Grammar

The map

  • حرف
    • حروف کی قسمیں

1 حروف جو اسم پر داخل ہو تےہیں

تعریف

۱۔حروف جر: یہ وہ حروف ہیں جو اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اسم کو مجرور (زیر کے ساتھ) کرتے ہیں، اور یہ حروف کل سترہ (۱۷)ہیں۔ مثال کے طور پر: "فی"، "على"، "من"، "إلى" وغیرہ۔ یہ عام طور پر اسم اور فعل کے درمیان ربط پیدا کرتے ہیں۔

۲۔ اِنَّ اور اس کے اخوات: یہ موکدہ حروف ہیں جو جملے میں زور دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اسم کو منصوب کرتے ہیں۔ ان میں "اِنَّ"، "أَنَّ"،"کَأنَّ"، "لَكِنَّ"، "لَيْتَ"، "لَعَلَّ" وغیرہ شامل ہیں۔ مثال: اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے)۔

۳۔ حروف نداء: یہ وہ حروف ہیں جو کسی کو پکارنے یا مخاطب کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے "یا" اور "أیُّہا"۔ مثال: یَا أَیُّهَا النَّاسُ (اے لوگو!)۔

۴۔ حروف استثناء: یہ حروف جملے میں کسی چیز کو مستثنیٰ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، یعنی کچھ کو خارج کرنے کے لیے۔ اس میں "إِلَّا" سب سے مشہور ہے۔ مثال: حَضَرَ الطُّلَّابُ إِلَّا زَيْدًا (طلباء آئے مگر زید نہیں آیا)۔

۵۔ واو معیۃ :  یہ واو اس معنی میں استعمال ہوتا ہے کہ فعل کسی دوسرے عمل کے ساتھ بیک وقت یا ساتھ وقوع پذیر ہو۔ اس کا ترجمہ "کے ساتھ" یا "اور" کے معنی میں کیا جا سکتا ہے۔ مثال: سَارَ زَيْدٌ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ (زید چلا جب سورج نکل رہا تھا)۔

۶۔ لام ابتداء: یہ لام جملے میں تاکید کے لیے استعمال ہوتا ہے، خصوصاً جب مبتدا اور خبر میں مبتدا کو واضح طور پر نشان زد کرنا مقصود ہو۔ مثال: لَزَيْدٌ قَائِمٌ (بیشک زید کھڑا ہے)۔

2 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

3 حروف جو فعل پر داخل ہو تےہیں

تعریف

۱۔ حروف ناصبہ:  یہ وہ حروف ہیں جو فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور اسے منصوب (زبر کے ساتھ) کر دیتے ہیں۔ ان میں "أن"، "لن"، "كي"، "إذًا" وغیرہ شامل ہیں۔ مثال: لَنْ أَذْهَبَ (میں نہیں جاؤں گا)۔

۲۔ حروف جاذمہ: یہ وہ حروف ہیں جو فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور اسے مجزوم (سکون کے ساتھ) کر دیتے ہیں۔ ان میں "لم"، "لما"، "لا الناهية"، "إن" وغیرہ شامل ہیں۔ مثال: لَمْ يَذْهَبْ (وہ نہیں گیا)۔

۳۔ ما اور لا:

ما: یہ مختلف معانی میں استعمال ہو سکتا ہے، مثلاً "ما" نافیہ فعل کے ساتھ آکر نفی کرتا ہے، جیسے ؛ مَا ذَهَبَ (وہ نہیں گیا)۔

لا: یہ بھی نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر جملے میں نہی یا منع کے لیے۔ مثال: لا تَكْذِبْ (جھوٹ مت بولو)۔

۴۔ قد: یہ حرف فعل ماضی یا فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور فعل کے وقوع پذیر ہونے یا قریب ہونے کا معنی دیتا ہے:

فعل ماضی کے ساتھ: قد تحقیق کے معنی میں آتا ہے۔ مثال: قَدْ نَجَحَ (وہ یقیناً کامیاب ہوا)۔

فعل مضارع کے ساتھ: یہ "قریباً" یا "شاید" کے معنی میں آتا ہے۔ مثال: قَدْ يَأْتِي (شاید وہ آئے)۔

۵۔ حروف تسویف (س ، سوف): یہ حروف فعل مضارع پر داخل ہو کر مستقبل کے معنی دیتے ہیں:

س: مستقبل قریب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال: سَأَذْهَبُ (میں جلدی جاؤں گا)۔

سَوْفَ: مستقبل بعید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال: سَوْفَ أَذْهَبُ (میں بعد میں جاؤں گا)۔

4 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

5 حروف جو اسم اور فعل پر داخل ہو تےہیں

تعریف

۱۔ حروف عطف: یہ وہ حروف ہیں جو جملے کے اجزاء (اسم یا فعل) کو آپس میں جوڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں "وَ"، "فَ"، "ثُمَّ"، "أَوْ"، "أَمْ" وغیرہ شامل ہیں۔

مثال (اسم کے لیے): جَاءَ زَيْدٌ وَعَمْرُو (زید اور عمرو آئے)۔

مثال (فعل کے لیے): جَاءَ زَيْدٌ فَأَكَلَ (زید آیا اور پھر کھانا کھایا)۔

۲۔ حروف استفہام (ھمزۃ ، ھل): یہ وہ حروف ہیں جو سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اسم یا فعل دونوں پر داخل ہو سکتے ہیں:

ھمزۃ الاستفہام: یہ "أ" کے طور پر آتی ہے اور کسی بھی اسم یا فعل پر داخل ہو سکتی ہے۔ مثال: أَزَيْدٌ قَائِمٌ؟ (کیا زید کھڑا ہے؟) یا أَذَهَبْتَ؟ (کیا تم گئے؟)۔

ھل: یہ بھی سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر "ہاں" یا "نہیں" کے سوالات میں آتا ہے۔ مثال: هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟ (کیا زید آیا؟) یا هَلْ الْكِتَابُ مَوْجُودٌ؟ (کیا کتاب موجود ہے؟)۔

۳۔ واو الحال: یہ حرف حال (جملے کی حالت) کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسم یا فعل دونوں کے ساتھ آ سکتا ہے۔

مثال (اسم کے لیے): جَاءَ زَيْدٌ وَهُوَ يَضْحَكُ (زید آیا جب کہ وہ ہنس رہا تھا)۔

مثال (فعل کے لیے): خَرَجَ زَيْدٌ وَيَكْتُبُ (زید نکلا اور وہ لکھ رہا تھا)۔

۴۔ لام القسم: یہ لام قسم کے لیے استعمال ہوتا ہے اور فعل یا اسم دونوں کے ساتھ آ سکتا ہے تاکہ جملے میں قسم کی تاکید پیدا ہو۔

مثال (فعل کے لیے): لَأَذْهَبَنَّ (بیشک میں ضرور جاؤں گا)۔

مثال (اسم کے لیے): لَزَيْدٌ شُجَاعٌ (بیشک زید بہادر ہے)۔

6 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

7 عمل کے اعتبار سے حروف کی قسمیں

تعریف

حروف کو عمل کے اعتبار سے دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

حروف عاملہ: یہ وہ حروف ہیں جو جملے کے دوسرے اجزاء پر اثر ڈالتے ہیں اور ان کی حالت (اعراب) کو تبدیل کرتے ہیں۔ یہ حروف فعل یا اسم پر داخل ہو کر اسے منصوب، مجزوم یا مجرور کر سکتے ہیں۔

مثالیں:

حروف جر: یہ اسم پر داخل ہو کر اسے مجرور کرتے ہیں۔ جیسے: فِي، عَلَى، مِنْ وغیرہ۔ مثال: فِي البَيْتِ (گھر میں)۔

حروف ناصبہ: یہ فعل مضارع پر داخل ہو کر اسے منصوب کرتے ہیں، جیسے:أَنْ، لَنْ، كَيْ وغیرہ۔ مثال: لَنْ أَذْهَبَ (میں نہیں جاؤں گا)۔

حروف جاذمہ: یہ فعل مضارع پر داخل ہو کر اسے مجزوم کرتے ہیں، جیسے: لَمْ، لَمَّا، إِنْ وغیرہ۔ مثال: لَمْ يَذْهَبْ (وہ نہیں گیا)۔

حروف غیر عاملہ: یہ وہ حروف ہیں جو جملے کے اجزاء پر کوئی اعرابی اثر نہیں ڈالتے، یعنی ان کے داخل ہونے سے اسم یا فعل کی حالت نہیں بدلتی۔ یہ حروف جملے میں صرف ربط یا معنی کو واضح کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مثالیں:

حروف عطف: یہ جملے کے مختلف اجزاء کو آپس میں جوڑتے ہیں، لیکن اعراب میں تبدیلی نہیں کرتے، جیسے: وَ، فَ، ثُمَّ۔ مثال: جَاءَ زَيْدٌ وَعَمْرُو (زید اور عمرو آئے)۔

حروف استفہام: یہ سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور جملے کے اعراب پر اثر نہیں ڈالتے، جیسے: هَلْ،أَ۔ مثال: هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟ (کیا زید آیا؟)۔

خلاصہ:

حروف عاملہ: وہ حروف جو جملے کے اجزاء پر اعرابی اثر ڈالتے ہیں۔

حروف غیر عاملہ: وہ حروف جو جملے کے اجزاء پر کوئی اعرابی اثر نہیں ڈالتے۔

8 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

9 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

380 questions in this lesson