كل المواضيع

معرب و مبنی کے اعتبار سے

اعراب کی قسمیں دیگر کتب میں

2 نصًا

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱

اعراب اصلیہ:

عربی میں اکثر اسماء ” معرب ہیں، جملے میں ان کی حالت ان کے آخری حروف کی حرکت کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے جو اگلی تین شکلوں میں ہوتی ہے:

(۱) ضمہ جو حالت رفع میں استعمال ہوتا ہے اور جو اسم اس حالت رفع میں ہو مر فوع کہلاتا ہے۔

(۲) فتحه ، یہ حالت نصب کو بتاتا ہے اور جو اسم اس حالت میں ہو وہ منصوب کہلاتا ہے۔

(۳) کسره، یه حالت جر پر دلالت کرتا ہے اور جو اسم اس حالت میں ہو وہ مجرور ہوتا ہے۔

ان کی مثالیں یہ ہیں :

دَخَلَ الْمُدَرِّسُ استاد داخل ہوئے

اس جملہ میں المُدَرِّسُ مرفوع ہے، اس لئے کہ وہ فاعل ہے۔

اقرأ البقية (96)

سألتُ المُدَرِّسَ میں نے استاد سے پوچھا

اس جملہ میں المدرس منصوب ہے اس لئے کہ وہ مفعول بہ ہے۔

هذِهِ سَيَّارَةُ الْمُدَرِّسِ یہ استاد کی کا ر ہے

یہاں الْمُدَرِّسِ مجرور ہے اس لئے کہ وہ مضاف الیہ ہے۔

یہ علامتیں (ضمہ، فتحہ اور کسرہ) اعراب کی اصلی علامتیں ہیں

اعراب فرعیہ

ضمہ، فتحہ اور کسرہ اعراب کی اصلی علامتیں ہیں، ان کے علاوہ کچھ اور علامتیں بھی ہیں جو فرعی(ثانوی) علامات کہلاتی ہیں جو اسم کی مندرجہ ذیل قسموں میں استعمال ہوتی ہیں :

۱۔ جمع مؤنث سالم

اس کی ساری علامتیں اصلی ہیں سوائے ایک کسرہ کے جو حالت نصب میں فتحہ کے بجائے استعمال ہوتا ہے، جیسے: سَأَلَتِ الْمُدِيرَةُ الْمُدَرِّسَاتِ ہیڈ مسٹریس نے استانیوں سے استفسار کیا اس مثال میں الْمُدَرِّسَاتِ مکسور ہے، مفتوح نہیں، اس لئے کہ یہ جمع مؤنث سالم کا صیغہ ہے اور اس میں نصب کی علامت بھی جر کی علامت کی طرح کسرہ ہے۔ جیسے: رَأَيْتُ السَّيَارَاتِ میں نے کاریں دیکھیں میں السياراتِ مفعول به ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اسی طرح: خَرَجَ النَّاسُ مِنَ السَّيَّارَاتِ لوگ کاروں سے نکلے السَّيَارَاتِ حرف جر کے بعد آنے کی وجہ سے مجرور ہے، لیکن دونوں مکسور ہیں اس لئے کہ جمع مؤنث سالم کی نصب کی علامت بھی کسرہ ہی ہے۔

٢: الممنوع من الصرف غیر منصرف

غیر منصرف اسماء پر حالت جر میں کسرہ کے بجائے فتحہ داخل ہوتا ہے، جیسے:یہاں هذَا كِتَابُ زَيْنَبَ یہ زینب کی کتاب ہے اس مثال میں زینب مجرور ہونے کے باوجود مفتوح ہے، اس لئے کہ یہ ممنوع من الصرف ہے، یہاں یہ پیش نظر رہے کہ ممنوع من الصرف مجرور اور منصوب دونوں حالتوں میں مفتوح ہوتا ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل مثالوں سے واضح ہوتا ہے:

سَأَلْتُ زَيْنَبَ میں نے زینب سے دریافت کیا۔ یہاں زینب منصوب ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔ ذَهَبْتُ إِلَى زَيْنَبَ میں زینب کے پاس گیا۔ یہاں زینب مجرور ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔

۳: اسماء خمسه (أب، أخ، حم، فم، ذو)

ان اسماء پر اعراب کی فرعی علامتیں صرف اس وقت داخل ہوتی ہیں جب وہ مضاف ہوں اور مضاف الیہ یائے متکلم نہ ہو، اس حالت میں ان کی علامتیں حالت رفع میں ضمہ کے بجائے واو ، حالت نصب میں فتحہ کے بجائے الف اور حالتِ جر میں کسرہ کے بجائے یاء ہوتی ہیں، جیسے: مَاذَا قَالَ أَبُو بَلالِ؟ بلال کے والد نے کیا کہا؟

نوٹ: یہاں اب کے ساتھ واو بھی ہے اس طرح وہ ابو ہو گیا۔

أَعْرِفُ أَبَا بِلالٍ. میں بلال کے والد کو جانتا ہوں۔

نوٹ:۔ یہاں اب کے ساتھ الف بھی ہے اس طرح وہ ابا ہو گیا۔

ذَهَبْتُ إِلَى أَبِي بِلالٍ. میں بلال کے والد کے پاس گیا۔

نوٹ: یہاں اب کے ساتھ یاء بھی ہے اس طرح وہ ابي ہوا، صرف أب نہیں۔

مضاف الیہ ضمیر بھی ہو سکتا ہے، جیسے:

أَيْنَ ذَهَبَ أَخُوْكَ ؟تمہارا بھائی کہاں گیا ؟

مَارَأَيْتُ أَخَاكَ.میں نے تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا۔

مَا اسْمُ أَخيْكَ ؟ تمہارے بھائی کا نام کیا ہے؟

اگر مضاف الیہ یائے متکلم ہو تو مضاف پر ہمیشہ ایک ہی حرکت رہے گی، جیسے:

يَدْرُسُ أَخِي بِالْجَامِعَةِ. (میرا بھائی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔)

أَتَعْرِفُ أَخِي؟ (کیا تم میرے بھائی کو جانتے ہو؟)

خُذِ العَنْوَانَ مِنْ أَخِي. (پتہ میرے بھائی سے حاصل کرلو۔)

لفظ فم دو طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے، میم کے ساتھ اور میم کے بغیر، جب وہ میم کے ساتھ استعمال ہوگا تو اس پر اعراب کی اصلی علامتیں ہوں گی ، جیسے:

فَمُكَ نَظِيْفٌ. تمہارا منھ صاف ہے۔

افْتَحْ فَمَكَ. تم اپنا منھ کھولو۔

مَاذَا فِي فَمِكَ؟ تمہارے منھ میں کیا ہے؟

اگر میم حذف کر دیا جائے تو اس پر بقیہ اسماء خمسہ کی طرح اعراب کی فرعی علامتیں ظاہر ہوں گی، جیسے:

فُوْكَ صَغِيْرٌ. تمہارا منھ چھوٹا ہے۔

افْتَحْ فَاكَ. مَاذَا فِي فِيْكَ؟ تم اپنا منھ کھولو۔ تمہارے منھ میں کیا ہے؟

ان پانچوں اسماء پر فرعی علامتیں اسی وقت داخل ہوں گی جب وہ مضاف ہوں جیسا کہ گذشتہ مثالوں میں ہے، ورنہ اس پر اعراب کی اصلی علامتیں ہی آئیں گی، جیسے:

هُوَ أَخ. وہ ایک بھائی ہے۔

أَيْنَ الأخ؟ بھائی کہاں ہے؟

رَأَيْتُ أَخًا . میں نے ایک بھائی کو دیکھا۔

سَأَلْتُ الْأخ.میں نے بھائی سے پوچھا۔

هذَا بَيْتُ أَخ. یہ ایک بھائی کا گھر ہے۔

هذِهِ سَيَّارَةُ الأخِ. یہ بھائی کی کار ہے۔

۴: جمع مذکر سالم

اس طرح کے اسماء حالت رفع میں ! و ،ن اور حالت نصب اور جر میں ی ، ن پرختم ہوں گے، جیسے: دَخَلَ الْمُدَرِّسُوْنَ الْفَضْلَ اساتذہ کلاس میں داخل ہوئے۔ یہاں الْمُدَرِّسُونَ مرفوع ہے۔

مَا سَأَلْتُ الْمُدَرِّسِيْنَ. میں نے اساتذہ سے نہیں پوچھا۔ یہاں المُدَرِّسِينَ منصوب ہے۔

أَيْنَ غُرْفَةُ الْمُدَرِّسِيْنَ؟ اساتذہ کا کمرہ کہاں ہے؟ یہاں المُدَرِّسِين مجرور ہے۔

نوٹ :۔ حالت جر اور حالت نصب دونوں کی علامتیں یکساں ہیں، اضافت کی حالت میں واو نون اور یاء نون کا نون حذف ہو جائے گا، جیسے:

أَيْنَ مُدَرِّسُو الْقُرْآن؟قرآن کریم پڑھانے والے اساتذہ کہاں ہیں؟

أَرَأَيْتَ مُدَرِّسِي الْقُرْآن؟ کیا تم نے قرآن کریم پڑھانے والے اساتذہ کو دیکھا؟

۵: المثنی (تثنیہ کا صیغه)

صیغه تثنیہ حالت رفع میں " ... ان “ اور حالتِ جر اور نصب میں ” ... ین“ پر ختم ہوگا، جیسے:أَجَاءَ الْمُدَرِّسَانِ الْجَدِيْدَانِ کیا دونوں نئے اساتذہ آگئے؟

أَرَأَيْتَ الْمُدَرِّسَيْنِ الْجَدِيدَيْنِ؟ کیا تم نے دونوں نئے اساتذہ کو دیکھا؟

حالت اضافت میں صیغہ تثنیہ کا نون بھی حذف ہو جائے گا، جیسے:

أَيْنَ تَدْرُسُ أُخْتَا بَلَالٍ ؟ بلال کی دونوں بہنیں کہاں پڑھتی ہیں؟

أَتَعْرِفِيْنَ أُخْتَيْ بَلَالٍ ؟ کیا تم بلال کی دونوں بہنوں کو جانتی ہو؟

أَكَتَبْتِ إِلَى أُخْتَيْ بَلَالٍ ؟ کیا تم نے بلال کی دونوں بہنوں کو لکھا؟

اعراب تقدیری

تین طرح کے اسماء پر اعراب کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتی ہیں :

ا : مقصور ۲: منقوص ۳: یائے متکلم کی طرف اضافت

الف: مقصور ایسے اسماء ہیں جو الف پر ختم ہوں، جیسے: العصا، الفتى، المستشفى مقصور پر اعراب کی تینوں علامتیں مقدر (پوشیدہ) ہوتی ہیں۔ جیسے:

قَتَلَ الْفَتَى الْأَفْعَى بِالْعَصَا. جوان نے سانپ کو لاٹھی سے مارڈالا

یہاں الفتى مرفوع ہے مگر اس پر ضمہ ظاہر نہیں ہے، الأفعى منصوب ہے مگر اس پر فتحہ ظاہر نہیں ہے، العصا مجرور ہے مگر اس پر کسرہ ظاہر نہیں ہے، اس جملہ کا موازنہ اسی کے ہم معنی اس جملہ سے کیجیے : قَتَلَ الْوَلَدُ الْحَيَّةَ بِالْعُوْدِ اس جملہ میں اعراب کی ساری علامتیں ظاہر ہیں۔

ب: اسم منقوص : یعنی وہ اسم جس کے آخر میں یائے لازمہ اور ماقبل مکسور ہو ، جیسے :

القَاضِي (جج)، المُحَامِي (وکيل)، الجاني ( مجرم)

اس طرح کے اسماء پر رفع اور جر کی حالت میں علامات اعراب پوشیدہ ہوتی ہیں اور نصب کی علامت ظاہر ،جیسے:

سَأَلَ الْقَاضِي الْمُحَامِيَ عَنِ الْجَانِي. قاضی نے وکیل سے مجرم کے متعلق دریافت کیا۔

اس جملہ میں اَلْقَاضِي مرفوع، اور اَلْجَانِي مجرور ہے لیکن ان کی علامات پوشیدہ ہیں، جب کہ الْمُحَامِيَ پرفتحہ ظاہر ہے۔

اگر اسم منقوص منون ہو تو اس کی یاء حذف ہو جائے گی، جیسے: قاض ، جو اصل میں قاضی تھا، ضمہ اور یـاء حذف ہونے کے بعد قاض ہو گیا، یہ یاء حالتِ نصب میں لوٹ آئے گی، جیسے:

هذَا قَاضٍ. یہ ایک جج ہے۔

سَأَلْتُ قَاضِيًا. میں نے ایک جج سے دریافت کیا۔

هذَا بَيْتُ قَاضِ. یہ ایک حج کا گھر ہے۔

نوٹ :۔ اسم منقوص کی یاء صرف تین حالتوں میں باقی رہے گی:

۱۔ اگر اسم منقوص پر ال داخل ہو، جیسے: القاضي، الوادي، المحامي

۲- اگر وہ مضاف ہو، جیسے:

قاضي مكة (مکہ كا قاضی)، محامي الدفاعِ (وکیل صفائی)، وَادِي الْعَقِيقِ (وادی عقیق)۔

۳- اگر وہ منصوب ہو، جیسے: عَبَرْتُ وَادِیا، میں نے ایک وادی عبور کی ، سَأَلْتُ قَاضِيا میں نے ایک جج سے دریافت کیا، أُريدُ ثَانِیا ، مجھے دوسرا چاہئے ۔

ج: یائے متکلم کی طرف مضاف اسماء جیسے : اسْتَاذِي ،زميلي اس طرح کے اسماء پر بھی اعراب کی تینوں علامتیں مقدر ہوتی ہیں، جیسے:

دَعَا جَدْيْ أُسْتَاذِي مَعَ زُمَلائِي میرے دادا نے میرے استاذ کو میرے ساتھیوں سمیت مدعو کیا،

اس جملہ میں جَدي فاعل، أستاذي مفعول به، اور زُمَلائِي مضاف الیہ ہے لیکن ان میں سے کسی پر بھی اعراب ظاہر نہیں ہے، اسی کے بر عکس :

دَعَاجَدُكَ اسْتَادَكَ مَعَ رُمَلائِكَ تمہارے دادا نے تمہارے استاذ کو تمہارے ساتھیوں سمیت مدعو کیا۔ میں جدک پر ضمہ اُسْتَادَكَ پر فتحہ اور زُمَلائِک پر کسرہ ظاہر ہے۔

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۴

االأَحْوَالُ الَّتِي تَعْتَرِي أَوَاخِرَ الكَلِمَاتِ المُعْرَبَةِ أَرْبَعٌ، وَهِيَ: الرَّفْعُ، وَالنَّصْبُ، وَالجَرُّ، وَالجَزْمُ، وَتُسَمَّى أَنْوَاعَ الإِعْرَابِ.

عَلَامَاتُ الإِعْرَابِ الأَصْلِيَّةُ أَرْبَعٌ، وَهِيَ: الضَّمَّةُ، وَالفَتْحَةُ، وَالكَسْرَةُ، وَالسُّكُونُ، وَيَنُوبُ عَنْهَا عَلَامَاتٌ أُخْرَى تُذْكَرُ فِي مَوَاضِعِهَا.

الرَّفْعُ وَالنَّصْبُ يَشْتَرِكَانِ فِي الأَسْمَاءِ وَالأَفْعَالِ، وَالجَرُّ يَخْتَصُّ بِالأَسْمَاءِ، كَمَا يَخْتَصُّ الجَزْمُ بِالأَفْعَالِ۔

معرب کلمات کے آخر پر چار مختلف حالتیں آتی ہیں رفع، نصب، جر اور جزم ۔ ان کو انواع ِاعراب (اقسام) کہتے ہیں۔

اعراب کی اصل علامتیں چار ہیں ضمہ فتحہ کسرہ اور سکون ۔ کبھی کبھی دوسری علامتیں بھی آ جاتی ہیں جن کا ذکر مناسب جگہ پر ہو گا۔

رفع اور نصب کی دو علامتیں اسم و فعل میں مشترک ہیں اور جر اسم کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ جزم فعل کے ساتھ خاص ہے۔

اقرأ البقية (28)

الأمثلة :

رفع

الطَّائِرُ يَحُومُ

الْمَاءُ عَذْب

الْحِصَانُ جَامِحٌ .

يُوقِدُ عَلِيُّ الْمِصْبَاحَ

تُرْحَفُ الْجُنُودُ

تُورِقُ الْأَشْجَارُ

نصب

رَأَيْتُ الطَّائِرَ يَحُومُ .

شَرِبْتُ الْمَاءَ عَذْباً

ذَلَّلَ الْفَارِسُ الحِصَانَ.

لَنْ يُوقِدَ عَلَىٌ الْمِصْبَاحَ .

لَنْ تَزْحَفَ الْجُنُودُ

لَنْ تُورِقَ الْأَشْجَارُ .

جر

نظَرْتُ إِلَى الطَّائِرِ يَحُومُ

يَعِيشُ السَّمَكُ فِي الْمَاءِ

نَزَلَ الْفَارِسُ عَنِ الْحِصَانِ

جزم

لَمْ يُوقِدْ عَلِئّ الْمِصْبَاحَ .

لَمْ يَزحَفْ جُندِى .

لَمْ تُورِقْ شَجَرَةٌ.