذ میں پہلے تعلیل لکھی گئی ہے، پھر جس قاعدے سے تعلیل ہوئی وہ قاعدہ اسی مقام پر علیحدہ درج کیاگیا ہے جیسےکہ بیانات آئیندہ کے دیکھنے سے سے واضح ہوں گے۔

قاعدہ ۸ : جو و یا ی متحرک اوراسکا ماقبل مفتوح ہو تواس واوری کوالف سے بدل دیں گے۔

فائدہ:اس قاعدہ میں شرائط ذیل کا لحاظ ضروری ہے:

۱۔واو اور یاء ف کلمہ میں نہ ہو جیسے تَوَسَّطَ،تَیَقَّظَ۔

۲۔عین کلمہ ناقص کا یا بصورت ناقص کا نہ ہو، جیسے طَوٰی، إِرْعَوٰی

۳۔الف تثنیہ کے پہلے نہ ہو، جیسے دَعَوَا، رَمَیَا۔

۴۔مدہ زائدہ کے پہلے نہ ہو، جیسے:طَوِیْلٌ، غَیُوْرٌ۔

۵۔ یائے مشدد اور نون تاکید کے پہلے نہ ہو جیسے: عَلَوِیٌّ، إِخْشَیَنَّ،

۶۔وہ کلمہ اس کلمہ کے ہم معنی نہ ہو جس میں تعلیل کا قاعدہ مفقودہے جیسے عَوِرَ بمعنی إعْوَرَّ،إِجْتَوَرَ بمعنی تَجَاورَ۔ (باہم پڑوسی ہونا)ان دونوں میں واو کا ماقبل ساکن مانع تعلیل ہے۔

۷۔فَعْلَانُ،فَعْلٰیِ فَعْلَۃٌ کےوزن پر نہ جیسے: دَوَرَانٌ(گھومنا،چکر لگانا)،حیدیٰ،(متکبرانہ چال وہ گدھا جو اپنا سایہ دیکھ کر بدکنے لگے)حَوَکَۃٌ(حَائِکٌ کی جمع ہے جولاہا)۔

قاعدہ:۹۔(قُلْنَ بِعْنَ،خِفْنَ)جب ماضی ثلاثی مجرد کا عین کلمہ واو و یاء بسبب اجتماع ساکنین گرجائے اور وہ کلمہ یائی یا ماضی مکسورالعین ہوتو فاء کلمہ کو کسرہ دیاجائےگا،اور اگر یائی یا مکسور العین نہ ہو تو ضمہ دیاجائےگا۔

اجوف واوی اور یائی سے ماضی معروف کی گردان

قَالَبَاعَخَافَتعلیل: قَالَ بَاعَ خَافَ اصل میں قَوَلَ بَیَعَ خَوِفَ تھا۔ واو ی متحرک ماقبل اس کا مفتوح (واو، ی) کو الف سے بدلا (قاعدہ ۸) یہی تعلیل قالا، قالوا، قالت، قالتا، اور اس ع امثال میں جاری ہوں گی۔ قُلنَ بِعْنَ خِفْنَ اصل میں قَوَلْنَا بَیَعْنَ، خَوِفْنَ تھا (واو، ی) متحرک ماقبل مفتوح واو ی کو الف سے بدلا (قاعدہ ۸)۔ دو ساکن جمع ہوئے الف اجتماع ساکنین سے گرگیا، بعد ازاں ف کلمہ کے فتحہ کو قُلْنَ میں ضمہ سے بدلا (کہ عین کلمہ واو اور ماضی غیر مکسور العین ہے) اور بِعْنَ خِفْنَ میں کسرہ سے (کہ پہلے میں عین کلمہ (ی) اور دوسرے میں ماضی مکسور العین ہے) (قاعدہ ۹)۔ آخر تک یہی تعلیل رہے گی۔قاعدہ نمبر ۸: جو واو اور ی متحرک اور ماقبل اس کا مفتوح ہو، وہ (واو، ی) الف سے بدل جائے گی۔ قاعدہ نمبر ۹: جب ماضی ثلاثی مجرد کا عین کلمہ (واو، ی) بسبب اجتماع ساکنین کے گر جائے اور وہ کلمہ یائی یا ماضی مکسور العین ہوتو ف کلمہ کو کسرہ دیا جائے گا اور اگر ی یا ماضی مکسور العین نہ ہو تو ضمہ۔
قَالابَاعَاخَافَا
قَالُوابَاعُواخَافُوا
قَالَتبَاعَتْخَافَتْ
قَاْلَتَابَاعَتَاخَافَتَا
قُلنَبِعْنَخِفْنَ
قُلْتَبِعْتَخِفْتَ
قُلْتُمَابِعْتُمَاخِفْتُمَا
قُلْتُمْبِعْتُمْخِفْتُمْ
قُلْتِبِعْتِخِفْتِ
قُلْتُمَابِعْتُمَاخِفْتُمَا
قُلْتُنَّبِعْتُنَّخِفْتُنَّ
قُلْتُبِعْتُخِفْتُ
قُلْنَابِعْنَاخِفْنَا

گردان ماضی مجہول

غائب
واویقِیلَیائیبِیْعَواویخِیْفَتعلیلقیل، بیع، خیف۔ حاصل میں قُوِلَ، بُیِعَ، خُوِفَ تھا۔ کسرہ و ی پر دشوار تھا۔ ماقبل کی حرکت دور کرکے ماقبل کو دیا۔ قِوْلَ، بِیْعَ، خِوفَ ہوا۔قاعدہ ۱۰: پھر قِوْلَ، بِوْعَ، خِوْفَ ہوا۔ ساکن ماقبل مکسور کو ی سے بدلا اور بیعَ اپنی حالت پر رہا۔
واویقِیْلَایائیبِیْعَاواویخِیْفَا
واویقِیلُوایائیبِیْعُواواویخِیْفُوا
واویقِیْلَتْیائیبِیْعَتْواویخِیْفَتْ
واویقِیلَتَایائیبِیْعَتَاواویخِیْفَتَا
واویقُلْنَیائیبِعْنَواویخِفْنَتعلیلقاعدہ ۱۰: قُلنَ، بِعْنَ، خِفْنَ اصل میں قُوِلْنَ، بُیِعْنَ، خُوِفْنَ تھا۔ کسرہ وہ ی پر دشوار تھا۔ نقل کرکے ماقبل کو دیا (قاعدہ ۱۰) و، ی، اجتماعِ ساکنین سے گرگئے، قُلْنَ کا کسرہ ضمہ سے بدلا اور بِعْنَ خِفْنَ کا کسرہ بحال رہا۔
حاضر
واویقُلْتَیائیبِعْتَواویخِفْتَ
واویقُلْتُمَایائیبِعْتُمَاواویخِفْتُمَا
واویقُلْتُمْیائیبِعْتُمْواویخِفْتُمْ
واویقُلْتِیائیبِعْتِواویخِفْتِ
واویقُلْتُمَایائیبِعْتُمَاواویخِفْتُمَا
واویقُلْتُنَّیائیبِعْتُنَّواویخِفْتُنّ
متکلم
واویقُلْتُیائیبِعْتُواویخِفْتُ
واویقُلْنَایائیبِعْنَاواویخِفْنَا

قاعدہ ۱۰: جو و کہ ماضی مجہول کے عین کلمہ میں مکسور ہو اور ماضی معروف میں تعلیل ہو چکی ہو اسکا کسرہ بعد نقل کرکے ماقبل کو دیں گے اگر و ہے تو ی سے بدل جائے گی اور ی ہے تو قائم رہے گی۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

گردان مضارع معروف (کتاب الصرف : سبق۳۴ )

واوییَقُولُیائییَبِیعُواوییَخَافُتعلیلیَقُولُ، یَبِیعُ، یَخَافُ اصل میں یَقْوُلُ، یَبْیِعُ، یَخْوَفُ تھا۔ و یا ی متحرک ہونے کی صورت میں جب ما قبل ساکن ہو تو حرکت ما قبل کو دی جاتی ہے، جیسا کہ یَقُولُ اور یَبِیعُ میں ہوا۔ جبکہ یَخُوفُ میں و کے متحرک ہونے اور ما قبل کے مفتوح ہونے کی وجہ سے و کو الف سے بدل کر یَخَافُ بنایا گیا۔ اجتماع ساکنین کی صورت میں و اور ی گر جاتے ہیں، جیسے یَقُلْنَ، یَبِعْنَ اور یَخَفْنَ میں۔قاعدہقاعدہ ۱۱: جب و یا ی متحرک ہو اور اس کے بعد حرف ساکن آئے تو حرکت کو ما قبل میں منتقل کیا جائے گا۔ اگر حرکت فتحہ ہو تو و یا ی کو الف میں بدلا جائے گا۔ اگر حرکت ضمہ ہو تو و میں اور اگر کسرہ ہو تو ی میں تبدیل کیا جائے گا، بشرطیکہ حرکت موافق ہو۔
واوییَقُولَانِیائییَبِیعَانِواوییَخَافَانِ
واوییَقُولُونَیائییَبِیعُونَواوییَخَافُونَ
واویتَقُولُیائیتَبِیعُواویتَخَافُ
واویتَقُولَانِیائیتَبِیعَانِواویتَخَافَانِ
واوییَقُلنَیائییَبِعْنَواوییَخَفْنَ
واویتَقُولُیائیتَبِیْعُواویتَخَافُ
واویتَقُولَانِیائیتَبِیْعَانِواویتَخَافَانِ
واویتَقُولُونَیائیتَبِیْعُونَواویتَخَافُونَ
واویتَقُولِینَیائیتَبِیْعِیْنَواویتَخَافِیْنَ
واویتَقوُلَانِیائیتَبِیۡعَانِواویتَخَافَانِ
واویتَقُلنَیائیتَبِعْنَواویتَخَفْنَ
واویاَقُولُیائیاَبِیعُواویاَخَافُ
واوینَقُولُیائینَبِیْعُواوینَخَافُ

قاعدہ : (اس قاعدے میں شرائط ذیل کا لحاظ ضروری ہے)

۱۔و،ی فعل یا مصدر یا مشتق کے عین کلمے میں واقع ہوں۔

۲۔ان کے ماقبل حرف لین زائد نہ ہو جیسے بُویِعَ،سَیِّدٌ۔

۳۔وہ کلمہ ملحق نہ ہو جیسے إحرنجم۔

۴۔وہ کلمہ ناقص نہ ہو جیسے یَقُولُ،یَحْیٰ۔

۵۔وہ کلمہ باب افعلال اور افعیلال سے نہ ہو جیسے اِسۡوَادَّ ، و إعورَّ

۶۔وہ کلمہ صیغہ تعجب اور مِفْعَلٌ اور مِفْعَالٌ کے وزن پر نہ ہو جیسے مَا اَقۡوَلَہُ وَ اَقوِلۡبِہ مِقْوَلٌ،مِقْوَالٌ۔

3 گردان مضارع مجھول (کتاب الصرف : سبق۳۵ )

غائب
واوییُقَالُیائییُبَاعُواوییُخَافُتعلیلیُقَالُ، یُبَاعُ، یُخَافُ اصل میں یُقْوَلُ، یُبْیَعُ، یُخْوَفُ تھا و، ی، متحرک ماقبل اس کا حرف صحیح ساکن، حرکت و، ی، کی ماقبل کو دی (قاعدہ ۱۱) پھر یہ کیا کہ و، ی، اصل میں متحرک تھے اب ماقبل ان کا مفتوح ہوا۔ و، ی کو الف سے بدلا (قاعدہ ۱۱)
واوییُقَالَانِیائییُبَاعَانِواوییُخَافَانِ
واوییُقَالُونَیائییُبَاعُونَواوییُخَافُونَ
واویتُقَالُیائیتُبَاعُواویتُخَافُ
واویتُقَالَانِیائیتُبَاعَانِواویتُخَافَانِ
واوییُقَلْنَیائییُبَعْنَواوییُخَفْنَتعلیلیُقَلْنَ، یُبَعْنَ، یُخَفْنَ اصل میں یُقْوَلْنَ، یُبْیَعْنَ، یُخْوَفْنَ تھا تعلیل مثل یُخْوَفْنَ معروف کے ہے۔
حاضر
واویتُقَالُیائیتُبَاعُواویتُخَافُ
واویتُقَالَانِیائیتُبَاعَانِواویتُخَافَانِ
واویتُقَالُونَیائیتُبَاعُونَواویتُخَافُونَ
واویتُقَالِیْنَیائیتُبَاعِینَواویتُخَافِینَ
واویتُقَالَانِیائیتُبَاعَانِواویتُخَافَانِ
واویتُقَلْنَیائیتُبَعْنَواویتُخَفْنَ
متکلم
واویاُقَالُیائیاُبَاعُواویاُخَافُ
واوینُقَالُیائینُبَاعُواوینُخَافُ

4 بحث نفی تاکید بلن - فعل مستقل معروف (کتاب الصرف : سبق۳۶ )

غائب
واویلَنْ یَّقُولَیائیلَنْ یَبیعَواویلَنْ یَّخَافَ
واویلَنْ یَّقُولَایائیلَنْ یَبِیعاواویلَنْ یَّخَافَا
واویلَنْ یَّقُولوُیائیلَنْ یَبِیعُواواویلَنْ یَّخَافُوا
واویلَنْ تَقُولَیائیلَنْ تَبِیعَواویلَنْ تَخَافَ
واویلَنْ تَقُوَلَایائیلَنْ تَبِیعَاواویلَنْ تَخَافَا
واویلَنْ یَّقُلْنَیائیلَنْ یَبِعْنَواویلَنْ یَّخَفْنَ
حاضر
واویلَنْ تَقُولَیائیلَنْ تَبِیعَواویلَنْ تَخَافَ
واویلَنْ تَقُولَایائیلَنْ تَبِیعَاواویلَنْ تَخَافَا
واویلَنْ تَقُولُوایائیلَنْ تَبِیعُواواویلَنْ تَخَافُوا
واویلَنْ تَقولِیْیائیلَنْ تَبِیعِیْواویلَنْ تَخَافِیْ
واویلَنْ تَقُولَایائیلَنْ تَبِیعَاواویلَنْ تَخَافَا
واویلَنْ تَقُلْنَیائیلَنْ تَبِعنَواویلَنْ تَخَفْنَ
متکلم
واویلَنْ اَقُولَیائیلَنْ اَبِیعَواویلَنْ اَخَافَ
واویلَنْ نَقُولَیائیلَنْ نَبِیعَواویلَنْ نَخَافَ

بحث نفی جحد بلم - فعل مضارع معروف

غائب
واویلَمْ یَقُلْیائیلَمْ یَبعْواویلَمْ یَّخَفْ
واویلَمْ یَقُولَایائیلَمْ یَبِیعاواویلَمْ یَّخَافَا
واویلَم یَقُولُوایائیلَمْ یَبِیعُواواویلَمْ یَّخَافُوا
واویلَمْ تَقُلْیائیلَمْ تَبِعْواویلَمْ تَخَفْ
واویلَمْ تَقُولَایائیلَمْ تَبِیعَاواویلَمْ تَخَافَا
واویلَم یَقُلنَیائیلَمْ یَبِعْنَواویلَمْ یَّخَفْنَ
حاضر
واویلَمْ تَقُلْیائیلَمْ تَبِعْواویلَمْ تَخَفْ
واویلَمْ تَقُولَایائیلَمْ تَبِیعَاواویلَمْ تَخَافَا
واویلَمْ تَقُولُوایائیلَمْ تَبِیعُواواویلَمْ تَخَافُوا
واویلَمْ تَقُولِییائیلَمْ تَبِیعِیواویلَمْ تَخَافِی
واویلَمْ تَقُولَایائیلَمْ تَبِیعَاواویلَمْ تَخَافَا
واویلَمْ تَقُلنَیائیلَمْ تَبِعنَواویلَمْ تَخَفْنَ
متکلم
واویلَمْ اَقُلْیائیلَمْ اَبِعْواویلَمْ اَخَفْ
واویلَمْ نَقُلْیائیلَمْ نَبِعْواویلَمْ نَخَفْ

قاعدہ ۱۲: جو حرف علت کہ حالت جزم میں اجتماع ساکنین سے حذف ہوگیا ہو جب لام کلمہ بسبب اتصال ضمیر یا نون تاکید کے متحرک ہو حرف علت اپنی جگہ آجائےگا جیسے لم یقل میں لام ضمہ کے ساتھ الف کے ساتھالف ضمیر کا متصل ہوا تو لم یقولا بن گیا حرف علت (و) واپس آگیا۔

(کتاب الصرف : سبق۳۷ )

بحث امر حاضر معروف

حاضر
واویقُلْیائیبِعْواویخَفْ
واویقُولَایائیبِیْعَاواویخَافَا
واویقُولُوایائیبِیْعُواواویخَافُوا
واویقُوْلییائیبِیْعِیواویخَافِی
واویقُوْلایائیبِیْعَاواویخَافَا
واویقُلْنَیائیبِعْنَواویخِفْنَ

بحث نہی حاضر معروف

حاضر
واویلَا تَقُلْیائیلَا تَبِعْواویلَا تَخَفْ
واویلَا تَقُولَایائیلَا تَبِیْعَاواویلَا تَخَافَا
واویلَا تَقُولُوایائیلَا تَبِیْعُواواویلَا تَخَافُوا
واویلَا تَقُولِییائیلَا تَبِیْعِیواویلَا تَخَافِی
واویلَا تَقُولاَیائیلَا تَبِیْعَاواویلَا تَخَافَا
واویلَا تَقُلْنَیائیلَا تَبِعْنَواویلَا تَخَفْنَ

بحث امر غائب و متکلم معروف

غائب
واویلِیَقُلْیائیلِیَبِعْواویلِیَخَفْ
واویلِیَقُولَایائیلِیَبِیعَاواویلِیَخَافَا
واویلِیَقُولُوایائیلِیَبِیعُواواویلِیَخَافُوا
واویلِتَقُلْیائیلِتَبِعْواویلِتَخَفْ
واویلِتَقُلَایائیلِتَبِعَاواویلِتَخَفَا
واویلِیَقُلْنَیائیلِیَبِعْنَواویلِیَخَفْنَ
متکلم
واویلِاَقُلْیائیلِاَبِعْواویلِاَخَفْ
واویلِنَقُلْیائیلِنَبِعْواویلِنَخَفْ

بحث نہی غائب و متکلم معروف

غائب
واویلَا یَقُلْیائیلَا یَبِعْواویلَا یَخَفْ
واویلَا یَقُولَایائیلَا یَبِیعَاواویلَا یَخَافَا
واویلَا یَقُولُوایائیلَا یَبِیعُواواویلَا یَخَافُوا
واویلَا تَقُلۡیائیلَا تَبِعْواویلَا تَخَفْ
واویلَا تَقُلَایائیلَا تَبِعَاواویلَا تَخَفَا
واویلَا یَقُلْنَیائیلَا یَبِعْنَواویلَا یَخَفْنَ
متکلم
واویلَا اَقُلْیائیلَا اَبِعْواویلَا اَخَفْ
واویلَا نَقُلْیائیلَا نَبِعْواویلَا نَخَفْ

۱ ۔ اصل میں اُقوُلْ، إِبْیِعْ،إِخْوَفْ بموجب قاعدہ۱۱ و،ی کی حرکت ماقبل کو دےکر و،ی کو اجتماع ساکنین سے گرادیا بسبب متحرک ہوجانے ف کلمہ کے ہمزہ وصل کی حاجت نہ رہی،

۲ ۔اصل میں اُقْوُلَا،إِبْیِعَا،إِخْوَفَا تھا بموجب قاعدہ ۱۱ و،ی کی حرکت ماقبل کو دی اور ہمزہ کی ضرورت نہ رہی حرف علت بسبب نہ ہونے اجتماع ساکنین کے قائم رہا۔

(کتاب الصرف : سبق۳۸ ، ۳۹ )

5 اسم فاعل کی بحث

واویقَائِلٌیائیبَائِعٌواویخَائِفٌتعلیلقَائِلٌ، بَائِعٌ، خَائِفٌ اصل میں قَاوِلٌ، بَایِعٌ، خَاوِفٌ تھا۔ و یا ی مکسور بعد الف زائد کے واقع ہو کر ہمزہ سے بدلا اور قَائِلٌ، بَائِعٌ، خَائِفٌ ہوگیا۔قاعدہقاعدہ ۱۳: جو و یا ی مکسور بجائے عین کلمہ فاعل بعد الف زائد کے واقع ہو اور اس کے فعل میں تعلیل ہوئی ہو یا اس کا فعل مستعمل نہ ہو، وہ ہمزہ سے بدل جاتی ہے۔
واویقَائِلَانِیائیبَائِعَانِواویخَائِفَانِ
واویقَائِلُونَیائیبَائِعُونَواویخَائِفُونَ
واویقَائِلۃٌیائیبَائِعۃٌواویخَائِفۃٌ
واویقَائِلَتَانِیائیبَائِعَتَانِواویخَائِفَتَانِ
واویقَائِلَاتٌیائیبَائِعَاتٌواویخَائِفَاتٌ

6 اسم مفعول کی بحث

واویمَقُولٌیائیمَبِیعٌواویمَخُوفٌتعلیلمَقُولٌ، مَبِیعٌ، مَخُوفٌ اصل میں مَقْوُولٌ، مَبْیُوعٌ، مَخْوُوفٌ تھا۔ و یا ی متحرک ماقبل اس کا حرف صحیح ساکن تھا، و یا ی کی حرکت ماقبل کو دی گئی (قاعدہ ۱۱)، مَقْوُولٌ، مَبْیُوعٌ، مَخْوُوفٌ ہوا، و یا ی اجتماع ساکنین سے گر گئے اور مَقُولٌ، مَبُوعٌ، مَخُوفٌ ہوا۔ مَبُوعٌ میں ضمہ کو کسرہ سے بدلا تاکہ واوی اور یائی میں فرق ہو جائے، مَبِوعٌ ہوا، پھر واو ساکن ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے ی سے بدلا اور مَبِیعٌ ہوا۔
واویمَقُولَانِیائیمَبِیعَانِواویمَخُوفَانِ
واویمَقُولُونَیائیمَبِیعُونَواویمَخُوفُونَ
واویمَقُولَۃٌیائیمَبِیعَۃٌواویمَخُوفَۃٌ
واویمَقُولَتَانِیائیمَبِیعَتَانِواویمَخُوفَتَانِ
واویمَقُولَاتٌیائیمَبِیعَاتٌواویمَخُوفَاتٌ

تنبیہ:اجوف یائی کے مفعول تصحیح زیادہ مستعمل ہے، جیسے مَدْیُونٌ(قرض دار) مَعْیُوبٌ(عیب دار) اور اجوف واوی میں تعلیل زیادہ اورتصحیح کم جیسے مَصُونٌ(نگہداشت شدہ)

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

سوالات

۔الف:

۱۔ اجوف کسے کہتےہیں اور اسکادوسرانام کیا ہے؟

۲۔تصرفات لفظی میں سے کونسا قاعدہ اجوف میں برتاجاتاہے؟

۳۔اعلال اور ابدال میں کیا فرق ہے ؟ مثال دےکر سمجھاؤْ

۴۔تَخَافُ میں کیا تعلیل ہوئی اور واؤ ساکن بعد فتحہ کے کس طرح الف ہوگیا؟

۵۔بِیعَا (تثنیہ بِعْ) میں کس قاعدے سے یائے محذوف لوٹ آئی ہے؟

۶۔مَبِیْعٌ اور مَقُولٔ کی تعلیل کرو اور بتاؤ کہ مَعْیُوبٌ بلا تعلیل بھی بولا جاسکتاہے؟

ب:

۱۔قُلْنَ اور بِعْنَ کیا کیا صیغہ ہوسکتاہے ہر ایک کی اصل میں تعلیل بیان کرو؟

۲۔خِفْنَ اور بِعْنَ میں کیا فرق ہے؟اور یہ کیا کیا صیغے ہوسکتےہیں؟

ج:

۱۔ قَامَ کو باب افعال میں لاکر نفی جحد بلم کی گردان کرو اور بتاؤ کہ اسکے مصدر میں کیا کچھ تغیر ہواہے؟

۲۔بَاعَ سے باب مفاعلۃ کا امر حاضر معروف گردانوں اور بتاؤ کہ ی کے بحال رہنے کی کیا وجہ ہے؟

د۔فقرات مندرجہ ذیل میں جو فعل اور اسم اجوف ہیں ان کو بیان کرو؟

۱ْ۔ إِنَّ اللہَ لَا یُضِیعُ اَجْرَ المُحْسِنِینَ۔ اللہ تعالی نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

۲۔زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ۔ ہم نے نچلے آسمانوں کو ستاروں سے زینت دی۔

۳۔وَشَاوِرْھُمْ فِی الاَمْرِ۔ہر کام میں ان سے مشورہ لے۔

۴۔إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإ فَتَبَیَّنُوا۔اگر تمہارے پاس کوئی بدکار خبر لائے تو تحقیق کرو۔

۵۔تَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ والتَّقْوٰی۔ نیک کام میں ایک دوسرے کو مدد دو۔

۶۔وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔ ہم تجھ سے ہی مدد چاہتےہیں۔

۷۔وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الحُزْنِ ، گریہ وزاری سے اسکی آنکھیں سفید ہوگئیں۔

7 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

239 questions in this lesson