Grammar

The map

  • فعل
    • زمانہ کے اعتبار سے
    • مفعول بہ ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے
    • فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے
    • حروف کی تعداد کے اعتبار سے
    • حروف اصلیہ کے اعتبار سے
    • اعراب و بناء کے اعتبار سے

1 The rule

تعریف

زمانہ کے اعتبار سے فعل کی تین قسمیں ہیں

۱۔ ماضی : ایسے واقعہ پر دلالت کرے جو گذر چکا ہو ،قرأ

۲۔ مضارع: ایسے واقعہ پر دلالت کرے جو ہو رہا ہے، یا مستقبل میں ہونے والا ہے ۔یقرأ

۳۔ امر: ایسے واقعہ پر دلالت کرے جو مستقبل میں ہونے والا ہے حکم یا طلب کے صیغہ کے ساتھ ۔اقرأ

زمانہ کی تعریف دیگر کتب میں3

تمرین الصرفتمرین الصرف۔ سبق:۱

ماضی:  وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا زمانہ گزشتہ میں ہونا سمجھا جائے

مثال: فَعَلَ (اس نے کیا) ، نَصَرَ (اس نے مدد کی )

مضارع:  وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا کبھی زمانہ حال اور کبھی زمانہ آئندہ (مستقبل) میں ہونا سجھا جائے (یعنی اس میں دونوں زمانے پائے جاتے ہیں)

مثال: یَذْھَبُ (وہ جاتا ہے یا جائےگا) ، یَفعَلُ (وہ کرتا ہے یا کرے گا)

امر: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کے کرنے کا حکم معلوم ہو ۔

مثال: اِذھَبْ (تو جا) ، اِفْعَلْ (تو کر)

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۸،۹،۱۱،۱۲

سبق ۸

۱۔ فعل ماضی اس فعل کو کہتے ہیں جو گزرے ہوئے زمانہ میں کسی کام کے ہونے" یا "کرنے پر دلالت کرے

مثال: کَتَبَ حَامِدٌ کِتَابًا (حامد نے ایک خط لکها)

۲۔ فعل مضارع اس فعل کو کہتے ہیں جو زمانہ حال یا زمانہ مستقبل میں کسی کام کے واقع ہونے پر دلالت کرے

مثال: يَكْتُبُ حَامِدٌ (حامد لکھتا ہے یا لکھے گا)

۳۔ فعل امر اس فعل کا نام ہے جس میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے : مثال : اِقْرَاْ (پڑھ)

فعل نہی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔ جیسےا: لَا تَقْرَاْ

نوٹ: فعل نہی بھی فعل امرکی ایک قسم ہے کیونکہ اس میں بھی درحقیقت حکم ہی پایا جاتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ امر میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور نہی میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم ہوتا ہے۔

Read the rest (148)

سبق ۱۱

(ماضی بعید و ماضی استمراری)

فعل ماضی کی دو قسمیں: ماضی بعید ماضی استمراری

(۱) فعل ماضی کے شروع میں لفظ کَانَ بڑھا دینے سے فعل ماضی بعید بن جاتا ہے جیسے ذهَبَ سے كَانَ ذَهَبَ (وہ گیا تھا)، اور ذَهَبُوا سے كَانُوا ذَهَبُوۡا (وہ لوگ گئے تھے)

(۲) اسی طرح فعل مضارع کے شروع میں اگر کَانَ بڑھا دیا جائے تو ماضی استمراری بن جاتا ہے جیسے یَذۡھَبُ سے کَانَ يَذْهَبُ (وہ جاتا تھا) اور يَذْهَبُوۡنَ سے كَانُوۡا يَذْهَبُونَ (وہ لوگ جاتے تھے ) ۔ ان کی پوری گردان حسب ذیل طریقے پر آئے گی :-

(۱) فعل ماضی بعید کی گردان

مذکر غائب :

كَانَ ذَهَبَ ،

كَانَا ذَهَبَا ،

كَانُوۡا ذَهَبُوۡا

مونث غائب :

كَانَتۡ ذَهَبَتۡ ،

كَانَتَا ذَهَبَتَا ،

كُنَّ ذَهَبْنَ

مذکر حاضر :

كُنتَ ذَهَبۡتَ،

کُنۡتُمَا ذَهَبْتُمَا

كُنْتُمْ ذَهَبْتُمۡ

مونث حاضر :

كُنۡتِ ذَهَبۡتِ

کُنۡتُمَا ذَهَبۡتُمَا

كُنۡتُنَّ ذَهَبۡتُنّ َ

واحد متكلم :

كُنۡتُ ذَهَبْتُ

جمع متکلم :

كُنَّا ذَهَبْنَا

(۲) فعل ماضی استمراری کی گردان

مذکر غائب :

كَانَ يَذْهَبُ

كَانَا يذۡهَبَانِ

کَانُوۡا یَذۡهَبُوۡنَ

مونث غائب :

كَانَتْ تَذهَبُ

كَانَتَا تَذهَبَانِ

كُنّ يَذْهَبْنَ

مذکر حاضر :

كُنۡتَ تَذۡهَبُ

كُنۡتُمَا تَذْهَبَانِ

كُنتُمۡ تَذْهَبُوۡنَ

مونث حاضر :

كُنۡتِ تَذْهَبِيۡنَ

كُنْتُما تَذْهَبَانِ

كُنتُنَّ تَذْهَبۡنَ

واحد متکلم :

كُنۡتُ اَذۡهَبُ

جمع متكلم :

كُنَّا نَذۡهَبُ

نوٹ :۔ ماضی بعید اور ماضی استمراری دونوں میں کان کا فعل ماضی ہی رہے گا جیسا کہ اوپر کے نقشہ سے ظاہر ہے۔

اسی طرح ماضی بعید اور ماضی استمراری اگر مجہول ہوں جب بھی کان اوپر کے نقشہ کے مطابق ہی رہے گا اور تبدیلی صرف بعد والے فعل میں ہوگی جیسے کَانَ کُتِبَ لکھا گیا تھا، اور كَانَ يُكۡتَبُ لکھا جاتا تھا،

(ماضی استمراری منفی)

ماضی بعید میں چونکہ دونوں فعل ماضی ہی ہوتے ہیں اس لئے شروع میں ما نافیہ بڑھا کر حسب قاعدہ اسے مثبت سے منفی بنا لیتے ہیں جیسے

(کُنۡتُ ذَهَبۡتُ سے مَا كُنۡتُ ذَهَبۡتُ ) (میں نہیں گیا تھا)

مگر ماضی استمراری میں چونکہ کان فعل ماضی اور بعد کا فعل، فعل مضارع ہوتا ہے اس لئے اس کے منفی صیغے بنانے کے دو طریقے ہیں:۔

(۱) یہ کہ کان کے شروع میں ما نافیہ بڑھا دیا جائے جیسے مَا كَانَ يَلْعَبُ (وہ نہیں کھیلتا تھا)

(۲) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کان کے بعد دوسرے فعل کے شروع میں لائے نفی لگا دیا جائے جیسے : كَانَ لَا يَلۡعَبُ(وہ نہیں کھیلتا تھا)

سبق ۹

فعل مضارع (۱)

ماضی کی طرح مضارع کے بھی چودہ صیغے آتے ہیں اس کے اندر زمانہ حال و استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔ یہ فعل ماضی سے بنایا جاتا ہے۔ اس کے شروع میں (ا، ت، ی، ن) میں سے کسی حرف کا ہونا ضروری ہے۔ یہ چاروں حروف علامت مضارع کہلاتے ہیں۔ اس کے بنانے کا قاعدہ صرف کی کسی کتاب میں دیکھو۔ ذیل میں صرف گردانیں دی جاتی ہیں۔

غائب مذکر

واحد تثنیہ جمع

يَكْتُبُ يَكْتُبَانِ يَكْتُبُوۡنَ

غائب مونث

واحد تثنیہ جمع

تَكْتُبُ تَكتُبَانِ يَكْتُبۡنَ

مذکر حاضر

واحد تثنیہ جمع

تَكتبُ تَكْتُبانِ تَكْتُبُوۡنَ

مونث حاضر

واحد تثنیہ جمع

تَكتُبِيۡنَ تَكْتُبَانِ تَكْتُبۡنَ

متکلم

واحد تثنیہ وجمع

أ كَتُبُ نكَتُبُ

( فعل مستقبل)

تم نے درس ۹ میں ابھی پڑھا ہے کہ فعل مضارع میں زمانہ حال اور استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں فعل مستقبل کے جملے لکھے جاتے ہیں۔ ان کا ترجمہ فعل مضارع ہی سے کیا جائے گا۔

کبھی فعل مضارع جو استقبال کے لئے آتا ہے۔ اس پر ”س“ اور ”سوف“ داخل کر دیتے ہیں "س " کے داخل کئے جانےکے بعد فعل مضارع مستقبل کے معنی میں خاص ہو جاتا ہے "س" مستقبل قریب اور "سوف" مستقبل بعید کے لئے لاتے ہیں۔

(۱) سَاُهْدِي إِلَيْكَ كِتَابًا مُمَتِّعًا (عنقریب میں تم کو ایک مفید کتاب ہدیہ کروں گا )

(۲) سَتَلْعَبُ فِرْقَتُنَا غَدًا ( کل ہماری پارٹی کھیلے گی)

فعل استمرار

اردو میں کچھ افعال ایسے آتے ہیں جن میں استمرار کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے میں آرہا ہوں۔ محمود بازار جا رہا ہے، حامد سو رہا ہے وغیرہ۔ مگر عربی زبان میں اس کے لئے کوئی مستقل فعل نہیں آتا۔ اس لئے کبھی ان کا ترجمہ فعل مضارع سے کرتے ہیں اور کبھی اسم فاعل سے، ذیل کے جملوں کی عربی دیکھو۔

(۱)محمود بازار جا رہا ہے۔ يَذْهَبُ مَحْمُودٌ إِلَى السُّوقِ يا مَحْمُودٌ ذَاهِب إِلَى السُّوقِ

(۲) بادل برس رہا ہے۔ تُمطِرُ السَّمَاءُ یا السَّمَاءُ مُمطِرَةٌ

(۳) بچہ سو رہا ہے۔ اَلطِّفۡلُ نَائِمٌ

(۴) فاطمہ سبق یاد کر رہی ہے۔ تَحْفَظُ فَاطِمَةُ الدَّرْسَ

سبق ۱۲

(فعل امر)

فعل امر کی تعریف درس ۸ میں تم نے پڑھی ہے، ذیل میں اس کے بنانے کا قاعدہ لکھا جاتا ہے۔

۱۔ فعل امر حاضر معروف مضارع حاضر معروف سے بنایا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ :

(۱) سب سے پہلے علامت مضارع حذف کر دی جائے۔

(۲) علامت مضارع حذف کرنے کے بعد پہلا حرف اگر ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزۂ وصل بڑھا دو، جیسے تَکۡتُبُ سے اُكۡتُبۡ وغیرہ ۔

(۳) مضارع کے عین کلمہ کو اگر ضمہ ہو تو ہمزۂ وصل کو بھی ضمہ دے دو اور اگر مضارع کےعین کلمہ کو فتحه ہو یا کسرہ ہو تو دونوں صورتوں میں ہمزۂ وصل مکسور لاؤ جیسے تَكۡتُبُ -سے أُكۡتُبۡ اور تَفۡتَحُ وتَضْرِبُ سے اِفتَحۡ و اِضْرِبْ ۔

(۴) حرف آخر کو ساکن کردو اور اگر کوئی حرف علت ہو تو بالکل ہی حذف کر دو جیسے تَدْعُوۡ سے اُدۡعُ اور تَخۡشٰى سے اِخْشَ اور تَرۡمِیۡ سے اِرۡمِ

(۵) دونوں تثنیه اور جمع مذکر اور واحد مونث حاضر سے نون اعرابی گرادو۔

۲۔ امر معروف اور امر متکلم کے صیغے بھی آئے ہیں ان کے بنانے کا قاعدہ امر حاضر کے قاعدہ سے کچھ مختلف ہے اور وہ یہ ہے کہ :

(۱) علامت مضارع کو باقی رکھتے ہوئے شروع میں لام امر بڑھاؤ اور آخری حرف کو ساکن کردو۔

(۲) امر حاضر کی طرح امر غائب سے بھی نون اعرابی (تثنیه و جمع مذکر کانون) گرادو.

(۳) اسی طرح آخر میں اگر کوئی حرف علت ہو تو اسے حذف کر دو۔

ذیل میں امر کی پوری گردان لکھی جاتی ہے مگر یہ یاد رکھو کہ امر حقیقی امر حاضر ہی کو کہتے ہیں)

لِيَكۡتُبۡ ،

لِيَكۡتُبَا ،

ليَكۡتُبُوۡا ،

لِتَكۡتُبۡ ،

لِتَكۡتُبَا،

لِتَکۡتُبۡنَ

أُكْتُبۡ ،

أُكتُبَا،

اُكْتُبُوا،

اُكۡتُبِيۡ ،

اُكۡتُبَا،

أُكۡتُبۡنَ

لِاَكۡتُبۡ،

لِنَكْتُبْ۔

نوٹ : علامت مضارع حذف کرنے کے بعد اگر پہلا حرف ساکن نہ رہے تو ہمزہ ٔوصل بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے جیسے یَدَعُ سے دَعْ، يُعَلِّمُ سے عَلِّمۡ ، يَتَعَلَّمُ سے تَعَلَّمۡ ، يَتَقَبَّلُ سے تَقَبَّلۡ

(۲) باب افعال میں همزه قطعی(اصلی) ہوتا ہے اس لئے اس کے امر میں تم ھمزہ کو مفتوح دیکھو گے جیسے أحسِن، أکرِم وغیرہ۔

(فعل نهی)

فعل نہی جو امر ہی کی ایک قسم ہے اور جس میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم دیا جاتا ہے یہ بھی فعل مضارع سے بنایا جاتا ہے۔

اس کے بنانے کا قاعدہ یہ ہے:

(۱) علامت مضارع کو باقی رکھتے ہوئے شروع میں لائے نہی بڑھا دو اور حرف آخر کو ساکن کر دو۔

(۲) امر کی طرح نہی میں بھی تثنیہ و جمع مذکر اور واحد مؤنث حاضر سے نون اعرابی حذف کر دیا جاتا ہے۔

(۳) اور اسی طرح آخر میں اگر کوئی حرف علت ہو تو اسے بھی گرادیا جاتا ہے۔ جیسے لا تَدْعُ, لَا تَخۡشَ

ذیل میں فعل نہی کی پوری گردان لکھی جاتی ہے مگر امر ہی کی طرح نہیں حقیقی کے بھی حاضر کے چھ صیغے اصلی ہیں۔

لَا يَكتُبۡ

لَا يَكتُبَا

لَا يَكتُبُوا

لَا تَكتُبۡ

لَا تَكتُبَا

لَا يَكتُبۡنَ

لَا تَكتُبۡ

لَا تَكتُبَا

لَا تَكتُبُوا

لَا تَكتُبِي

لَا تَكتُبَا

لَا تَكتُبۡنَ

لَا اَکۡتُبۡ

لَانَکتُبۡ

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح(جلد:۱) سبق:۳

الْفِعْلُ الْمَاضِي هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يَدُلُّ عَلَى حُصُولِ عَمَلٍ فِي الزَّمَنِ الْمَاضِي.

فعل ماضی: ہر وہ فعل جو بتائے کہ کام گزرے ہوئے زمانہ میں ہو چکا ہے وہ فعل ماضی ہے۔

الامثلة :

جَرَى الكلبُ

وَقَفَ الرجلُ

ضَاعَ الكتابُ

دَقَّتِ الساعةُ

جَاءَتِ البنتُ

Read the rest (10)

بَاضَتِ الدَّجَاجَةُ

الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يَدُلُّ عَلَى حُصُولِ عَمَلٍ فِي الزَّمَنِ الْحَاضِرِ أَوِ الْمُسْتَقْبَلِ وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ مَبْدُوءًا بِحَرْفٍ مِنْ أَحْرُفِ الْمُضَارَعَةِ وَهِيَ الْهَمْزَةُ وَالنُّونُ وَالْيَاءُ وَالتَّاءُ.

فعل مضارع : وہ فعل ہے جو ہمیں بتائے کہ کام زمانہ حال میں ہو رہا ہے یا آنے والے وقت میں ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ اس کے شروع میں حروف مضارع میں سے کوئی ایک حرف آیا ہو ، یہ حروف ہمزہ ،نون، یاء اور تاء ہیں۔

الامثلة:

  1. أَغْسِلُ يَدَيَّ.
  2. أَلْبَسُ ثِيَابِي.
  3. نَمْشِي فِي الْحُقُولِ.
  4. نَلْعَبُ بِالْكُرَةِ.
  5. يَنْبَحُ الْكَلْبُ.
  6. يَنْتَبِهُ الْحَارِسُ.
  7. تَأْكُلُ الْبِنْتُ.
  8. تَذْبُلُ الْوَرْدَةُ.

فِعْلُ الْأَمْرِ هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يُطْلَبُ بِهِ حُصُولُ شَيْءٍ فِي الزَّمَنِ الْمُسْتَقْبَلِ.

فعل امر : وہ فعل ہے جس کے ذریعے آئندہ زمانے میں کسی کام کو انجام دینے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔

الامثلة :

  1. الْعَبْ بِالْكُرَةِ.
  2. أَطْعِمْ قِطَّكَ.
  3. نَظِّفْ ثِيَابَكَ.
  4. نَمْ مُبَكِّرًا.
  5. تَمَهَّلْ فِي السَّيْرِ.
  6. أَجِدْ مَضْغَ الطَّعَامِ.

Open this topic with all books

2 تمرین الصرف۔ سبق:۱

ماضی:  وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا زمانہ گزشتہ میں ہونا سمجھا جائے

مثال: فَعَلَ (اس نے کیا) ، نَصَرَ (اس نے مدد کی )

مضارع:  وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا کبھی زمانہ حال اور کبھی زمانہ آئندہ (مستقبل) میں ہونا سجھا جائے (یعنی اس میں دونوں زمانے پائے جاتے ہیں)

مثال: یَذْھَبُ (وہ جاتا ہے یا جائےگا) ، یَفعَلُ (وہ کرتا ہے یا کرے گا)

امر: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کے کرنے کا حکم معلوم ہو ۔

مثال: اِذھَبْ (تو جا) ، اِفْعَلْ (تو کر)

3 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۸،۹،۱۱،۱۲

سبق ۸

۱۔ فعل ماضی اس فعل کو کہتے ہیں جو گزرے ہوئے زمانہ میں کسی کام کے ہونے" یا "کرنے پر دلالت کرے

مثال: کَتَبَ حَامِدٌ کِتَابًا (حامد نے ایک خط لکها)

۲۔ فعل مضارع اس فعل کو کہتے ہیں جو زمانہ حال یا زمانہ مستقبل میں کسی کام کے واقع ہونے پر دلالت کرے

مثال: يَكْتُبُ حَامِدٌ (حامد لکھتا ہے یا لکھے گا)

۳۔ فعل امر اس فعل کا نام ہے جس میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے : مثال : اِقْرَاْ (پڑھ)

فعل نہی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔ جیسےا: لَا تَقْرَاْ

نوٹ: فعل نہی بھی فعل امرکی ایک قسم ہے کیونکہ اس میں بھی درحقیقت حکم ہی پایا جاتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ امر میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور نہی میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم ہوتا ہے۔

سبق ۱۱

(ماضی بعید و ماضی استمراری)

فعل ماضی کی دو قسمیں: ماضی بعید ماضی استمراری

(۱) فعل ماضی کے شروع میں لفظ کَانَ بڑھا دینے سے فعل ماضی بعید بن جاتا ہے جیسے ذهَبَ سے كَانَ ذَهَبَ (وہ گیا تھا)، اور ذَهَبُوا سے كَانُوا ذَهَبُوۡا (وہ لوگ گئے تھے)

(۲) اسی طرح فعل مضارع کے شروع میں اگر کَانَ بڑھا دیا جائے تو ماضی استمراری بن جاتا ہے جیسے یَذۡھَبُ سے کَانَ يَذْهَبُ (وہ جاتا تھا) اور يَذْهَبُوۡنَ سے كَانُوۡا يَذْهَبُونَ (وہ لوگ جاتے تھے ) ۔ ان کی پوری گردان حسب ذیل طریقے پر آئے گی :-

(۱) فعل ماضی بعید کی گردان

مذکر غائب :

كَانَ ذَهَبَ ،

كَانَا ذَهَبَا ،

كَانُوۡا ذَهَبُوۡا

مونث غائب :

كَانَتۡ ذَهَبَتۡ ،

كَانَتَا ذَهَبَتَا ،

كُنَّ ذَهَبْنَ

مذکر حاضر :

كُنتَ ذَهَبۡتَ،

کُنۡتُمَا ذَهَبْتُمَا

كُنْتُمْ ذَهَبْتُمۡ

مونث حاضر :

كُنۡتِ ذَهَبۡتِ

کُنۡتُمَا ذَهَبۡتُمَا

كُنۡتُنَّ ذَهَبۡتُنّ َ

واحد متكلم :

كُنۡتُ ذَهَبْتُ

جمع متکلم :

كُنَّا ذَهَبْنَا

(۲) فعل ماضی استمراری کی گردان

مذکر غائب :

كَانَ يَذْهَبُ

كَانَا يذۡهَبَانِ

کَانُوۡا یَذۡهَبُوۡنَ

مونث غائب :

كَانَتْ تَذهَبُ

كَانَتَا تَذهَبَانِ

كُنّ يَذْهَبْنَ

مذکر حاضر :

كُنۡتَ تَذۡهَبُ

كُنۡتُمَا تَذْهَبَانِ

كُنتُمۡ تَذْهَبُوۡنَ

مونث حاضر :

كُنۡتِ تَذْهَبِيۡنَ

كُنْتُما تَذْهَبَانِ

كُنتُنَّ تَذْهَبۡنَ

واحد متکلم :

كُنۡتُ اَذۡهَبُ

جمع متكلم :

كُنَّا نَذۡهَبُ

نوٹ :۔ ماضی بعید اور ماضی استمراری دونوں میں کان کا فعل ماضی ہی رہے گا جیسا کہ اوپر کے نقشہ سے ظاہر ہے۔

اسی طرح ماضی بعید اور ماضی استمراری اگر مجہول ہوں جب بھی کان اوپر کے نقشہ کے مطابق ہی رہے گا اور تبدیلی صرف بعد والے فعل میں ہوگی جیسے کَانَ کُتِبَ لکھا گیا تھا، اور كَانَ يُكۡتَبُ لکھا جاتا تھا،

(ماضی استمراری منفی)

ماضی بعید میں چونکہ دونوں فعل ماضی ہی ہوتے ہیں اس لئے شروع میں ما نافیہ بڑھا کر حسب قاعدہ اسے مثبت سے منفی بنا لیتے ہیں جیسے

(کُنۡتُ ذَهَبۡتُ سے مَا كُنۡتُ ذَهَبۡتُ ) (میں نہیں گیا تھا)

مگر ماضی استمراری میں چونکہ کان فعل ماضی اور بعد کا فعل، فعل مضارع ہوتا ہے اس لئے اس کے منفی صیغے بنانے کے دو طریقے ہیں:۔

(۱) یہ کہ کان کے شروع میں ما نافیہ بڑھا دیا جائے جیسے مَا كَانَ يَلْعَبُ (وہ نہیں کھیلتا تھا)

(۲) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کان کے بعد دوسرے فعل کے شروع میں لائے نفی لگا دیا جائے جیسے : كَانَ لَا يَلۡعَبُ(وہ نہیں کھیلتا تھا)

سبق ۹

فعل مضارع (۱)

ماضی کی طرح مضارع کے بھی چودہ صیغے آتے ہیں اس کے اندر زمانہ حال و استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔ یہ فعل ماضی سے بنایا جاتا ہے۔ اس کے شروع میں (ا، ت، ی، ن) میں سے کسی حرف کا ہونا ضروری ہے۔ یہ چاروں حروف علامت مضارع کہلاتے ہیں۔ اس کے بنانے کا قاعدہ صرف کی کسی کتاب میں دیکھو۔ ذیل میں صرف گردانیں دی جاتی ہیں۔

غائب مذکر

واحد تثنیہ جمع

يَكْتُبُ يَكْتُبَانِ يَكْتُبُوۡنَ

غائب مونث

واحد تثنیہ جمع

تَكْتُبُ تَكتُبَانِ يَكْتُبۡنَ

مذکر حاضر

واحد تثنیہ جمع

تَكتبُ تَكْتُبانِ تَكْتُبُوۡنَ

مونث حاضر

واحد تثنیہ جمع

تَكتُبِيۡنَ تَكْتُبَانِ تَكْتُبۡنَ

متکلم

واحد تثنیہ وجمع

أ كَتُبُ نكَتُبُ

( فعل مستقبل)

تم نے درس ۹ میں ابھی پڑھا ہے کہ فعل مضارع میں زمانہ حال اور استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں فعل مستقبل کے جملے لکھے جاتے ہیں۔ ان کا ترجمہ فعل مضارع ہی سے کیا جائے گا۔

کبھی فعل مضارع جو استقبال کے لئے آتا ہے۔ اس پر ”س“ اور ”سوف“ داخل کر دیتے ہیں "س " کے داخل کئے جانےکے بعد فعل مضارع مستقبل کے معنی میں خاص ہو جاتا ہے "س" مستقبل قریب اور "سوف" مستقبل بعید کے لئے لاتے ہیں۔

(۱) سَاُهْدِي إِلَيْكَ كِتَابًا مُمَتِّعًا (عنقریب میں تم کو ایک مفید کتاب ہدیہ کروں گا )

(۲) سَتَلْعَبُ فِرْقَتُنَا غَدًا ( کل ہماری پارٹی کھیلے گی)

فعل استمرار

اردو میں کچھ افعال ایسے آتے ہیں جن میں استمرار کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے میں آرہا ہوں۔ محمود بازار جا رہا ہے، حامد سو رہا ہے وغیرہ۔ مگر عربی زبان میں اس کے لئے کوئی مستقل فعل نہیں آتا۔ اس لئے کبھی ان کا ترجمہ فعل مضارع سے کرتے ہیں اور کبھی اسم فاعل سے، ذیل کے جملوں کی عربی دیکھو۔

(۱)محمود بازار جا رہا ہے۔ يَذْهَبُ مَحْمُودٌ إِلَى السُّوقِ يا مَحْمُودٌ ذَاهِب إِلَى السُّوقِ

(۲) بادل برس رہا ہے۔ تُمطِرُ السَّمَاءُ یا السَّمَاءُ مُمطِرَةٌ

(۳) بچہ سو رہا ہے۔ اَلطِّفۡلُ نَائِمٌ

(۴) فاطمہ سبق یاد کر رہی ہے۔ تَحْفَظُ فَاطِمَةُ الدَّرْسَ

سبق ۱۲

(فعل امر)

فعل امر کی تعریف درس ۸ میں تم نے پڑھی ہے، ذیل میں اس کے بنانے کا قاعدہ لکھا جاتا ہے۔

۱۔ فعل امر حاضر معروف مضارع حاضر معروف سے بنایا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ :

(۱) سب سے پہلے علامت مضارع حذف کر دی جائے۔

(۲) علامت مضارع حذف کرنے کے بعد پہلا حرف اگر ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزۂ وصل بڑھا دو، جیسے تَکۡتُبُ سے اُكۡتُبۡ وغیرہ ۔

(۳) مضارع کے عین کلمہ کو اگر ضمہ ہو تو ہمزۂ وصل کو بھی ضمہ دے دو اور اگر مضارع کےعین کلمہ کو فتحه ہو یا کسرہ ہو تو دونوں صورتوں میں ہمزۂ وصل مکسور لاؤ جیسے تَكۡتُبُ -سے أُكۡتُبۡ اور تَفۡتَحُ وتَضْرِبُ سے اِفتَحۡ و اِضْرِبْ ۔

(۴) حرف آخر کو ساکن کردو اور اگر کوئی حرف علت ہو تو بالکل ہی حذف کر دو جیسے تَدْعُوۡ سے اُدۡعُ اور تَخۡشٰى سے اِخْشَ اور تَرۡمِیۡ سے اِرۡمِ

(۵) دونوں تثنیه اور جمع مذکر اور واحد مونث حاضر سے نون اعرابی گرادو۔

۲۔ امر معروف اور امر متکلم کے صیغے بھی آئے ہیں ان کے بنانے کا قاعدہ امر حاضر کے قاعدہ سے کچھ مختلف ہے اور وہ یہ ہے کہ :

(۱) علامت مضارع کو باقی رکھتے ہوئے شروع میں لام امر بڑھاؤ اور آخری حرف کو ساکن کردو۔

(۲) امر حاضر کی طرح امر غائب سے بھی نون اعرابی (تثنیه و جمع مذکر کانون) گرادو.

(۳) اسی طرح آخر میں اگر کوئی حرف علت ہو تو اسے حذف کر دو۔

ذیل میں امر کی پوری گردان لکھی جاتی ہے مگر یہ یاد رکھو کہ امر حقیقی امر حاضر ہی کو کہتے ہیں)

لِيَكۡتُبۡ ،

لِيَكۡتُبَا ،

ليَكۡتُبُوۡا ،

لِتَكۡتُبۡ ،

لِتَكۡتُبَا،

لِتَکۡتُبۡنَ

أُكْتُبۡ ،

أُكتُبَا،

اُكْتُبُوا،

اُكۡتُبِيۡ ،

اُكۡتُبَا،

أُكۡتُبۡنَ

لِاَكۡتُبۡ،

لِنَكْتُبْ۔

نوٹ : علامت مضارع حذف کرنے کے بعد اگر پہلا حرف ساکن نہ رہے تو ہمزہ ٔوصل بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے جیسے یَدَعُ سے دَعْ، يُعَلِّمُ سے عَلِّمۡ ، يَتَعَلَّمُ سے تَعَلَّمۡ ، يَتَقَبَّلُ سے تَقَبَّلۡ

(۲) باب افعال میں همزه قطعی(اصلی) ہوتا ہے اس لئے اس کے امر میں تم ھمزہ کو مفتوح دیکھو گے جیسے أحسِن، أکرِم وغیرہ۔

(فعل نهی)

فعل نہی جو امر ہی کی ایک قسم ہے اور جس میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم دیا جاتا ہے یہ بھی فعل مضارع سے بنایا جاتا ہے۔

اس کے بنانے کا قاعدہ یہ ہے:

(۱) علامت مضارع کو باقی رکھتے ہوئے شروع میں لائے نہی بڑھا دو اور حرف آخر کو ساکن کر دو۔

(۲) امر کی طرح نہی میں بھی تثنیہ و جمع مذکر اور واحد مؤنث حاضر سے نون اعرابی حذف کر دیا جاتا ہے۔

(۳) اور اسی طرح آخر میں اگر کوئی حرف علت ہو تو اسے بھی گرادیا جاتا ہے۔ جیسے لا تَدْعُ, لَا تَخۡشَ

ذیل میں فعل نہی کی پوری گردان لکھی جاتی ہے مگر امر ہی کی طرح نہیں حقیقی کے بھی حاضر کے چھ صیغے اصلی ہیں۔

لَا يَكتُبۡ

لَا يَكتُبَا

لَا يَكتُبُوا

لَا تَكتُبۡ

لَا تَكتُبَا

لَا يَكتُبۡنَ

لَا تَكتُبۡ

لَا تَكتُبَا

لَا تَكتُبُوا

لَا تَكتُبِي

لَا تَكتُبَا

لَا تَكتُبۡنَ

لَا اَکۡتُبۡ

لَانَکتُبۡ

4 النحو الواضح(جلد:۱) سبق:۳

الْفِعْلُ الْمَاضِي هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يَدُلُّ عَلَى حُصُولِ عَمَلٍ فِي الزَّمَنِ الْمَاضِي.

فعل ماضی: ہر وہ فعل جو بتائے کہ کام گزرے ہوئے زمانہ میں ہو چکا ہے وہ فعل ماضی ہے۔

الامثلة :

جَرَى الكلبُ

وَقَفَ الرجلُ

ضَاعَ الكتابُ

دَقَّتِ الساعةُ

جَاءَتِ البنتُ

بَاضَتِ الدَّجَاجَةُ

الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يَدُلُّ عَلَى حُصُولِ عَمَلٍ فِي الزَّمَنِ الْحَاضِرِ أَوِ الْمُسْتَقْبَلِ وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ مَبْدُوءًا بِحَرْفٍ مِنْ أَحْرُفِ الْمُضَارَعَةِ وَهِيَ الْهَمْزَةُ وَالنُّونُ وَالْيَاءُ وَالتَّاءُ.

فعل مضارع : وہ فعل ہے جو ہمیں بتائے کہ کام زمانہ حال میں ہو رہا ہے یا آنے والے وقت میں ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ اس کے شروع میں حروف مضارع میں سے کوئی ایک حرف آیا ہو ، یہ حروف ہمزہ ،نون، یاء اور تاء ہیں۔

الامثلة:

  1. أَغْسِلُ يَدَيَّ.
  2. أَلْبَسُ ثِيَابِي.
  3. نَمْشِي فِي الْحُقُولِ.
  4. نَلْعَبُ بِالْكُرَةِ.
  5. يَنْبَحُ الْكَلْبُ.
  6. يَنْتَبِهُ الْحَارِسُ.
  7. تَأْكُلُ الْبِنْتُ.
  8. تَذْبُلُ الْوَرْدَةُ.

فِعْلُ الْأَمْرِ هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يُطْلَبُ بِهِ حُصُولُ شَيْءٍ فِي الزَّمَنِ الْمُسْتَقْبَلِ.

فعل امر : وہ فعل ہے جس کے ذریعے آئندہ زمانے میں کسی کام کو انجام دینے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔

الامثلة :

  1. الْعَبْ بِالْكُرَةِ.
  2. أَطْعِمْ قِطَّكَ.
  3. نَظِّفْ ثِيَابَكَ.
  4. نَمْ مُبَكِّرًا.
  5. تَمَهَّلْ فِي السَّيْرِ.
  6. أَجِدْ مَضْغَ الطَّعَامِ.

5 تمارین

6 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۸،۹،۱۱،۱۲

فعل ماضی

اَلتَّمْرِيْنُ (45)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) جَاءَ الْقِطَارُ وَوَقَفَ عَلىَ الرَّصِيْفِ.

(2) طَارَتِ الْحَمَامَةُ وَجَلَسَتْ عَلىَ الشَّجَرَةِ.

(3) خَرَجَ مَحْمُوْدٌ بِبُنْدُوْقِيَّتِهِ وَصَادَ ظَبْيًا.

(4) رَاَتْ فَاطِمَةُ الصَّيْدَ وَفَرِحَتْ.

(5) اجْتَمَعَتِ الْاَخَوَاتُ وَطَبَخۡنَ اللَّحْمَ.

(6) عَجَنَتِ الْبِنْتَانِ وَخَبَزَتَا الْخُبْزَ.

(7) دَعَوْتُ الْاِخْوَانَ وَاَرْسَلْتُ اِلَيْهِمْ.

(8) جَاءَ الضُّيُوْفُ وَجَلَسُوْا حَوْلَ الْمَائِدَةِ.

(9) اَسْرَعَ الْخَادِمَانِ وَاَحَضَرَ الطَّعَامَ.

(10) جَلَسْنَا مَعَ الضُّيُوْفِ وَاَكَلْنَا مَعَهُمْ.

(11) شَرِبْتُمُ الْمَاءَ الْبَارِدَ وَارْتَوَيْتُمْ.

(12) صَنَعْتِ الشَّايَ فَاَحْسَنْتِ الصُّنْعَ.

(13) كَفَرْتُمَا زَوْجَيْكُمَا وَعَصَيْتُمَا اللهَ.

(14) سَمِعْتُنَّ كَلَامَ اللهِ وَبَكَيْتُنَّ.

(15) اَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.

(16) حَفِظْتَ شَيْئًا وَغَابَتْ عَنْكَ اَشْيَاءُ.

اَلتَّمْرِيْنُ (46)

خالی جگہیں پر کرو:

(1) تَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَ___________مَطَرًا كَثِيْرًا.

(2) __________ رِيْحٌ عَاصِفٌ وَقَلَعَتِ الْاَشْجَارَ.

(3) اَطْلَقَ خَالِدٌ الْبُنْدُوْقِيَّةَ وَ __________ حَمَامَةً

(4) ____________ حَامِدٌ وَمَحْمُودٌ مَرْكَبَةً وَرَكَبَا عَلَيْهَا

(5) غَيَّرَ _________ اُوْلَئِكَ مَلَابِسَهُمْ وَ___________ اِلىَ الْمُصَلىَّ

(6) __________ اَلْبَنَاتُ الدَّقِيْقَ وَطَبَخْنَ الرَّغِيْفَ

(7) تَوَضَّاَتِ الْبِنْتَانِ وَ __________ صَلاَةَ الْفَجْرِ

(8) __________ اَلصَّدِيْقَانِ بَعْدَ مُدَّةٍ وَتَعَانَقَا

(9) دَخَلَ عَلىَ الْاَمِيْرِ رِجَالٌ وَ __________ طَوِيْلًا

(10) ___________ اَيَّامُ السُّرُوْرِ بِسُرْعَةٍ عَجِيْبَةٍ

اَلتَّمْرِيْنُ (47)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) حامد نے اذان سنی اور بچوں کو جگایا۔

(۲) دو چھوٹے بچوں نے سحری کھائی اور روزہ رکھا۔

(۳) ان دو عورتوں نے کھانا پکایا اور مسکینوں کو کھلایا۔

(۴) تم دونوں آگرہ گئے اور تاج محل دیکھا۔

(۵) ان لوگوں نے حج کیا اور مسجد نبوی کی زیارت کی۔

(۶) مدرسۃ البنات کی لڑکیاں بس پر سوار ہوئیں اور مدرسہ گئیں۔

(۷) ہم لوگوں نے ٹکٹ خریدا پھر ریل گاڑی پر سوار ہوئے۔

(۸) تم دو عورتوں نے عربی پڑھنا سیکھا۔

(۹) تم سب عورتوں نے اپنے بچوں کو ادب سکھایا۔

(۱۰) تو نے اپنے دوستوں کو چائے پر مدعو کیا۔

(۱۱) میں نے ان کے سامنے ایک تقریر کی اور ان کو اسلام کی طرف بلایا۔

(۱۲) ننھی فاطمہ بازار گئی اور ایک گڑیا خریدی۔

(۱۳) تو ایک عورت نے قرآن پڑھا اور سنت پر عمل کیا۔

(۱۴) خالد و ہشام نے غسل کیا اور اپنے کپڑے دھوئے۔

(۱۵) درجہ چہارم کے لڑکوں نے تقریریں کیں اور انعامات پائے۔

(۱۶) خوش حال مسلمانوں نے غریبوں کو کھانا کھلایا اور ان کو کپڑے پہنائے۔

اَلتَّمْرِيْنُ (59)

(ماضی بعید)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) كُنْتُ تَلَقَّيْتُ كِتَابَكَ مُنْذُ اُسْبُوْعٍ.

(2) كُنْتُ رَاَيْتُكَ فِي مَدِيْنَةِ بَمْبَاي.

(3) كُنَّا زُرْنَا بَيْتَ اللهِ فِي الْعَامِ الْمَاضِي.

(4) كُنْتُمَا جُرِحْتُمَا فِي سَاحَةِ الْحَرْبِ.

(5) كَانَ قُتِلَ كَثِيْرٌ مِنَ الْاَعْدَاءِ.

(6) كُنْتُنَّ حَزِنْتُنَّ بِفَقْدِ اَبِيْكُنَّ.

(7) مَا كُنْتَ عَرَفْتَنِي وَلٰكِنِّي كُنْتُ عَرَفْتُكَ.

(8) كُنَّا خَرَجْنَا اِلىَ الْغَابَةِ وَصِدْنَا الطُّيُوْرَ.

(9) كُنْتُمْ اُخْرِجْتُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَحُرِمْتُمْ مِنْ اَمْوَالِكُمْ.

(10) مَا كَانَ عُوْقِبَ اَحَدٌ مِنْ تَلَامِيْذِ الصَّفِّ الْاَوَّلِ.

(11) مَا كُنْتُمْ حَفِظْتُمْ دُرُوْسَكُمْ فَضُرِبْتُمْ.

(12) كُنْتُنَّ ذَهَبْتُنَّ اِلَى الْمُصَلىَّ يَوْمَ الْفِطْرِ.

اَلتَّمْرِيْنُ (60)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) میں نے آپ کا مقالہ پڑھا تھا۔

(۲) پچھلے ہفتے میں نے آپ کو ایک خط لکھا تھا۔

(۳) تم نے اس سے پہلے تاج محل نہیں دیکھا تھا۔

(۴) ہم دونوں چھٹیوں میں گھر نہیں گئے تھے۔

(۵) میں پچھلے سال بھی آپ سے ملا تھا۔

(۶) ان دونوں نے مجھ کو نہیں پہچانا تھا۔

(۷) آپ لوگوں نے میری بڑی عزت فرمائی تھی۔

(۸) فاطمہ میرے ساتھ کل بازار گئی تھی۔

(۹) اس نے اپنے لیے ایک گڑیا خریدی تھی۔

(۱۰) تم عورتوں نے میری تقریر سنی تھی۔

(۱۱) میں نے لوگوں کو خیر کی طرف بلایا تھا۔

(۱۲) وہ لوگ اذان سے پہلے جاگ گئے تھے۔

(۱۳) تم لوگ کل کھانے پر مدعو کیے گئے تھے۔

(۱۴) پار سال عید کی نماز جامع مسجد میں پڑھی گئی تھی۔

اَلتَّمْرِيْنُ (61)

(ماضی استمراری)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) كُنْتُ اَسْتَيْقِظُ صَبَاحًا وَاَتْلُو الْقُرْآنَ.

(2) كُنْتُ اَسْمَعُ تَغْرِيْدَ الطُّيُورِ عَلَى الْاَغْصَانِ.

(3) كَانَ يَسْكُنُ مَعِيَ رَجُلَانِ مِنْ اَهْلِ الْقَرْيَةِ.

(4) وَكَانَا يَعْمَلَانِ فِي مَعْمَلٍ وَكُنْتُ اَتَعَلَّمُ فِي الْكُلِّيَّةِ.

(5) كَانَ يَحْرُثُ قَرَوِيٌّ اَرْضَهُ وَيَغَنِّيُ.

(6) كُنَّا نَخْرُجُ اِلىَ الْبُسْتَانِ وَنَنْشِقُ الْهَوَاءَ.

(7) كَانَتْ تَرْقَعُ اُمِّي ثِيَابِي وَتَطْبَخُ لِيَ الطَّعَامَ.

(8) كَانَتْ تَذْهَبُ اُخْتَايَ اِلَى الْمَدْرَسَةِ وَتَتَعَلَّمَانِ.

(9) كَانَتْ تَقْطِفُ الْبَنَاتُ الْاَزْهَارَ وَيَفْرَحْنَ.

(10) كُنَّ يَسْمَعْنَ الْخُطْبَةَ مِنْ وَّرَاءِ الْحِجَابِ.

(11) كُنْتِ تَبْكِيْنَ عَلىَ وَلَدِكِ وَتَذْكُرِيْنَ حِوَارَهُ.

(12) كُنْتُنَّ تَحْمِلْنَ الْجِرَارَ وَتَسْقِيْنَ الْجَرْحيَ.

اَلتَّمْرِيْنُ (62)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) میں اس باغ میں ہر روز ٹہلنے آتا تھا۔

(۲) اس گھر میں ایک ایرانی تاجر رہتا تھا۔

(۳) وہ مجھ سے کبھی عربی اور کبھی فارسی میں باتیں کرتا تھا۔

(۴) میری بہن مجھ سے بڑی محبت کرتی تھی۔

(۵) ہم دونوں ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے۔

(۶) عہد اسلامی میں چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا۔

(۷) شراب پینے والوں کو کوڑے لگائے جاتے تھے۔

(۸) کل بڑے زور کی بارش ہو رہی تھی۔

(۹) فاطمہ قرآن مجید کی تلاوت کررہی تھی۔

(۱۰) تو مہمانوں کے لیے کھانا پکارہی تھی۔

(۱۱) اس کھیت میں کل ایک مورناچ رہا تھا۔

(۱۲) تم دونوں ندی میں تیرنا سیکھ رہے تھے۔

(۱۳) ہم لوگ آپ کا ایک گھنٹہ سے انتظار کر رہے تھے۔

(۱۴) تم عورتیں قرآن پاک کا درس سن رہی تھیں۔

اَلتَّمْرِيْنُ (63)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) مَا كَانَ يَذْهَبُ مَحْمُوْدٌ اِلىَ الْمَدْرَسَةِ.

(2) كَانَ لَا يَحْفَظُ اِبْنُكَ دَرْسَهُ.

(3) مَا كُنْتُمْ تَلْعَبُوْنَ فِي الْمُبَارَاةِ.

(4) كُنْتُمْ لاَ تُحْسِنُوْنَ السِّبَاحَةَ مِنْ قَبْلُ.

(5) مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ.

(6) كَانُوْا لاَ يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ.

(7) مَا كُنْتِ تَلْعَبِيْنَ مَعَ اَتْرَابِكِ.

(8) كُنْتِ لَا تَقْبَلِيْنَ الْهَدِيَّةَ مِنْ اَحَدٍ.

اَلتَّمْرِيْنُ (64)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) میں بنگلہ زبان نہیں سمجھتا تھا۔

(۲) وہ سب اردو زبان نہیں جانتے تھے۔

(۳) میں امتحانات میں فیل نہیں ہوا تھا۔

(۴) ہم لوگ کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔

(۵) تم لوگ میرے ساتھ ٹہلنے نہیں نکلتے تھے۔

(۶) میرے چچا ریل گاڑی پر نہیں سوار ہوتے تھے۔

(۷) میری خادمہ کوئی چیز نہیں چراتی تھی۔

(۸) تو پہلے اچھا کھانا نہیں پکاتی تھی۔

(۹) میرے والد کسی سائل کو واپس نہیں کرتے تھے۔

(۱۰) تم لوگ عربی جلسوں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔

(۱۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیتے تھے۔

(۱۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کی مذمت نہیں فرماتے تھے اور نہ اس کی بہت تعریف ہی کرتے تھے۔

اَلتَّمْرِيْنُ (65)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) صاف ہوا صحت کے لیے مفید ہے۔

(۲) تیرنا ایک اچھی ورزش ہے۔

(۳) میری دونوں بہنیں بیمار ہیں۔

(۴) اس شہر کے مسلمان خوش حال ہیں۔

(۵) تمہارے دونوں بھائی بڑے محنتی ہیں۔

(۶) میرے چچا پوسٹ آفس میں کام کرتےتھے۔

(۷) میرے والد نے مجھے ایک انعام دیا ہے۔

(۸) یہ لڑکے مدرسے نہیں جاتے اور دن بھر کھیلتے ہیں۔

(۹) یہ گھڑی دس بجے بند ہوگئی تھی۔

(۱۰) کل ہم لوگ اسٹیشن گئے تھے۔

(۱۱) ایک دیہاتی گارہا تھا اور بکریاں چرارہا تھا۔

(۱۲) دو دوست ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔

(۱۳) میں ایک عربی مقالہ لکھ رہا ہوں۔

(۱۴) لڑکیاں کھیل رہی ہیں اور خوش ہو رہی ہیں۔

(۱۵) تم دونوں ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے تھے۔

(۱۶) ہم لوگ کل اکسپریس سے دہلی جائیں گے۔

اَلتَّمْرِيْنُ (66)

(فی الانشاء)

(۱) اپنے دارالاقامہ پر جملے اسمیہ کے چھ جملے ایسے لکھو جن میں تذکیر و تانیث، واحد جمع اور تثنیہ میں مبتدا و خبر کی مطابقت دکھا سکو۔

(۲) اپنے کمرہ پر جملہ فعلیہ کے کم از کم دس جملے ایسے لکھو جن میں فعل مضارع اور فعل ماضی کی کل قسمیں آجائیں۔ مضمون کی وضاحت کے لیے جملہ اسمیہ سے بھی مدد لو۔

(فعل مضارع)

اَلتَّمْرِيْنُ (48)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) يَقْطِفُ الْوَلَدُ الزَّهْرَةَ وَيَشُمُّهَا

(2) تُحِبُّ فَاطِمَةُ الْقِطَّ وَتَلْعَبُ مَعَهَا

(3) يَلْعَبُ الْوَلَدَانِ كُرَّةَ الْقَدَمِ وَيَمْرَحَانِ

(4) يُطْلِقُ الصَّيَّادُوْنَ الْبَنَادِقَ وَيَصِيْدُوْنَ الطُّيُوْرَ

(5) تَخْدِمُ الْبِنْتَانِ اَبَوَيْهِمَا وَتَمْتَثِلَانِ اَمْرَهُمَا

(6) تَتَجَمَّلُ الْاِفْرَنْجِيَاتُ بِالْمَلَابِسِ وَيَخْرُجْنَ سَافِرَاتٍ

(7) تَخْرُجُ اِلىَ السُّوْقِ وَتَشْتَرِي الْحَوَائِجَ

(8) يَمْحَقُ اللهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ

(9) تَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ

(10) تَسْتَيْقِظَانِ صَبَاحًا وَتَخْرُجَانِ اِلىَ الْبَسَاتِيْنِ

(11) تَذْكُرِيْنَ اللهَ وَتَشْكُرِيْنَ نِعَمَهُ

(12) تَعْرِفْنَ اللهَ وَتَسْعَيْنَ فِي فِعْلَ الْخَيْرَاتِ

(13) اُحِبَّ كَرِيْمَ الطِّبَاعِ وَاَكْرَهُ سَيِّءَ الْاَخْلاَقِ

(14) نَتَّبِعُ السُّنَّةَ وَنَكْرَهُ الْغُلُوَّ فِي الدِّيْنِ

اَلتَّمْرِيْنُ (49)

خالی جگہیں پر کرو:

(1) ________ اَلْبَرْقُ وَيَخْطَفُ الْاَبْصَارَ.

(2) تَخَافُ الْبِنْتُ الْقِطَّ وَ _________ مِنْهُ

(3) ______ الصَّيَّادَانِ الشَّبَكَةَ وَيَصِيْدَانِ السَّمَكَ

(4) يُحِبُّ الْاَغْنِيَاءُ السُّمْعَةَ وَ _______ اَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِهَا

(5) ___________ البِنْتَانِ الدَّقِيْقَ وَتَخْبِزَانِ الرَّغِيْفَ

(6) تُوْقِدُ الْبَنَاتُ المَوْقِدَ وَ___________ اللَّحْمَ

(7) __________ فِي الْحَدِيْقَةِ وَتَقْطِفُ الْاَزْهَارَ

(8) تَرْکَبَانِ الدَّرَّاجَةَ وَ __________ اِلىَ الْمَدْرَسَةِ

(9) ____________ اِلَى النَّهْرِ وَتَتَعَلَّمُوْنَ السِّبَاحَةَ

(10) تَطْبَخْنَ الطَّعَامَ وَ ___________ ثِبَابَ اَوْلَادِكُنَّ

(11) __________ اَلدَّرَّاجَةَ وَاَرْكَبُ عَلَيْهَا

(12) نَخْرُجُ اِلىَ الْبَسَاتِيْنِ وَ ___________

اَلتَّمْرِيْنُ (50)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) سورج ڈوبتا ہے اور تاریکی چھاجاتی ہے۔

(۲) فاطمہ شمع جلاتی ہے اور اپنا سبق یاد کرتی ہے۔

(۳) حامد اور محمود بازار سے واپس آتے ہیں اور گھر میں داخل ہوتے ہیں۔

(۴) فاطمہ اور صفیہ کھڑی ہوتی ہیں اور سلام کرتی ہیں۔

(۵) مسلمان عورتیں قرآن پڑھتی ہیں اور سنت پر عمل کرتی ہیں۔

(۶) درجہ پنجم کے طلبہ مقالے لکھتے ہیں اور تقریر کرتے ہیں۔

(۷) تم دونوں کھیل میں اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔

(۸) تو غریبوں کی مدد کرتا ہے اور اجر کا مستحق ہوتا ہے۔

(۹) تم لوگ دن بھر کارخانہ میں کام کرتے ہو۔

(۱۰) تم عورتیں اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہو۔

(۱۱) تو مشکل کام کرتی ہے اور تھک جاتی ہے۔

(۱۲) میں ہر روز صبح سویرے اٹھتا ہوں۔

(۱۳) فرید کے دونوں بیٹے فصیح عربی بولتے ہیں۔

(۱۴) ہم لوگ اللہ کی بندگی کرتے اور اس سے مدد چاہتے ہیں۔

اَلتَّمْرِيْنُ (51)

(فعل منفی)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) لَا يَبْخَلُ الْكَرِيْمُ بِمَالِهِ

(2) لَا تَدُوْمُ صَدَاقَةَ اللَّئِيْمِ

(3) لَا يَاْمَنُ الْعَجُوْلُ مِنَ الْعِثَارِ

(4) تَتَغَيَّمُ السَّمَاءُ وَلاَ تُمْطِرُ

(5) مَا رَبِحَتْ تِجَارَتُنَا فِي الْعَامِ الْمَاضِي

(6) مَا حَرَثَ الْفَلَّاحُوْنَ اَرْضَهُمْ وَمَا بَذَرُوْا

(7) مَا عَابَ رَسُوْلُ اللهِ طَعَامًا قَطُّ

(8) مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ

(9) مَا قَدَرُوْا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ

(10) تَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَلاَ تَخَافُوْنَ اللهَ

(11) لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُوْنَ اَبَدًا

(12) تَجْرِيْ الرِّيَاحُ بِمَا لاَ تَشْتَهِي السُّفُنُ

اَلتَّمْرِيْنُ (52)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) اللہ تعالی زمین میں بگاڑ کو پسند نہیں کرتا۔

(۲) تم دونوں وقت پر نہیں پہونچے۔

(۳) تمہارے والد دہلی سے واپس نہیں آئے۔

(۴) تم لوگوں نے اپنے اسباق یاد نہیں کیے۔

(۵) میں کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوا۔

(۶) تو صبح سویرے نہیں اٹھتی۔

(۷) فاطمہ اپنی کتاب کی حفاظت نہیں کرتی۔

(۸) نیکی کبھی برباد نہیں جاتی۔

(۹) میں کسی امتحان میں فیل نہیں ہوا۔

(۱۰) تم سب اپنے اسباق یاد نہیں کرتیں۔

(۱۱) محنتی لڑکے مدرسہ سے غیر حاضر نہیں ہوتے۔

(۱۲) اچھے بچے شریروں کے ساتھ نہیں کھیلتے۔

(۱۳) مسلمان عورتیں بے پردہ نہیں نکلتیں۔

(۱۴) ہم لوگ فحش لٹریچر (کتابوں) کا مطالعہ نہیں کرتے۔

( فعل مستقبل)

اَلتَّمْرِيْنُ (53)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) میں عربی زبان میں کل ایک تقریر کروں گا۔

(۲) میرے والد مجھے عنقریب ایک انعام دیں گے۔

(۳) ہم دونوں چھٹیوں میں اس سال گھر نہیں جائیں گے۔

(۴) محمود اور سالم کل ہوائی جہاز سے سفر کریں گے۔

(۵) آج شام کی ٹرین سے میں دہلی جاؤں گا۔

(۶) فاطمہ اپنی ماں کے ساتھ ایک شادی میں جائے گی۔

(۷) تمہارا باغ اس سال خوب پھلے گا۔

(۸) ہم اگلے سال اپنے باغ میں آم کے درخت لگائیں گے۔

(۹) تمہاری محنت ضائع نہیں جائے گی۔

(۱۰) تم لوگ اپنی محنت کا صلہ پاؤ گے۔

(۱۱) آج ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ آئے گی۔

(۱۲) آپ لوگ ریل کے وقت سے پہلے پہونچیں گے۔

(۱۳) اس سال گرمی سخت پڑے گی۔

(۱۴) تو اپنے والد کے ساتھ خانہ کعبہ کی زیارت کرے گی۔

(۱۵) یہ لوگ زیادتیوں سے باز نہیں آئیں گے۔

(۱۶) اللہ مشرکین کو معاف نہیں فرمائے گا۔

فعل استمرار

اَلتَّمْرِيْنُ (54)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) میں اپنے والد کو ایک خط لکھ رہا ہوں۔

(۲) فاطمہ اپنی گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔

(۳) یہ لڑکیاں پھول جمع کررہی ہیں۔

(۴) میری ماں میرے لیے کھانا پکارہی ہے۔

(۵) محمود اپنا سبق پڑھ رہا ہے۔

(۶) یہ لڑکے اپنے اسکول جارہے ہیں۔

(۷) دونوں مزدور کنواں کھود رہے ہیں۔

(۸) یہ بڑھئی کرسیاں بنا رہا ہے۔

(۹) حامد عربی زبان میں تقریر کررہا ہے۔

(۱۰) عائشہ قرآن مجید کی تلاوت کررہی ہے۔

(۱۱) بوڑھی خادمہ صحن میں جھاڑو دے رہی ہے۔

(۱۲) محمود کا نوکر گائے ددہ رہا ہے۔

(۱۳) تم دونوں روٹیاں پکا رہی ہو۔

(۱۴) تو مجھ سے ایک معمولی بات پر جھگڑ رہی ہے۔

(۱۵) یہ لاری اسٹیشن جارہی ہے۔

(۱۶) چرواہے گارہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں۔

اَلتَّمْرِيْنُ (67)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلاَةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا.

(2) مَا آتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا.

(3) اَوْفُوْ الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ.

(4) قَالَ اللهُ لِمُوْسَى وَهَارُوْنَ، اِذْهَبَا اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهُ طَغٰى.

(5) فَقُوْلاَ لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشىَ.

(6) وَقِيْلَ لِمَرْيَمَ فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّيْ عَيْنًا.

(7) اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا.

(8) اِجْلِسْ وَاسْتَرِحْ وَ لِأَذْهَبْ اَنَا اِلىَ السُّوْقِ.

(9) اِكْتَرِلِي مَرْكَبَةً وَلِيَدْعُ اَحْمَدُ حَمَّالًا.

(10) اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُوْرِ اللهِ.

(11) اَكْرِمُوْا الضُّيُوْفَ وَاَحْسِنُوْا مَثْوَاهُمْ.

(12) عَلِّمۡنَ اَوْلَادَكُنَّ الْاَدَبَ وَالدِّيْنَ.

اَلتَّمْرِيْنُ (68)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) صبح سویرے اٹھو اور اللہ کا نام لو۔

(۲) چاق و چوبند رہ اور کاہلی چھوڑ۔

(۳) ماں باپ کا کہا مان اور انکی عزت کر۔

(۴) فاطمہ خاموش رہ اور میری بات سن۔

(۵) گھر کی خادمہ جھاڑو دے اور برتن صاف کرے۔

(۶) تم عورتیں کھانا پکاؤ اور بچوں کو کھلاؤ۔

(۷) یہ لڑکیاں اب پردہ کریں۔

(۸) خدا کی نافرمانی (معصیت) سے بچو۔

(۹) اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کر۔

(۱۰) غریبوں پر ترس کھاؤ اور ان کی مدد کرو۔

(۱۱) تم دونوں سامان کی حفاظت کرو۔

(۱۲) تم لوگ مقالے لکھو اور میں تقریر کروں۔

(۱۳) محمود شعر پڑھے اور لوگوں کو سنائے۔

(۱۴) وہ لوگ دشمن سے ہوشیار رہیں۔

(۱۵) اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو۔

فعل نہی

اَلتَّمْرِيْنُ (69)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) لاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰهًا آخَرَ.

(2) لَا تُشْرِكۡ بِاللّٰهِ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ.

(3) لَا تُطِعِ الْكَافِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ جِهَادًا كَبِيْرًا.

(4) لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلىَ عُنُقِكَ.

(5) وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ.

(6) لَا تَاْكُلُوۡا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.

(7) لَاۡ تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ.

(8) لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا.

(9) لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ.

(10) لَا تَجَسَّسُوْا وَلاَ يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا.

(11) لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِنْهُمْ.

(12) لاَ تَلْمِزُوْا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ.

(13) وَلاَ تَبْخَسُوْا النَّاسَ اَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثُوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ.

(14) اِلْزَمْنَ بُيُوْتَكُنَّ وَلاَ تَخْرُجْنَ سَافِرَاتٍ.

(15) لَا تَتَحَدَّثۡ بِكُلِّ مَا سَمْعْتَ.

(16) لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْيَاءٌ.

اَلتَّمْرِيْنُ (70)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) اللہ کی بندگی کرو اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

(۲) اپنے فرائض کی ادائیگی میں کاہلی مت کرو۔

(۳) اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہ کرو۔

(۴) خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔

(۵) ماں باپ کی خدمت کرو اور ان کے لیے اف نہ کہو۔

(۶) یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔

(۷) غریبوں کی مدد کرو اور ان پر ظلم نہ کرو۔

(۸) تم دونوں دوپہر میں گھر سے نہ نکلو۔

(۹) فاطمہ! گڑیا سے کھیل اور چاقو سے نہ کھیل۔

(۱۰) اپنے بھائی کا عذر قبول کر۔

(۱۱) تم عورتیں بے پردہ نہ نکلو۔

(۱۲) فواحش کے قریب نہ جا۔

(۱۳) خالد تو یہیں بیٹھ اور محمود بازار جائے۔

(۱۴) ہم میں سے ہر شخص مظلوموں کی مدد کرے۔

(۱۵) وہ دونوں میرے معاملہ میں مداخلت نہ کریں۔

(۱۶) تو لالٹین جلا میں کھڑکیاں کھولوں۔

(۱۷) کوئی طالب علم دوپہر کے وقت مدرسے سے باہر نہ جائے۔

(۱۸) سچ بولنے کی عادت ڈالو اور کبھی جھوٹ نہ بولو۔

(۱۹) آج تم دونوں عجائب گھر نہ جاؤ۔

(۲۰) تم عورتیں یہاں نہ بیٹھو۔

7 النحو الواضح(جلد:۱) سبق:۳

التَّمْرِينُ (١):

اِقْرَأِ الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةَ وَمَيِّزِ الْأَفْعَالَ الْمَاضِيَةَ وَالْأَفْعَالَ الْمُضَارِعَةَ وَأَفْعَالَ الْأَمْرِ.

(١) جَنَى الْفَلَّاحُ قُطْنَهُ وَبَاعَهُ ثُمَّ اشْتَرَى بِبَعْضِ ثَمَنِهِ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ.

(٢) نَظَرَ الطِّفْلُ إِلَى الطَّائِرِ وَهُوَ يُحَلِّقُ فِي السَّمَاءِ فَأَحَبَّ أَنْ يَطِيرَ مِثْلَهُ.

(٣) هَبَّتِ الْعَوَاصِفُ لَيْلًا فَأَطْفَأَتِ الْمَصَابِيحَ وَاقْتَلَعَتْ بَعْضَ الْأَشْجَارِ.

(٤) سَطَا الذِّئْبُ عَلَى الْغَنَمِ فَافْتَرَسَ وَاحِدَةً وَفَرَّهَا رِبًّا.

(٥) أُدْخُلِ الْبُسْتَانَ وَمَتِّعْ نَفْسَكَ بِمَنْظَرِهِ وَلَا تَعْبَثْ بِأَزْهَارِهِ وَثِمَارِهِ.

(٦) لَا تُكْثِرْ مِنَ الْكَلَامِ وَلَا تَنْطِقْ بِمَا لَا تَعْلَمُ.

(٧) اغْسِلْ يَدَيْكَ قَبْلَ الْأَكْلِ وَبَعْدَهُ وَنَظِّفْ أَسْنَانَكَ وَلَا تُدْخِلِ الطَّعَامَ عَلَى الطَّعَامِ.

التَّمْرِينُ (۲):

(١) ضَعْ قَبْلَ كُلِّ اسْمٍ مِنَ الْأَسْمَاءِ الْآتِيَةِ أَوْ بَعْدَهُ فِعْلًا مَاضِيًا يُلَائِمُهُ:

الْغُصْنُ - الزُّجَاجُ - الْقَلَمُ - الشَّمْسُ

الْقِطَارُ - الْبَحْرُ - الثَّمَرُ - الْمِصْبَاحُ

(٢) ضَعْ قَبْلَ كُلِّ اسْمٍ مِنَ الْأَسْمَاءِ الْآتِيَةِ أَوْ بَعْدَهُ فِعْلًا مُضَارِعًا يُلَائِمُهُ.

الرِّيحُ - الْغُبَارُ - الْهِلَالُ - الْإِنَاءُ

الْمِصْبَاحُ - النَّهْرُ - السَّفِينَةُ - الْقَلَمُ

التَّمْرِينُ (۳):

(١) ضَعْ فِعْلًا مُضَارِعًا فِي الْمَكَانِ الْخَالِي مِمَّا يَأْتِي:

١. الْفَأْرَةُ ..... مِنَ الْقِطِّ.

٢. الْكَلْبُ ..... وَرَاءَ صَاحِبِهِ.

٣. الدَّجَاجَةُ ..... كُلَّ يَوْمٍ بَيْضَةً.

٤. الْأُمُّ ..... أَوْلَادَهَا.

(٢) ضَعْ فِعْلًا مَاضِيًا فِي الْمَكَانِ الْخَالِي مِمَّا يَأْتِي:

١. الْوَلَدُ ..... الْجُلُوسَ.

٢. الرَّجُلُ ..... فِي النَّهْرِ.

٣. الْخَادِمُ ..... الْحُجْرَةَ.

٤. عَلِيٌّ ..... إِلَى فَرَنْسَا.

التَّمْرِينُ (۴):

(١) ائْتِ بِخَمْسِ جُمَلٍ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا مَبْدُوءَةٌ بِفِعْلٍ مَاضٍ.

(٢) ائْتِ بِخَمْسِ جُمَلٍ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا مَبْدُوءَةٌ بِفِعْلٍ مُضَارِعٍ.

(٣) ائْتِ بِخَمْسِ جُمَلٍ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا فِعْلُ أَمْرٍ.

التَّمْرِينُ (۵):

(١) ائْتِ بِأَرْبَعِ جُمَلٍ بِكُلٍّ مِنْهَا فِعْلٌ مُضَارِعٌ بِحَيْثُ تَكُونُ أَحْرُفُ الْمُضَارَعَةِ فِي الْأَفْعَالِ الْأَرْبَعَةِ مُخْتَلِفَةً.

التَّمْرِينُ (۶):

(أ) اكْتُبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بَعْدَ تَغْيِيرِ كُلِّ فِعْلٍ مَاضٍ فِيهَا بِفِعْلٍ مُضَارِعٍ:

١. سَارَ الْقِطَارُ.

٢. طَارَ الصَّقْرُ.

٣. سَافَرَ وَالِدِي.

٤. مَرِضَ الْغُلَامُ.

٥. نَزَلَ الْمَطَرُ.

٦. عَطِشَ الزَّرْعُ.

(ب) اكْتُبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بَعْدَ تَغْيِيرِ كُلِّ فِعْلٍ مُضَارِعٍ بِفِعْلٍ مَاضٍ:

١. يُغَرِّدُ الْعُصْفُورُ.

٢. يُثْمِرُ الْبُسْتَانُ.

٣. يَبِيعُ التَّاجِرُ الْبُنَّ.

٤. يُغْسِلُ الْوَلَدُ يَدَيْهِ.

٥. تُنَظِّفُ الْبِنْتُ ثِيَابَهَا.

٦. يَجْنِي الْفَلَّاحُ الْقُطْنَ.

(ج) حَوِّلِ الْمُضَارِعَ فِي الْجُمَلِ الْآتِيَةِ إِلَى فِعْلِ أَمْرٍ وَأَضْبِطِ الْأَمْرَ بِالشَّكْلِ:

١. احْتَرِمْ الْمُعَلِّمَ.

٢. احْفَظِ الدَّرْسَ.

٣. انْظُفِ الْحِذَاءَ.

٤. اقْرَأِ الْكِتَابَ.

٥. اشْتَغِلْ فِي الْحَدِيقَةِ.

٦. انْطِقْ بِالصِّدْقِ.

التَّمْرِينُ (۷):

(١) ضَعْ كُلَّ فِعْلٍ مِنَ الْأَفْعَالِ الْآتِيَةِ فِي جُمْلَةٍ مُفِيدَةٍ مُرَكَّبَةٍ مِنْ ثَلَاثِ كَلِمَاتٍ فَأَكْثَرَ.

(٢) هَاتِ خَمْسَ جُمَلٍ فِي مَوْضُوعِ الْأَسَدِ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِفِعْلٍ مَاضٍ.

(٣) هَاتِ خَمْسَ جُمَلٍ فِي مَوْضُوعِ النَّهْرِ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِفِعْلٍ مُضَارِعٍ.

(٤) هَاتِ خَمْسَ جُمَلٍ تَأْمُرُ فِيهَا تِلْمِيذًا بِخَمْسَةِ أَعْمَالٍ تَرْتَبِطُ بِالْمَدْرَسَةِ.

8 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

9 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

36 questions in this lesson