The map
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- مثال (معتلل الفاء)
- اجوف (معتلل العین)
- ناقص (معتلل الام)
- لفیف کابیان
- مضاعف کا بیان
- مھموز کا بیان
1 The rule
تعریف
اجوف : وہ فعل جس کے عین کلمہ میں حرفِ علت ہو۔
مثال: قَالَ (اس نے کہا)، بَاعَ (اس نے بیچا)
2 اجوف کا بیان (کتاب الصرف : سبق ۳۲ ،۳۳)
اجوف واوی ابواب ذیل سے آتاہے۔
۱۔نَصَرَ یَنْصُرُ سے جیسے قَالَ یَقُولُ (القَولُ بات کرنا)
۲۔سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے خَافَ یَخَافُ (الخَوفُ ڈرنا)
اجوف یائی ابواب ذیل سے آتاہے
۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ سے جیسے بَاعَ یَبِیعُ (البیعُ بیچنا)
۲۔سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے نَالَ یَنَالُ (النَیلُ پانا)
ان میں سے سمع یسمع کثیر الوقوع ہےاور اس سے کم ضرب یضرب اور سب سے کم نصر ینصر
اجوف کے متعدد صیغوں میں تعلیل ہوتی ہے اور اسکے لئے چند قاعدے ہیں۔ ان سب کا یکجا درج کرنا موجب تطویل سمجھ کر ہر ایک گردان کے محاذ میں پہلے تعلیل لکھی گئی ہے، پھر جس قاعدے سے تعلیل ہوئی وہ قاعدہ اسی مقام پر علیحدہ درج کیاگیا ہے جیسےکہ بیانات آئیندہ کے دیکھنے سے سے واضح ہوں گے۔
قاعدہ ۸ : جو و یا ی متحرک اوراسکا ماقبل مفتوح ہو تواس واوری کوالف سے بدل دیں گے۔
فائدہ:اس قاعدہ میں شرائط ذیل کا لحاظ ضروری ہے:
۱۔واو اور یاء ف کلمہ میں نہ ہو جیسے تَوَسَّطَ،تَیَقَّظَ۔
۲۔عین کلمہ ناقص کا یا بصورت ناقص کا نہ ہو، جیسے طَوٰی، إِرْعَوٰی
۳۔الف تثنیہ کے پہلے نہ ہو، جیسے دَعَوَا، رَمَیَا۔
۴۔مدہ زائدہ کے پہلے نہ ہو، جیسے:طَوِیْلٌ، غَیُوْرٌ۔
۵۔ یائے مشدد اور نون تاکید کے پہلے نہ ہو جیسے: عَلَوِیٌّ، إِخْشَیَنَّ،
۶۔وہ کلمہ اس کلمہ کے ہم معنی نہ ہو جس میں تعلیل کا قاعدہ مفقودہے جیسے عَوِرَ بمعنی إعْوَرَّ،إِجْتَوَرَ بمعنی تَجَاورَ۔ (باہم پڑوسی ہونا)ان دونوں میں واو کا ماقبل ساکن مانع تعلیل ہے۔
۷۔فَعْلَانُ،فَعْلٰیِ فَعْلَۃٌ کےوزن پر نہ جیسے: دَوَرَانٌ(گھومنا،چکر لگانا)،حیدیٰ،(متکبرانہ چال وہ گدھا جو اپنا سایہ دیکھ کر بدکنے لگے)حَوَکَۃٌ(حَائِکٌ کی جمع ہے جولاہا)۔
قاعدہ:۹۔(قُلْنَ بِعْنَ،خِفْنَ)جب ماضی ثلاثی مجرد کا عین کلمہ واو و یاء بسبب اجتماع ساکنین گرجائے اور وہ کلمہ یائی یا ماضی مکسورالعین ہوتو فاء کلمہ کو کسرہ دیاجائےگا،اور اگر یائی یا مکسور العین نہ ہو تو ضمہ دیاجائےگا۔
اجوف واوی اور یائی سے ماضی معروف کی گردان
گردان ماضی مجہول
قاعدہ ۱۰: جو و کہ ماضی مجہول کے عین کلمہ میں مکسور ہو اور ماضی معروف میں تعلیل ہو چکی ہو اسکا کسرہ بعد نقل کرکے ماقبل کو دیں گے اگر و ہے تو ی سے بدل جائے گی اور ی ہے تو قائم رہے گی۔
خود کا جائزہ لیں
گردان مضارع معروف (کتاب الصرف : سبق۳۴ )
قاعدہ : (اس قاعدے میں شرائط ذیل کا لحاظ ضروری ہے)
۱۔و،ی فعل یا مصدر یا مشتق کے عین کلمے میں واقع ہوں۔
۲۔ان کے ماقبل حرف لین زائد نہ ہو جیسے بُویِعَ،سَیِّدٌ۔
۳۔وہ کلمہ ملحق نہ ہو جیسے إحرنجم۔
۴۔وہ کلمہ ناقص نہ ہو جیسے یَقُولُ،یَحْیٰ۔
۵۔وہ کلمہ باب افعلال اور افعیلال سے نہ ہو جیسے اِسۡوَادَّ ، و إعورَّ
۶۔وہ کلمہ صیغہ تعجب اور مِفْعَلٌ اور مِفْعَالٌ کے وزن پر نہ ہو جیسے مَا اَقۡوَلَہُ وَ اَقوِلۡبِہ مِقْوَلٌ،مِقْوَالٌ۔
3 گردان مضارع مجھول (کتاب الصرف : سبق۳۵ )
4 بحث نفی تاکید بلن - فعل مستقل معروف (کتاب الصرف : سبق۳۶ )
بحث نفی جحد بلم - فعل مضارع معروف
قاعدہ ۱۲: جو حرف علت کہ حالت جزم میں اجتماع ساکنین سے حذف ہوگیا ہو جب لام کلمہ بسبب اتصال ضمیر یا نون تاکید کے متحرک ہو حرف علت اپنی جگہ آجائےگا جیسے لم یقل میں لام ضمہ کے ساتھ الف کے ساتھالف ضمیر کا متصل ہوا تو لم یقولا بن گیا حرف علت (و) واپس آگیا۔
(کتاب الصرف : سبق۳۷ )
بحث امر حاضر معروف
بحث نہی حاضر معروف
بحث امر غائب و متکلم معروف
بحث نہی غائب و متکلم معروف
۱ ۔ اصل میں اُقوُلْ، إِبْیِعْ،إِخْوَفْ بموجب قاعدہ۱۱ و،ی کی حرکت ماقبل کو دےکر و،ی کو اجتماع ساکنین سے گرادیا بسبب متحرک ہوجانے ف کلمہ کے ہمزہ وصل کی حاجت نہ رہی،
۲ ۔اصل میں اُقْوُلَا،إِبْیِعَا،إِخْوَفَا تھا بموجب قاعدہ ۱۱ و،ی کی حرکت ماقبل کو دی اور ہمزہ کی ضرورت نہ رہی حرف علت بسبب نہ ہونے اجتماع ساکنین کے قائم رہا۔
(کتاب الصرف : سبق۳۸ ، ۳۹ )
5 اسم فاعل کی بحث
6 اسم مفعول کی بحث
تنبیہ:اجوف یائی کے مفعول تصحیح زیادہ مستعمل ہے، جیسے مَدْیُونٌ(قرض دار) مَعْیُوبٌ(عیب دار) اور اجوف واوی میں تعلیل زیادہ اورتصحیح کم جیسے مَصُونٌ(نگہداشت شدہ)
خود کا جائزہ لیں
سوالات
۔الف:
۱۔ اجوف کسے کہتےہیں اور اسکادوسرانام کیا ہے؟
۲۔تصرفات لفظی میں سے کونسا قاعدہ اجوف میں برتاجاتاہے؟
۳۔اعلال اور ابدال میں کیا فرق ہے ؟ مثال دےکر سمجھاؤْ
۴۔تَخَافُ میں کیا تعلیل ہوئی اور واؤ ساکن بعد فتحہ کے کس طرح الف ہوگیا؟
۵۔بِیعَا (تثنیہ بِعْ) میں کس قاعدے سے یائے محذوف لوٹ آئی ہے؟
۶۔مَبِیْعٌ اور مَقُولٔ کی تعلیل کرو اور بتاؤ کہ مَعْیُوبٌ بلا تعلیل بھی بولا جاسکتاہے؟
ب:
۱۔قُلْنَ اور بِعْنَ کیا کیا صیغہ ہوسکتاہے ہر ایک کی اصل میں تعلیل بیان کرو؟
۲۔خِفْنَ اور بِعْنَ میں کیا فرق ہے؟اور یہ کیا کیا صیغے ہوسکتےہیں؟
ج:
۱۔ قَامَ کو باب افعال میں لاکر نفی جحد بلم کی گردان کرو اور بتاؤ کہ اسکے مصدر میں کیا کچھ تغیر ہواہے؟
۲۔بَاعَ سے باب مفاعلۃ کا امر حاضر معروف گردانوں اور بتاؤ کہ ی کے بحال رہنے کی کیا وجہ ہے؟
د۔فقرات مندرجہ ذیل میں جو فعل اور اسم اجوف ہیں ان کو بیان کرو؟
۱ْ۔ إِنَّ اللہَ لَا یُضِیعُ اَجْرَ المُحْسِنِینَ۔ اللہ تعالی نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
۲۔زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ۔ ہم نے نچلے آسمانوں کو ستاروں سے زینت دی۔
۳۔وَشَاوِرْھُمْ فِی الاَمْرِ۔ہر کام میں ان سے مشورہ لے۔
۴۔إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإ فَتَبَیَّنُوا۔اگر تمہارے پاس کوئی بدکار خبر لائے تو تحقیق کرو۔
۵۔تَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ والتَّقْوٰی۔ نیک کام میں ایک دوسرے کو مدد دو۔
۶۔وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔ ہم تجھ سے ہی مدد چاہتےہیں۔
۷۔وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الحُزْنِ ، گریہ وزاری سے اسکی آنکھیں سفید ہوگئیں۔