كل المواضيع

معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں

توابع دیگر کتب میں

4 نصًا

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۷

النَّعْتُ لَفْظٌ يَدُلُّ عَلَى صِفَةٍ فِي اِسْمٍ قَبْلَهُ وَيُسَمَّى الِاسْمُ الْمَوْصُوفُ مَنْعُوتًا.

النَّعْتُ يَتْبَعُ الْمَنْعُوتَ فِي رَفْعِهِ وَنَصْبِهِ وَجَرِّهِ.

نعت وہ لفظ ہے جو اپنے سے پہلے والے اسم کی صفت بتائے اس سے پہلے والے اسم کو منعوت کتے ہیں۔

نعت اعراب یعنی رفع نصب اور جر میں اپنے منعوت کے تابع ہوتا ہے۔

الْأَمْثِلَةُ:

هَذَا كِتَابٌ مُفِيدٌ.

اقرأ البقية (6)

قَرَأْتُ كِتَابًا مُفِيدًا.

نَظَرْتُ فِي كِتَابٍ مُفِيدٍ.

هَذَا مَيْدَانٌ فَسِيحٌ.

رَأَيْتُ مَيْدَانًا فَسِيحًا.

جَرَيْتُ فِي مَيْدَانٍ فَسِيحٍ.

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۲

النعت الحقيقي والسببي: نعت حقیقی اور سببی

النَّعْتُ نَوْعَانِ: حَقِيقِيٌّ وَسَبَبِيٌّ، فَالْحَقِيقِيُّ مَا دَلَّ عَلَى صِفَةٍ فِي نَفْسِ مَتْبُوعِهِ، وَالسَّبَبِيُّ مَا دَلَّ عَلَى صِفَةٍ فِي اسْمٍ لَهُ ارْتِبَاطٌ بِالْمَتْبُوعِ.

نعت کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور سببی۔

نعت حقیقی وہ ہے جو ایسی صفت پر دلالت کرے جو متبوع کی ذات میں موجود ہو۔

نعت سببی وہ ہے جو ایسی صفت کی نشاندہی کرے جو کسی ایسے اسم میں پائی جائے جس کا متبوع سے تھوڑا بہت تعلق ہو۔

الامثلة

اقرأ البقية (64)

(۱) جاء الرَّجُلُ المُهَذَّبُ ..

(۲) حَضَرَتِ السَّيِّدَةُ العاقِلَةُ .

(۳) رَكِبْتُ الحِصَانَ الْجَمِيلَ .

( ٤ ) أقَمْتُ فِي المَنْزِلِ الفِسِيْحِ .

(۱) جاء الرَّجل المهذَّبُ أَخُوهُ .

(۲) حَضَرَتِ السَّيدةُ العَاقِلَةُ أمُّهَا.

(۳) ركبْتُ الْحِصَانَ الجَميلَ سَرْجُهُ .

(٤) أَقَمْتُ ِي المَنْزِلِ الفِسِيْحِ فناؤُهُ .

مطابقة النعت للمنعوت: نعت اور منعوت میں مطابقت

النَّعْتُ بِنَوْعَيْهِ يَتْبَعُ مَنْعُوتَهُ في رَفْعِهِ وَنَصْبِهِ وَجَرِّهِ، وَفي تَعْرِيفِهِ وَتَنْكِيرِهِ.

النَّعْتُ الحَقِيقِيُّ يَتْبَعُ مَنْعُوتَهُ فَوْقَ مَا تَقَدَّمَ في إِفْرَادِهِ وَتَثْنِيَتِهِ وَجَمْعِهِ، وَتَذْكِيرِهِ وَتَأْنِيثِهِ.

النَّعْتُ السَّبَبِيُّ يَكُونُ مُفْرَدًا، وَيُرَاعَى في تَذْكِيرِهِ وَتَأْنِيثِهِ مَا بَعْدَهُ.

نعت حقیقی اور سببی دونوں اپنے منعوت کے ساتھ رفع، نصب، جر اور تعریف و تنکیر میں مطابق ہوتے ہیں۔

نعت حقیقی مذکورہ بالا باتوں کے علاوہ افراد تثنیه جمع اور تذکیر و تانیث میں بھی اپنےمنعوت کے موافق آتے ہیں۔

نعت سببی مفرد آتے ہیں اور تذکیر و تانیث میں اپنے مابعد اسم کے مطابق ہوتےہیں۔

الامثلة

(نعت الحقيقي)

هذا مَنْزِلٌ ضَيِّقٌ.

تَسَلَّقْتُ شَجَرَةً غَلِيظَةً.

جَلَسْتُ في السَّرادِقِ الفَاخِرِ.

هاتانِ صُورَتَانِ جَمِيلَتَانِ.

اشْتَرَيْتُ بِسَاطَيْنِ شَرْقِيَّيْنِ.

عَثَرْتُ بِطَائِرَيْنِ غَرِيبَيْنِ.

هَؤُلاءِ بَنَاتٌ عَاقِلاتٌ.

عَاشَرْتُ إِخْوَانًا مُوسِرِينَ.

أَشْفَقْتُ عَلَى الصِّبْيَةِ الْمُعْدِمِينَ.

(نعت السببي)

هذا مَنْزِلٌ ضَيِّقٌ فَنَاؤُهُ.

تَسَلَّقْتُ شَجَرَةً غَلِيظًا جِذْعُهَا.

جَلَسْتُ في السَّرادِقِ الفَاخِرَةِ أَرَائِكَُهُ.

هاتانِ صُورَتَانِ جَمِيلٌ إِطَارَاهُمَا.

اشْتَرَيْتُ بِسَاطَيْنِ شَرْقِيًّا نَقْشُهُمَا.

عَثَرْتُ بِطَائِرَيْنِ غَرِيبٍ شَكْلُهُمَا.

هَؤُلاءِ بَنَاتٌ عَاقِلَةٌ أُمَّهَاتُهُنَّ.

عَاشَرْتُ إِخْوَانًا مُوسِرًا آبَاؤُهُمْ.

أَشْفَقْتُ عَلَى الصِّبْيَةِ الْمُعْدِمِ أَهْلُوهُمْ.

النعت حين يكون جملة: نعت جب جملہ واقع ہو

اَلجُمَلُ بَعْدَ النَّكِرَاتِ صفاتٌ، وبَعْدَ المَعَارِفِ أحوالٌ.

نکرہ کے بعد آنے والے جملے ” صفات“ ہوتے ہیں اور معرفہ کے بعد آنے والے جملے ” حال“ ہوتے ہیں۔

الامثلة

(۱) هَذَا عَمَلٌ نَافِعٌ

(۲) أَبْصَرْتُ رَجلاً سابحاً .

(۳) نَظَرْتُ إِلى سَفِينَةٍ غارقة .

(٤) مَضَى يَوْمٌ شَدِيدُ الْحَرِّ .

(٥) أَوْقَدْتُ مِصْباحًا قوى النُّور .

(۶) نَصِيدُ في بِركَةٍ كَثِيرَةِ السَّمكِ .

(۱) هَذَا عَمَلٌ يَنْفَعُ .

(٢) أَبْصَرْتُ رَجُلاً يَسْبَحُ .

(۳) نَظَرْتُ إِلَى سَفِينَةٍ تَغرقُ .

(٤) مَضَى يَوْمٌ حَرَّهُ شَدِيدٌ .

(٥) أَوْ قَدْتُ مِصْباحًا نُورُهُ قوى.

(۶) نَصِيدُ في بِركَةٍ سَمَكُهَا كَثِيرٌ .

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۴

مرکب توصیفی

مرکب توصیفی ایسے مرکب کو کہتے ہیں جس میں کسی اسم (اسم ذات) کی کوئی صفت یا حالت یا کیفیت وغیرہ بیان کی گئی ہو۔

جیسے الْمَاءُ الْعَذْبُ (میٹھا پانی)، الْهَوَاءُ الْبَارِدُ (ٹھنڈی ہوا)، الْوَلَدُ الْمُجْتَهِدُ (محنتی لڑکا)، محمود الخطيب (مقرر محمود) وغیرہ۔

(۱) مرکب توصیفی کا پہلا جز موصوف اور دوسرا صفت کہلاتا ہے۔

(۲) موصوف ہمیشہ اسم ذات اور صفت عموماً اسم صفت ہوا کرتا ہے۔

(۳) مرکب توصیفی یعنی موصوف وصفت کے درمیان حسب ذیل باتوں میں پوری مطابقت ہوتی ہے اور وہ یہ ہیں

(1) اعراب (۲) تعریف و تنکیر (۳) تذکیر و تانیث (۴) واحد تثنیه اور جمع۔ البته موصوف اگر کسی غیر عاقل کی جمع ہو تو صفت عموماً واحد مؤنث ہی آتی ہے جیسے الشَّجَرَات الطويلۃ اور کبھی مطابقت کے لئے الطويلات بھی کہتے ہیں۔

حاشیہ :

اقرأ البقية (4)

اسم ذات سے مراد وہ لفظ ہے جو کسی شے کے محض وجود کو بتائے جیسے اوپر کی مثالوں میں الماءُ، الْهَوَاء، محمود کہ یہ پانی، ہوا لڑکا محمود کے محض وجود اور ان کی ذات پر دلالت کرتے ہیں۔

اسم صفت کسی چیز کی اچھائی، برائی، حالت و کیفیت اور صفت پر دلالت کرتا ہے جیسے العَذبُ، الْبَارِدُ، المجتهد اور الخطیب یہ چاروں الفاظ حالت و کیفیت کو بتا رہے ہیں۔

اسم صفت کی پانچ قسمیں ہیں اسم فاعل جیسے: عالم، اسم مفعول جیسے: معلوم، صفت مشبه جیسے: عليم ( جاننے والا)، اسم تفضیل جیسے اعلم( زیادہ جاننے والا )، اسم مبالغہ جیسے: علام اور علامۃ (بہت جاننے والا )

صفت عموماً انہی اسماء صفات سے لائی جاتی ہے مگر کبھی صفت کے لئے جملہ یا شبہ جملہ بھی آتا ہے۔

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

النعت

النعت: تابع متمم لمتبوعه بدلالته على صفة فيه ، نحو: جاء الرجل العالم . ويقال له النعت الحقيقي۔ أو بدلالته على صفة فيما يتعلق به نحو: جاء رجل عالم أبوه . ويقال له النعت السببي ففي المثال الأول "الرجل" وفي الثاني "رجل" متبوع منعوت مرفوع و "العالم" في الأول، و "عالم في الثاني تابع نعت مرفوع مثله.

أحكام المنعوت

لا يكون المنعوت إلا اسما ظاهرا. إن كان المنعوت معرفة كان نعته للإيضاح ( وهو التمييز بين المشتركين في الاسم) نحو: جاء يوسف التاجر.

إن كان المنعوت نكرة كان نعته للتخصيص (وهو تقليل الاشتراك) نحو: جاء رجل عالم. يكثر حذف المنعوت إذا ظهر أمره ظهورا يستغنى معه عن ذكره نحو قوله تعالى : وعندهم قاصرات الطرف عين أي: نساء قاصرات الطرف.

أحكام النعت:

اقرأ البقية (33)

الأصل في النعت أن يكون مشتقا لكي يتحمل ضميرا يعود إلى المنعوت (والمراد بالمشتق: مادل على حدث وصاحبه، وهو اسم الفاعل، واسم المفعول، والصفة المشبهة، وأفعل التفضيل وصيغ المبالغة )

قد يأتي النعت اسما جامدا مؤولا بالمشتق في المعنى، نحو: عندي رجل أسد، أي: شجاع. ويأتي النعت أيضا جملة اسمية أو فعلية، بشرط أن تكون خبرية مشتملة على ضمير يعود إلى المنعوت، غير مقترنة بالواو ، وبشرط أن يكون المنعوت نكرة لأن الجملة تؤول بالنكرة، نحو: جاء أستاذ تلاميذه مجتهدون، وجاء رجل يحمل كتابا، أي: مجتهد تلاميذه، وحامل كتابا.

مطابقة النعت للمنعوت

النعت الحقيقي يطابق منعوته في أربعة من عشرة : (۱) في واحد من الرفع والنصب والجر، (۲) وفي واحد من الإفراد والتثنية والجمع، (۳) وفي واحد من التعريف والتنكير، (٤) وفي واحد من التذكير والتأنيث، نحو: جاء رجل عالم، رأيت المرأة العالمة، استفدت من الرجلين العالمين، وجاء رجال عالمون الخ .

النعت السببي يطابق منعوته في اثنين من خمسة ، (۱) في واحد من الرفع والنصب والجر، وفي واحد من التعريف والتنكير، ويوافق ما بعده في التذكير والتأنيث، ويلزم الإفراد دائما وإن كان ما بعده مثنى أو جمعا نحو : جاء الرجل الكريم أبوه، ورأيت امرأة كريما أبوها، جاء الرجل الكريمة أمه، ونظرت إلى الرجال الكريمة أمهم الخ

النعت (صفت)

النعت: وہ تابع ہے جو اپنے متبوع (منعوت) کی تکمیل کرتا ہے اور اس کی کسی صفت کو ظاہر کرتا ہے، جیسے: "جاء الرجل العالم" (عالم آدمی آیا)۔ اسے نعت حقیقی کہا جاتا ہے۔ یا پھر یہ کسی ایسی صفت کو ظاہر کرتا ہے جو اس سے متعلق ہو، جیسے: "جاء رجل عالم أبوه" (ایک آدمی آیا جس کا باپ عالم ہے)۔ اسے نعت سببی کہا جاتا ہے۔

پہلے جملے میں "الرجل" اور دوسرے میں "رجل" متبوع (منعوت) مرفوع ہیں، اور "العالم" پہلے جملے میں اور "عالم" دوسرے جملے میں نعت مرفوع ہیں، جو اپنے منعوت کی پیروی کرتے ہیں۔

منعوت کے احکام:

منعوت ہمیشہ ظاہر اسم ہوتا ہے۔

اگر منعوت معرفہ ہو تو نعت وضاحت کے لیے ہوتا ہے، تاکہ نام کے اشتراک والے افراد میں فرق کیا جا سکے، جیسے: "جاء يوسف التاجر" (یوسف تاجر آیا)۔

اگر منعوت نکرہ ہو تو نعت تخصیص کے لیے ہوتا ہے، تاکہ اشتراک کم ہو، جیسے: "جاء رجل عالم" (ایک عالم آدمی آیا)۔

منعوت کا حذف عام ہے اگر اس کا ظاہر ہونا اتنا واضح ہو کہ اس کا ذکر غیر ضروری ہو، جیسے قرآن کی آیت "وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ" (ان کے پاس نیچی نگاہ والی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہیں)۔ یہاں "نساء" (عورتیں) کا ذکر حذف ہے۔

نعت کے احکام:

نعت کا اصل مشتق ہونا ہے تاکہ وہ ضمیر کو اپنے منعوت کی طرف لوٹا سکے۔ مشتق سے مراد وہ الفاظ ہیں جو کسی فعل اور اس کے فاعل کو ظاہر کرتے ہیں، جیسے: اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل اور مبالغہ کے صیغے۔

نعت کبھی اسم جامد بھی ہو سکتا ہے، جو اپنے معنی میں مشتق ہو، جیسے: "عندي رجل أسد" (میرے پاس ایک شیر آدمی ہے)، یعنی شجاع (بہادر)۔

نعت جملہ بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں یہ جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہوتا ہے، بشرطیکہ اس میں ضمیر ہو جو منعوت کی طرف لوٹے، اور وہ واو کے ساتھ نہ ہو۔ نیز، منعوت نکرہ ہونا چاہیے کیونکہ جملہ بھی نکرہ میں تبدیل ہوتا ہے، جیسے: "جاء أستاذ تلاميذه مجتهدون" (وہ استاد آیا جس کے شاگرد محنتی ہیں)، یا "جاء رجل يحمل كتابا" (وہ آدمی آیا جو کتاب اٹھائے ہوئے ہے)۔

نعت اور منعوت کی مطابقت:

نعت حقیقی اپنے منعوت سے چار باتوں میں مطابقت رکھتا ہے:

اعراب (رفع، نصب، جر)

واحد، تثنیہ اور جمع

تعریف اور تنکیر

تذکیر اور تانیث

جیسے: "جاء رجل عالم" (ایک عالم آدمی آیا)، "رأيت المرأة العالمة" (میں نے عالمہ عورت کو دیکھا)، "استفدت من الرجلين العالمين" (میں نے دو عالم آدمیوں سے فائدہ اٹھایا)۔

نعت سببی اپنے منعوت سے دو باتوں میں مطابقت رکھتا ہے:

اعراب (رفع، نصب، جر)

تعریف اور تنکیر

اور یہ اپنے بعد والے لفظ کے تذکیر و تانیث میں مطابقت رکھتا ہے، اور ہمیشہ واحد رہتا ہے چاہے بعد والا لفظ مثنی یا جمع ہو، جیسے: "جاء الرجل الكريم أبوه" (وہ آدمی آیا جس کا باپ کریم ہے)، "رأيت امرأة كريما أبوها" (میں نے اس عورت کو دیکھا جس کا باپ کریم ہے)۔