All topics

منصوب اسماء

مفعول مطلق دیگر کتب میں

6 passages

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح ابتدئیۃ (جلد:۲) سبق:۳۱

المفعولُ المطلقُ: هُوَ اسْمٌ مَنصُوبٌ مُوَافِقٌ للفِعْل فِي لَفْظِهِ وَیَجِیءُ بَعْدَ الفِعْلِ لِتَأْكِيدِهِ أَوْ لِبَيَانِ نَوْعِهِ أَوْ عَدَدِهِ.

مفعول مطلق وہ اسم ہے جو لفظوں میں فعل کے مطابق ہوتا ہے اور فعل کے ساتھ اس کی تاکید یا نوعیت یا عدد کے اظہار لئے آتا ہے۔

الأمثلة :

١) لَعِبَ حَسَنُ لَعباً

(٢) خَطَفَ الثَّعْلَبُ الدَّجَاجَةَ خَطْفًا

(۳)يَشْرَبُ الطِّفلُ اللَّبَنَ شُرْباً

(٤) يَثِبُ النَّمِرُ وُثُوبَ الْأَسَدِ

Read the rest (6)

(۵ ) مَرَّ الْقِطَارُ مَرَّ السَّحَابِ

(٦) جَرَى خَالِدٌ جَرْياً سَرِيعاً

(۷) أَكَلَ عَلَى أَكلَتَيْن .

(۸)تَدُورُ الْأَرْضُ دَوْرَةً فِي الْيَوْمِ .

(٩) ضَرَبَ الْخَادِمُ الْعَقْرَبَ ضَرْبَةً

Link

النحو الواضح (ثانویہ)

النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۴

ما يَتُوبُ عَنِ المَصْدَرِ فِي بِابِ المَفْعُول المطلق: مفعول مطلق کے باب میں جو مصدر کا نائب ہوتا ہے

يَنُوُبُ عَنِ الْمَصْدَرِ مُرَادِفَهُ وَصِفَتُهُ وَمَا يَدُلُّ عَلَى نَوْعِهِ أَوْ عَدَدِهِ أَوْ آلَتِهِ وَكُلُّ وَبَعْضُ مُضَافَتَيْنِ إِلَيْهِ . وَالْإِشَارَةُ إِلَيْهِ وَضَمِيْرُهُ فَيُنصَبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَلَى أَنَّهُ نَائِبٌ عَنِ الْمَفْعُولِ الْمُطْلَقِ.

مصدر کے قائم مقام اس کے مرادف کو اس کی صفت کو اور یا جو اس نوع یا عدد پر دلالت کرے یا اس کے آلہ پر دلالت کرے اور کل بعض دونوں اس مصدر کی طرف مضاف ہوتے ہیں اور اس کی طرف اشارہ کرنا اور اس کی ضمیر کو قائم مقام بنایا جاتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو مفعول مطلق کا نائب ہونے کی بناء پر نصب دیا جاتا ہے۔

الأمثلة

(۱) أَقْرَرْتُ بِذَنْبِي اعترافاً .

(۲) سَارَ القِطَارُ سَرِيعاً .

(۳) رَجَعَ الْجَيْشِ الْقَهْقَرَى .

Read the rest (6)

( ٤ ) حَلَفَ الرَّجُلُ ثَلَاثَاً

(٥) ضَرَبَ الْحُوذِي الْحِصَانَ سَوْطاً

(٦) جَدَّ الطَّالِبُ كلَّ الْجِد

(۷) أَحْسَنَ العَامِلُ بَعْضَ الإِحْسَانِ

(۸) أَكْرَمْتُ الضَّيْفَ ذلك الإكرام .

(۹) جَامَلْتُكَ مُجَامَلَةً لَا أُجَامِلُهَا أَحَداً .

Link

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴

مفعول مطلق :

اس اسم مصدر کو کہتے ہیں جو اپنے کسی مشتق فعل کے بعد کلام میں تاکید ( زور ) یا عدد یا نوعیت بیان کرنے کے لئے لایا جائے ۔ دوسرے لفظوں میں مفعول مطلق اپنے ہی فعل کا مصدر ہوتا ہے جو بعد میں مذکورہ بالا اغراض میں سے کسی ایک غرض کے لئے لایا جاتا ہے جیسے جَرَى مَحْمُودٌ جَرِّيَّا ( محمود دوڑا واقعی دوڑنا) وَثبَ الْقِطُّ وَثوبَ الاسد ( بلی شیر کی طرح جھپٹی ) اكل الولد اكلتين (لڑکے نے دو مرتبہ کھایا) اوپر کی تعریف اور مثالوں سے یہ امر واضح ہوا کہ مفعول مطلق کا استعمال تین معنوں میں ہوتا ہے

(۱) تاکید (۲) نوعیت (۳) عدد۔

پہلی مثال تاکید کی ہے۔ جری محمود میں مخاطب کے لئے اس شبہ کا امکان تھا کہ محمود دوڑا نہیں بلکہ تیز چل کر آیا ہے۔ جسے الجری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر جریا کے اضافہ سے اس شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقی دوڑنا متعین ہو جاتا ہے۔ تاکید کا ترجمہ عموماً ” بہت زیادہ، خوب، اچھی طرح ،واقعی وغیرہ کے الفاظ سے کیا جاتا ہے مگر جہاں اس کا موقع نہ ہو صرف فعل کے ترجمے پر اکتفا کیا جائے ہر جگہ بہت زیادہ خوب وغیرہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں دراصل مضمون جملہ کی تاکید ہوتی ہے۔

دوسری مثال نوعیت کی ہے۔ وثب القط سے صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ ” بلی جھپٹی مگر وثوب الاسد بڑھانے سے ایک نئے معنی کا اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بلی شیر کی طرح جھپٹی۔

تیسری مثال عدد کی ہے اس میں اکلتین بڑھانے سے جس نئے معنی کا اضافہ ہوتا ہے وہ یہ کہ کھانے کا کام دو مرتبہ ہوا۔

مفعول مطلق جیسا کہ ہم نے ابھی بتایا کہ اپنے ہی فعل کا مصدر ہوتا ہے لیکن کبھی خود مصدر مستعمل نہیں ہوتا ہے بلکہ کوئی دوسرا اس مصدر کا قائم مقام بن کر آتا ہے جس کو مفعول مطلق کا نام دے دیا جاتا ہے۔ قائم مقام ہونے کی وجہ سے وہ بھی منصوب ہی ہوتا ہے۔ ذیل میں اس کی صورتیں درج کی جاتی ہیں۔

Read the rest (9)

(۱) اس مصدر کا کوئی مترداف لفظ جیسے جَلَسَ محمود قعودًا

(۲) اس مصدر کی کوئی صفت جیسے جرى محمود سریعا (یعنی جرياً سريعًا)

(۳) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کی نوعیت پر دلالت کرے جیسے رجع الجيش القهقرى (يعني رجوع القهقرى)

(۴) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کے کسی عدد پر دلالت کرے جیسے ناکل فی اليوم مرتین (یعنی اکلتین)

(۵) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کے کسی آلہ پر دلالت کرے جیسے ضَرَبَ الولد الحصان سوطا (ضربا بالسوط)

(۶) لفظ ”کل“ جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اقبل التلميذ على القراءة كُلَّ الإقبال

(۷) لفظ "بعض" جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اجتھد محمود بعض الاجتهاد

(۸) اسم اشارہ جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اَحْسَنُتُ إِليه ذلك الإحسان

(۹) اسم ضمیر جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اكْرَمْتُهُ إِكْرَامًا لَا أُكْرِمُهُ أَحَدًا

Link

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۳

فصل المفعول المطلق بها

المفعول المطلق: هو مصدر بمعنى فعل مذكور قبله، منصوب بذلك الفعل العامل، يؤتى به لتأكيد عامله فقط، أو بيان نوعه أو عدده مع تأكيده فيهما ، فأقسامه ثلاثة:

ا۔ مؤكد للعامل فقط نحو ضربت زيدا ضربا

۲۔ مؤكد مبين للنوع نحو: جَلَستُ جلوس القاري

۳۔ مؤكد مبين للعدد نحو: تدور الأرض دورة واحدة في اليوم، وضربت زيدا ضربتين، وضربات.

(۲) عامل المفعول المطلق:

يعمل في المفعول المطلق أحد ثلاثة عوامل:

Read the rest (54)

۱۔ الفعل التام المتصرف نحو: اجتهدت اجتهادا.

٢ الصفة المشتقة منه الدالة على الحدوث نحو : أخوك مجتهد اجتهادا عظيما.

۳۔ مصدره بشرط أن يكون مماثلا للمفعول المطلق لفظا ومعنى، نحو: عجبت من ضربك زيدا ضربا شديدا.

حذف عامل المفعول المطلق

يجوز حذف عامل المصدر المؤكد المبين للنوع أو للعدد بشرط وجود دليل مقالي أو حالي يدل على المحذوف.

فمثال حذف عامل المصدر المبين للنوع لدليل مقالي : جلوسا طويلا في جواب: هل جلس الزائر عندك، أي: جلس جلوسا طويلا، ومثال حذفه لدليل حالي قولهم للمتهيئ للسفر: سفرا حميدا ورجوعا سعيدا، أي: تسافر سفرا حميدا وترجع رجوعا سعيدا

ومثال حذف عامل المصدر المؤكد المبين للعدد لدليل مقالي: رجعتين ) . في جواب هل رجعت إلى بيتك اليوم، أي رجعت رجعتين ومثال حذفه لدليل حالي أن ترى خيل السباق وهي تدور في الملعب فتقول: دورتين أي: دارت دورتين.

والمصدر في الحالات السابقة منصوب بعاملة المحذوف جوازا، وليس نائبا عن ذلك الفعل المحذوف. من - أما المصدر المؤكد العامله، فالأصل عدم حذف عامله، لأن حذفه منافي ومعارض للغرض الذي لأجله يؤتي بالمصدر المؤكد العامله، وذلك تأكيد معنى عامله المذكور قبله بإبعاد الشك واحتمال المجاز عنه.

لكن العرب التزموا حذف عامله باطراد في بعض مواضع معينة، وأنا بواعنه المصدر المؤكد، فصار ذكر العامل معه ممنوعا، لأن المصدر نائب وعوض عن لفظه ومعناه، ولا يجتمع العوض والمعوض عنه

ونظراً إلى التزام العرب طريقة الحذف والإنابة معا باطراد في تلك المواضع ـ قال النحاة:

إن عامل المصدر المؤكد لا يحذف جوازا في الصحيح، وإنما يحذف وجوبا في المواضع التي التزم فيها العرب حذفه لحكمة مقصودة وأنا بواعنه المصدر المؤكد. والعامل المحذوف وجوبا هو الذي ينصب المصدر النائب عنه، أي: المصدر نائب عن عاملة المحذوف وجوبا و منصوب به معا

مواضع حذف عامل المصدر المؤكد العامله وجوبا:

يحذف عامل المصدر المؤكد لعامله وجوبا في خمسة مواضع:

ا۔ في المصدر الواقع بدلا عن فعله، وهو كثير الاستعمال، ويقع في الكلام الطلبي قياسا سواء كان أمرا نحو صبرا على حوادث الزمان (أي: اصبر صبرا) أو نهيا، نحو: صبرا لا جزعا (أي: اصبر صبرا ولا تجزع جزعا أو دعاء، نحو: سقيا لك ورعيا (أي: سقاك الله سقيا ورعاك الله رعيا) أو استفهاما للتوبيخ ، نحو: أجرأة على المعاصي (أي: أتجرؤ جرأة على المعاصي)

۲۔ في المصدر الواقع فعله خبرا عن اسم عين . بشرط أن يكون مكررا، نحو: زيد فهما فهما أو محصورا فيه ، نحو: مازيد إلا سيرا انما زيد سيرا أو معطوفا عليه ، نحو : الأسعار صعودا وهبوطا .

فإن لم يكن المخبر عنه اسم عين ، بل اسم معنى وجب رفعه على الخبرية، نحو أمرك عجب عجب، وكذلك إن لم يكرر ولم يحصر لم يجب الحذف، بل يجوز الحذف والذكر، نحو: زيد سيرا، وزيد يسير سيرا.

۳۔في المصدر الواقع بعد جملة لغرض التشبيه، وتكون تلك الجملة مشتملة على فاعله و على معناه، وليس فيها ما يصلح للعمل، نحو: لزيد صوت صوت حمار

۴۔ في المصدر المؤكد لمضمون الجملة قبله، سواء جيئ به لمجرد التأكيد وهو ما يسمى "مؤكدا لنفسه " نحو : نادى سليم جهرا أو لمنع احتمال المجاز، نحو: أنت ابني حقا

۵۔ في المصدر الواقع تفصيلا لمجمل قبله، نحو: لأجاهدن فإما فوزا وإما هلاكا

فصل المفعول المطلق

مفعول مطلق: یہ ایک مصدر ہے جو ایک ذکر شدہ فعل کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہ اس فعل کے منصوب ہونے کی حالت میں آتا ہے جو اس کے عامل کا کام کرتا ہے۔ مفعول مطلق کو صرف عامل کی تصدیق یا اس کی نوعیت یا مقدار بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں:

1. مؤكد للعامل فقط: جیسے: "ضربت زیدًا صَربًا" (میں نے زید کو مارا)۔

2. مؤكد مبين للنوع: جیسے: "جلستُ جلوس القاري" (میں نے پڑھنے والے کے طور پر بیٹھا)۔

3. مؤكد مبين للعدد: جیسے: "تدور الأرض دورة واحدة في اليوم" (زمین ایک بار دن میں گھومتی ہے) اور "ضربت زيدًا ضربتين" (میں نے زید کو دو بار مارا)۔

(۲) عامل المفعول المطلق:

مفعول مطلق میں تین عوامل میں سے کوئی ایک کام کرتا ہے:

1. فعل تام متصرف: جیسے: "اجتهدت اجتهادًا" (میں نے محنت کی)۔

2. صفة مشتقة منه: جو حدوث کی طرف اشارہ کرتی ہے: جیسے: "أخوك مجتهد اجتهادًا عظيمًا" (تمہارا بھائی بڑی محنت کر رہا ہے)۔

3. مصدره: بشرط کہ وہ لفظی اور معنوی طور پر مفعول مطلق کی مانند ہو، جیسے: "عجبت من ضربك زيدًا ضربًا شديدًا" (میں نے زید کو شدید مارنے پر حیرت کا اظہار کیا)۔

حذف عامل المفعول المطلق

مفعول مطلق کے عامل کو حذف کرنا جائز ہے، خاص طور پر جب اس کی نوعیت یا تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی موجودہ یا قابل فہم دلیل ہو۔

1. دلیل مقالی کے ساتھ:

مثال: "جلوسًا طويلاً" کے جواب میں: "ھل جلس الزائر عندک؟" یعنی: "جلس جلوسًا طويلاً" (وہ بیٹھا تھا طویل بیٹھنے کے لیے)۔

2. دلیل حال کے ساتھ:

مثال: "سفرًا حميدًا ورجوعًا سعيدًا" (یہ سفر خوشگوار اور واپس آنا خوشی کا ہے) یعنی: "تسافرسفرًا حميدًا وترجع سعيدًا"۔

3. مفعول مطلق کی اقسام:

مفعول مطلق کے عناصر کو حذف کرنا جائز ہے، اور وہ خود کو مؤكد کرتا ہے، اور یہ اکثر زبان میں ہوا کرتا ہے۔

مفعول المطلق کی صورتوں میں عامل کا حذف

مفعول مطلق کے عامل کا حذف پانچ خاص مقامات پر ہوتا ہے:

1. مفعول مطلق جو فعل کے لیے بدل کے طور پر آتا ہے: جیسے: صبرا على حوادث الزمان "صبرا" (صبر کرو) اصبرصبرا ، یا سقيا لك ورعيا (أي: سقاك الله سقيا ورعاك الله رعيا) (تمہارے لیے دعا ہے کہ تمہیں پانی ملے) ۔

2. مفعول مطلق جو خبر کے طور پر آتا ہے شرط یہ ہے کہ وہ مکرر ہو، جیسے: "زيد فهما فهما" (یہ زید ہے، یہ سمجھنے کے لیے)۔

3. مفعول مطلق جو تشبیہ کے لیے آتا ہے: جیسے: "لزيد صوت صوت حمار" (زید کی آواز گدھے کی آواز کی طرح ہے)۔

4. مفعول مطلق جو جملہ کی تصدیق کے لیے آتا ہے: جیسے: "نادى سليم جهرا" (سلیم نے بلند آواز میں پکارا)۔

5. مفعول مطلق جو پہلے کے مجمل کو تفصیل دیتا ہے: جیسے: "لأجاهدن فإما فوزا وإما هلاكا" (میں لڑوں گا، یا فتح حاصل کروں گا یا ہلاک ہوں گا)۔

نتیجہ:

مفعول مطلق عربی زبان میں فعل کی وضاحت اور شدت کو بیان کرنے کے لیے ایک اہم قاعدہ ہے، اور اس کی مختلف اقسام اور استعمالات ہیں جو زبان کی معنوی ساخت کو بڑھاتے ہیں۔

Link

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۲۸

مفعول مطلق ، جب جملہ میں استعمال شدہ فعل کا مصدر اسی جملہ میں بغرضِ تاکید استعمال کیا جائے تو وہ مفعول مطلق کہلاتا ہے اور منصوب ہوتا ہے، جیسے: ضَرَبَنِي بِلال ضَرْبًا, بلال نے مجھے خوب پیٹا صرف ضَرَبَنِي بلال سے بھی یہ معنی ادا ہو جاتا ہے، لیکن یہ اس وقت بھی کہا جاسکتا ہے جب اتفاقا بلال کا ہاتھ آپ کو لگ جائے ، یا اس نے از راہ تفریح آپ کو ہلکی سی چپت لگادی ہو لیکن ضَرَبَنِي بِلال ضربا آپ اسی وقت استعمال کریں گے جب بلال نے سنجیدگی سے آپ کی اچھی خاصی پٹائی کی ہو۔

مفعول مطلق ذیل کے چار مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔

۱) تاکید کے اظہار کے لئے جیسا کہ سابقہ مثال میں ہے، مزید ایک مثال یہ ہے: ﴿وَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوْسَى تَكْلِيْمًا [المائدة: ۱۶۴] اور اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے گفتگو فرمائی۔

(۲) تعداد کے اظہار کے لئے ، جیسے : طُبعَ الْكِتَابُ طبعتين کتاب دو مرتبہ شائع ہوئی نَسِيْتُ وَسَجَدْتُ سَجْدَةً وَاحِدَةٌ میں بھول گیا اور ایک ہی سجدہ کیا۔

۳) عمل کی نوعیت کے اظہار کے لئے ، جیسے: مَاتَ مَوْتَ الشُّهَدَاءِ وہ شہیدوں کی موت مرا اُكْتُبْ كِتَابَةً وَاضِحَةً صاف صاف لکھو(۱)۔

(۴) اپنے فعل کی نیابت کے لئے ، اس حالت میں فعل حذف ہو جائے گا اور صرف مصدر استعمال ہوگا، جیسے: صبرا : صبر کرو یہاں مصدر صبر افعل امر اصبر کا نائب ہے، شکر : شکریہ یہاں مصدر فعل مضارع أشكرُ کا نائب ہے۔

وہ الفاظ جو مصدر کی نیابت کرتے ہیں:

ذیل کے الفاظ مصدر کے قائم مقام ہو کر منصوب ہوتے ہیں اور مفعول مطلق کے حکم میں ہوتے ہیں:

Read the rest (27)

۱) كُلُّ ، بَعْضُ، أَيُّ، جب یہ تینوں لفظ مصدر کی طرف مضاف ہوں، جیسے:

أَعْرِفُهُ كُلَّ الْمَعْرِفَةِ میں اس کو پوری طرح جانتا ہوں۔

آخَذَنِي الْمُدِيرُ بَعْضَ الْمُؤَاخَذَةِ ہیڈ ماسٹر نے میری ہلکی سی گرفت کی۔

أَيَّ نَوْمٍ تَنَامُ؟ تم کیسی نیند سوتے ہو؟

وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُوْنَ﴾ [الشعراء: ۲۲۷] اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا جان جائیں گے کہ وہ کونسا پلٹنا پلٹیں گے۔

(۲) عدد، جس کا مصدر اس کے معدود ( تمیز [1]) کے طور پر ساتھ ہو، جیسے:

طُبِعَ الْكِتَابُ ثَلاثَ طَبعَاتٍ . کتاب تین مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے:

فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ﴾ [النور: ۲] ان دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔

فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً﴾ [النور: ۴] انہیں اسی کوڑے لگاؤ۔

(۳) مصدر کی صفت ( جبکہ مصدر محذوف ہو جیسے : فَهِمْتُ الدَّرْسَ جَيِّدا میں اچھی طرح سبق سمجھ گیا اصل میں فَهِمْتُ الدَّرْسَ فَهُمَا جَيِّدًا تھا۔

(۴) اسم مصدر، یعنی وہ اسم جو مصدر کے ہم معنی ہو لیکن اس کے حروف مصدر سے کم ہوں، جیسے: کلام: بولنا اسم مصدر ہے اور تعلیم مصدر، سُبْحانَ پاکی بیان کرنا اسم مصدر ہے اور تسبیح مصدر۔

كَلَّمَنِي كَلامًا شَدِيدًا اس نے مجھ سے سخت کلامی کی۔

(۵) فعل مجرد کا مصدر جبکہ جملہ میں فعل مزید مستعمل ہو، جیسے: اشْتَرَيْتُ هَذِهِ السَّيَّارَةَ شِرَاءٌ مُبَاشِرًا میں نے یہ کار خود خریدی ہے یہاں شِراءً فعل مجرد شَرَى يَشْرِيْ کا مصدر ہے جبکہ اشْتَرَى يَشْتَرِي کا مصدر اشْتِرَاء ہے، قرآن مجید میں آیا ہے: ﴿وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمَّا ﴾ [الفجر: ۲۰] اور تم مال سے شدید لگاؤ رکھتے ہو یہاں حبا فعل مجرد حَب يَحِبُّ کا مصدر ہے، جبکہ فعل مزيد أَحَبَّ يُحِبُّ كا مصدر إِحبَابٌ ہے۔

فعل مجرد حــبّ يــحــبُّ بہت کم استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا مصدر حب بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور فعل مزيد أحَبَّ يُحِبُّ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا مصدر احباب بہت کم۔

ب: فعل مزید کا مصدر بشرطیکہ وہ جملہ میں استعمال شدہ فعل کا (مصدر) نہ ہو، جیسے: تَبَسَّمْتُ ابْتِسَامًا مسکرا دیا۔ یہاں اِبْتِسَامًا فعل اِبْتَسَم کا مصدر ہے، جو باب افْتَعَلَ سے ہے، جبکہ تَبَسَّمَ بَاب تَفَعَّلَ سے ہےاور دونوں ہم معنی ہیں، قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے: ﴿وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَيْتِيْلاً ﴾ [المزمل: ۸] اور سب سے کٹ کر اس سے لو لگا لو۔ یہاں تبتل باب تفعل سے ہے اور مصدر تَيْتيل باب فَعَّلَ سے۔

۶) اسم اشارہ جبکہ مصدر اس کا بدل ہو، جیسے: أَتَسْتَقْبِلُنِي هَذَا الْإِسْتِقْبَالَ! کیا تم میرا اتنا شاندار استقبال کرو گے! یہاں هذا مفعول مطلق ہے اور نصب کے مقام میں ہے، اور الاستقبال اس کا بدل ہے۔

۷) اسم ضمیر جو مصدر کی طرف لوٹے، جیسے: اجْتَهَدَتُ اجْتِهَادًا لَمْ يَجْتَهِدُهُ غَيْرِي میں نے وہ محنت کی کہ دوسرے کسی نے ویسی نہیں کی ہوگی۔ یہاں ضمیر غائب کا اجتهادا کی طرف لوٹ رہی ہے۔

(۸) مصدر کا مترادف لفظ جیسے : عِشتُ حَيَاةً سَعِيْدَةً میں نے خوشگوار زندگی بسر کی۔ یہاں حَيَاةً عِيْشَة کا مترادف ہے جو جملہ میں وارد فعل عاش کا مصدر ہے۔

مصدر کی کئی قسمیں ہیں:

ا۔ مصدر المرة، یہ مصدر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کام کتنی مرتبہ ہوا، ایک، دو یا تین بار یہ مجرد ابواب سے فَعْلَة کے وزن پر آتا ہے، جیسے: ضَرَبْتُهُ ضَرْبَةً وَضَرَبَنِي ضَرْبَتَيْنِ میں نے اسے ایک مارا اور اس نے مجھے دو ، طُبِعَ هَذَا الْكِتَابُ طَبَعَاتِ یہ کتاب کئی بار چھپ چکی ہے۔ طَبَعَاتُ طَبعَةٌ کی جمع ہے۔

مزید ابواب کے مصدر ان کے آخر میں ایک بڑھا کر بنائیے جائیں گے جیسے : تَكْبِيرٌ : تَكْبِيرَةً ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنا إطلال جھانکنا إطلالة ایک مرتبہ جھانکنا جیسے : نُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ ہم نماز جنازہ میں چار مرتبہ تکبیر کہتے ہیں۔ أَطْلَلْتُ مِنَ النَّافِدَةِ إطلالتنين میں نے کھڑکی سے دومرتبہ جها نکا۔

۲۔ مصدر کی ایک اور قسم مصدر الهيئة ہے، یہ فعلة کی وزن پر آئے گا، جیسے: جلسة : بیٹھنے کا طریقہ، مِشْيَةٌ: (۲) چال چلنے کا ڈھنگ۔ ہم کہتے ہیں : لا تَمْشِ مِشْيَةَ النِّسَاءِ عورتوں کی چال نہ چلو ۔ اجلس جلْسَة طَالِبِ علم طالب علم کی طرح بیٹھو۔

نوٹ: پہلا حرف مصدر المرۃ میں مفتوح ہوگا اور مصدر الهيئة میں مکسور ۔

۲: ابواب مزید سے مصدر الهيئة نہیں آتا ہے۔

۳۔ مصدر میمی بھی مصدر کی ایک قسم ہے، یہ مَفْعَلٌ ، مَفْعَلَةٌ، مَفْعِل اور مَفْعِلَةٌ کے اوزان پر آئے گا، جیسے : مَمَاتٌ : مرنا مَعْرِفَةً: جاننا، مَغْفِرَة: بخشنا۔

ابواب مزید سے یہ اسم مفعول کے وزن پر آئے گا، جیسے: مُمَزَّق : پھاڑنا ، مُخْرَج : نکالنا، مُنقَلَبُ : پلٹنا ، قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: ﴿فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيْتَ وَ مَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ [ السبا: 19] پھر ہم نے انہیں قصہ پارینہ بنادیا اور انہیں تتر بتر کر دیا۔

Link

المفصل

المفصل۔ سبق:۱۰

المفعول المطلق هو المصدر سمي بذلك لأن الفعل يصدر عنه.

ويسميه سيبويه الحدث والحدثان وربما سماه الفعل. وينقسم إلى مبهم نحو ضربت ضرباً. وإلى مؤقت نحو ضربت ضربة وضربتين.

نائب المفعول المطلق وقد يقرن بالفعل غير مصدره مما هو بمعناه؛ وذلك على نوعين مصدر وغير المصدر. فالمصدر

على نوعين: ما يلاقي الفعل في اشتقاقه كقوله تعالى : " والله أنبتكم من الأرض نباتاً"، وقوله تعالى: " وتبتل إليه تبتيلاً". وما لا يلاقيه فيه كقولك قعدت جلوساً، وحبست منعاً. وغير المصدر كقولك ضربته أنواعاً من الضرب، وأي ضرب، وأيما ضرب ومنه رجع القهقري واشتمل الصماء، وقعد القرفصاء، لأنها أنواع من الرجوع والاشتمال والقعود، ومنه ضربته سوطاً.

أنواع المفعول المطلق الذي اضمر فعله

والمصادر المنصوبة بأفعال مضمرة على ثلاثة أنواع : ما يستعمل إظهار فعله وإضماره، وما لا يستعمل إظهار فعله، وما لا فعل له أصلاً. وثلاثتها تكون دعاء وغير دعاء فالنوع الأول كقولك للقادم من سفره خير مقدم ولمن يقرمط في عداته. مواعيد عرقوب وللغضبان غضب الخيل على اللجم. ومنه قولهم سقياً ورعياً وخيبة وجدعاً وعقراً وبؤساً وبعداً وسحقاً وحمداً وشكراً لا كفراً وعجباً وافعل ذلك وكرامة ومسرة ونعم ونعمة عين ونعام عين ولا أفعل ذلك ولا كيداً ولا هما ولا فعلن ذلك ورغماً وهواناً. ومنه إنما أنت سيراً سيراً وما أنت إلا قتلاً قتلاً وإلا سير البريد وإلا ضرب الناس وإلا شرب الإبل.

ومنه قوله تعالى: " فاما منّا بعد وإما فداء" ومنه مررت به فإذا له صوت صوت حمار، وإذا له صراخ صراخ الثكلي، وإذا له دق دقك بالمنحاز حب القلقل. ومنه ما يكون توكيداً إما لغيره كقولك هذا عبد الله حقا، والحق لا الباطل، وهذا زيد غير ما تقول، وهذا القول لا قولك، وأجدك لا تفعل كذا، أو لنفسه كقولك له على ألف درهم عرفاً، وقول الأحوص:

Read the rest (9)

إني لأمنحك الصدود وإنني قسماً إليك مع الصدود لأميل

ومنه قوله تعالى صنع الله، ووعد الله وكتاب الله عليكم، وصبغة الله، وقولهم الله أكبر دعوة الحق.

ومنه ما جاء مثنى وهو حنانيك ولبيك وسعديك ودواليك وهذا ذيك.

ومنه ما لا يتصرف نحو سبحان الله ومعاذ الله وعمرك الله وقعدك الله.

والنوع الثالث نحو ذفراً وبحراً وأفة وتفة وويحك وويسك وويلك وويبك.

وقد تجري اسماء غير مصادر ذلك المجرى وهي على ضربين: جواهر نحو قولهم ترباً وجندلاً وفاهاً لفيك، وصفات نحو قولهم هنيئاً مريئاً وعائذاً بك وأقائماً وقد قعد الناس وأقاعداً وقد سار الركب.

إضمار المفعول المطلق:

ومن إضمار المصدر قولك عبد الله أظنه منطلق، تجعل الهاء ضمير الظن كأنك قلت عبد الله أظن ظني منطلق. وما جاء في الدعوة المرفوعة واجعله الوارث منا محتمل عندي ان يوجه على هذا.

Link