كل المواضيع

منصوب اسماء

مفعول بہ دیگر کتب میں

4 نصًا

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۶

المَفْعُولُ بِهِ اسمٌ مَنْصُوبٌ وَقَعَ عليه فِعْلُ الفاعِلِ.

مفعول بہ وہ منصوب اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔

الامثله

شَدَّتِ التِّلْمِيذَةُ الحَبْلَ

طَوَتِ البِنْتُ الثَّوْبَ

أَكَلَ الذِّئْبُ الخَرُوفَ

يَرْبَحُ السَّابِقُ جَائِزَةً

يَصِيدُ الثَّعْلَبُ دَجَاجَةً

يَبِيعُ القَصَّابُ اللَّحْمَ

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۲

۔ فصل المفعول به

المفعول به هو اسم منصوب يدل على ما وقع عليه فعل الفاعل، من غير واسطة . ولم تغير لأجله صورة الفعل ، نحو: يطلب العاقل العلم ،العلم: مفعول به منصوب بالفتحة) وتكرم الدولة المتفوقين (المتفوقين مفعول به منصوب بالياء)

أنواع المفعول به

ويكون المفعول به

(۱) إما اسما ظاهراء نحو: يطلب العاقل العلم

(ب) أو ضميرا متصلا ، نحو: هداك الله (ك: ضمير منصوب متصل بالفعل)

(ج) أو ضميرا منفصلا، نحو: قوله تعالى :( إياك نعبد واياك نستعين) (ف اياک فی موضعين ضمير منصوب منفصل)

اقرأ البقية (85)

(د) أو مصدرا مؤولا ، نحو: عرفت أنك مجتهد ( فالمصدر المؤول من أن واسمها وخبرها أي اجتهادک، هو المفعول به

لـ عرفت )

والناصب للمفعول به فعل، أو شبهه والأصل في ذلك الناصب أن يكون مذكورا۔

وقد يحذف جوازا ووجوبا. يجوز حذف الناصب قياسا لقرينة لفظية نحو: "زيدا" في جواب من قال: من ضربت ؟ أي : ضَرَبَتُ زيداً، أو قرينة معنوية . نحو: "مكة" لمن تأهب للحج، أي: تريد مكة. يجب حذف الناصب سماعا في الأمثال التي تجري على ما هي عليه بدون تغيير نحو قولهم : أحشفاً وسوء كيلة ، أي : أتبيع حشفا وتكيل سوء كيلة

ويجب حذفه سماعا فيما أشبه الأمثال في كثرة الاستعمال، نحو: أهلا وسهلا ، أي : أتيت أهلا ونزلت مكانا سهلا، ونحو قوله تعالى : انتهوا خيرا لكم أي: واعملوا خير الكم.

ويجب حذفه قياسا في أساليب معينة من الاختصاص، والإغراء، والتحذير، وستأتي تفاصيله في مبحث الأساليب.

حذف المفعول به

الأصل في المفعول به أن يكون مذكورا لكونه مقصودا لإتمام المعنى.

وقد يحذف جوازا

(۱) إذا دل عليه دليل، نحو: رعت الماشية : أي عشبا

(ب) أو كان معروفا، نحو: شرب سليم فسكر: أي شرب الخمر

(ج) ويحذف أيضاً طلبا للاختصار، نحو: يغفر الله لمن يشاء: أي يغفر الذنوب

تعدد المفعول به

المفعول به قد يكون واحدًا، وقد يكون متعددا حسب الأفعال المتعدية التي تنقسم إلى أربعة أنواع:

ا۔ نوع ينصب مفعولا واحدا، نحو: فهمت الدرس

۲۔ ونوع ينصب مفعولين أصلهما مبتدأ وخبر، وهو جميع أفعال القلوب وإفعال التصيير والتحويل مثال أفعال القلوب ظننت زيدًا عالما، ومثال إفعال التصيير جعل الطباخ العجين خبزا.

۳۔ ونوع ينصب مفعولين ليس أصلهما مبتدأ وخبرا نحو أعطيت زيدا درهما. ونوع ينصب ثلاثة مفاعيل، نحو: أعلم الأستاذ التلاميذ زيدا ناجحا.

المفعول به يكون صريحا وغير صريح

فالمفعول به الصريح: ما وصل إليه فعله مباشرة (أي بغير واسطة حرف الجر) وهذا هو المقصود بالمفعول به في الاصطلاح النحوي، نحو: فهمت الدرس

والمفعول به غير الصريح: ما وصل إليه فعله بواسطة حرف الجر، نحو: ذهبت بسليم (بسليم يعتبر مفعولا به في المعنى، لا في اللفظ والاصطلاح)

تقدم المفعول به على الفعل

الأصل في المفعول به التأخر عن الفعل والفاعل، وقد يقدم على الفاعل جواز ووجوبا كما تقدم في مبحث الفاعل.

وقد يقدم على الفعل والفاعل جوارًا، نحو قوله تعالى : (ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون) البقرة ۸۷ ( فريقا في الموضعين مقدم على الفعل والفاعل جوازا، لأنه لو كان كلاما غير إلهي لجاز فيه تأخير المفعول به، فيقال: كذبتم فريقا وتقتلون فريقا)

وقد يقدم عليهما وجوبا فيما يلي:

ا۔ إن كان اسماله الصدارة في جملته، كأن يكون اسم استفهام، أو اسم شرط - نحو: من قابلت ؟ أي رجل تكرم أكرم ... وكذلك إن كان مضافا إلى اسم له الصدارة، نحو: صديق من قابلت ؟ صاحب أي رجل تكرم أكرم.

۲۔ كذلك يجب تقديمه عليهما إن كان ضميرا منفصلا لأنه لو تأخر عن عامله لوجب اتصاله به نحو إياكم نخاطب، فلو تأخر المفعول به (إياكم) لا تصل بالفعل وصار الكلام: نخاطبكم، فيضيع الغرض البلاغي من التقديم وهو الحصر.

۳۔ وكذلك يجب تقديمه إذا كان عامله مقرونا بفاء الجزاء في جواب "أما الشرطية ، ولا يوجد اسم يفصل بين هذا العامل و"أما" فيجب تقديم المفعول به ليكون فاصلا: لأن الفعل خاصة المقرون بفاء الجزاء - لا يلي "أما" الشرطية، نحو قوله تعالى: (فأما اليتيم فلا تقهر وأما السائل فلا تنهر) اليتيم، مفعول به مقدم لـ فلا تقهر والسائل، مفعول به مقدم لـ فلا تنهر)

مفعول بہ

مفعول بہ وہ اسم ہوتا ہے جو حالت نصب میں ہوتا ہے اور جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے، بغیر کسی واسطے کے۔ اور فعل کی شکل اس کے لیے نہیں بدلی جاتی، جیسے:

- "یطلب العاقل العلم" (عقل مند علم کی طلب کرتا ہے) یہاں "العلم" مفعول بہ ہے جو حالت نصب میں ہے اور اس پر فتحہ کی علامت ہے۔

- "تکرم الدولة المتفوقین" (ریاست کامیاب لوگوں کی عزت کرتی ہے) یہاں "المتفوقین" مفعول بہ ہے اور نصب کی علامت یاء ہے۔

مفعول بہ کی اقسام:

1. اسم ظاہر: ایسا اسم جو کھلے طور پر مفعول بہ ہو، جیسے: "یطلب العاقل العلم" (عقل مند علم کی طلب کرتا ہے)۔

2. ضمیر متصل: وہ ضمیر جو فعل کے ساتھ جڑا ہو، جیسے: "ھداك الله" (اللہ تمہیں ہدایت دے)۔

یہاں "ك" ضمیر مفعول بہ ہے جو فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

3. ضمیر منفصل: وہ ضمیر جو فعل سے الگ ہو، جیسے: "إياك نعبد" (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں)۔

یہاں "إياك" ضمیر مفعول بہ ہے۔

4. مصدر مؤول: - ایسا مصدر جو "أن" اور اس کے بعد اسم اور خبر پر مشتمل ہو، جیسے: "عرفت أنك مجتهد" (میں نے جانا کہ تم محنتی ہو)۔ یہاں "أنك مجتهد" پورا جملہ مفعول بہ کے طور پر ہے۔

مفعول بہ کے عامل:

مفعول بہ کو نصب دینے والا عموماً فعل ہوتا ہے، یا اس کے مشابہ کوئی کلمہ۔ اصل یہ ہے کہ فعل (یا عامل) کا ذکر کیا جائے، مگر بعض اوقات اس کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے، جوازاً یا وجوباً۔

جوازاً:

- اگر کوئی قرینہ ہو جو معنی واضح کر دے، جیسے: "زیدا" جواب میں جب پوچھا جائے: "من ضربت؟" (تم نے کس کو مارا؟)

مطلب: "ضربتُ زیداً" (میں نے زید کو مارا)۔

وجوباً:

- بعض مقامات میں سماعاً عامل کو حذف کرنا لازمی ہو جاتا ہے، جیسے: "أحشفا وسوء كيلة" (کیا تم خراب کھجور بیچتے ہو اور ناپ بھی غلط کرتے ہو؟)۔ یہاں مطلب ہے: "أتبيع حشفاً وتكيل سوء كيلة"۔

مفعول بہ کا حذف:

مفعول بہ کو عام طور پر ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ معنی کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں مفعول بہ کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے:

1. اگر کوئی دلیل ہو، جیسے:

"رعت الماشية" (مویشی نے چر لیا) یہاں مطلب ہے کہ اس نے "عشب" (گھاس) چر لیا۔

2. اگر وہ معروف ہو، جیسے:

"شرب سلیم فسكر" (سلیم نے پیا اور نشہ کر گیا) یہاں مراد ہے کہ اس نے شراب پی۔

3. اختصار کے لیے، جیسے:

"يغفر الله لمن يشاء" (اللہ جسے چاہے معاف کرے)۔ یہاں مراد ہے کہ اللہ گناہ معاف کرتا ہے۔

مفعول بہ کی تعداد:

مفعول بہ ایک یا زیادہ ہو سکتے ہیں، یہ فعل کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ فعل کی چار اقسام ہوتی ہیں:

1. ایک مفعول والا فعل: جیسے: "فهمت الدرس" (میں نے سبق سمجھا)۔

2.دو مفعول والا فعل، جس میں مبتدا اور خبر شامل ہو: جیسے: "ظننت زیداً عالماً" (میں نے زید کو عالم سمجھا)۔

3. دو مفعول والا فعل، جس میں مبتدا اور خبر نہ ہو: جیسے: "أعطيت زيداً درهماً" (میں نے زید کو ایک درہم دیا)۔

4. تین مفعول والا فعل: جیسے: "أعلم الأستاذ التلاميذ زيداً ناجحاً" (استاد نے طلباء کو بتایا کہ زید کامیاب ہے)۔

مفعول بہ کی اقسام (صریح اور غیر صریح):

- مفعول بہ صریح: وہ مفعول بہ جو براہ راست فعل کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے: "فهمت الدرس" (میں نے سبق سمجھا)۔

- مفعول بہ غیر صریح: وہ مفعول بہ جو حرفِ جر کے ذریعے فعل کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے: "ذهبت بسليم" (میں سلیم کے ساتھ گیا)۔ یہاں "بسليم" معنوی مفعول بہ ہے۔

مفعول بہ کا فعل سے پہلے آنا:

عموماً مفعول بہ فعل اور فاعل کے بعد آتا ہے، لیکن بعض حالات میں اسے فعل اور فاعل سے پہلے لانا لازمی ہوتا ہے، جیسے کہ فاعل کی بحث میں پڑھ چکے ہیں اور اسی طرح مفعول بہ کو کبھی جوازا بھی مقدم کیا جاتا ہے جیسے: فریقا کذبتم و فریقا تقتلون (یہاں فریقا دونوں جگہ مفعول مقدم ہے جوازی طور پر )

مفعول بہ کو وجوبی طور پر مقدم کیا جاتا ہے :

1. اگر وہ سوالیہ یا شرطیہ کلمہ ہو: جیسے: "من قابلت؟" (تم نے کس سے ملاقات کی؟)۔

2. اگر مفعول بہ ضمیر منفصل ہو: جیسے: "إياكم نخاطب" (ہم تم سے مخاطب ہیں)۔

3. اگر فاءِ جزا والا عامل ہو: جیسے: "فأما اليتيم فلا تقهر" (تو یتیم پر ظلم نہ کرو)۔ یہاں "اليتيم" مفعول بہ ہے اور فعل سے پہلے لایا گیا ہے۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۵

مفعول بہ وہ اسم ہے جس پر فعل کا اثر ظاہر ہو۔ جیسے : قَتَلَ الْوَلَدُ الْحَيَّةَ لڑکے نے سانپ کو مار ڈالا، اس جملہ میں مارنے والا لڑکا ہے سو وہ فاعل ہے اور قتل سانپ کا ہوا ہے اس لئے وہ مفعول بہ ہے۔

مفعول به ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ جیسے : فَتَحَ الْوَلَدُ الْبَابَ لڑکے نے دروازہ کھولا اس مثال میں الْبَابَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے۔ اسی طرح :

رَأَيْتُ حَامِدًا میں نے حامد کو دیکھا

شَرِبَ الرَّجُلُ الْمَاءَ مرد نے پانی پیا

سألتِ المُدِيرَةُ زَيْنَبَ ہیڈ مسٹریس نے زینب سے پوچھا

سَأَلَ الْوَلَدُ أُمَّهُ لڑکے نے اپنی ماں سے سوال کیا

نوٹ : آخری مثال میں مفعول بہ اُم ہے اور ضمیر ، اسکا حصہ نہیں ہے اسی لئے نصب ام کی میم پر ظاہر ہوا۔ اسی طرح

رَأَيْتُ بَيْنَكَ بَيْت + ك

اقرأ البقية (7)

فَتَحَ الطَّالِبُ كِتابه كِتَابَ + ہ :

اسم ظاہر کی طرح ضمیر بھی مفعول واقع ہوتی ہے۔ جیسے :

رَأَيْتُ بلالًا وَ سَأَلْتُهُ میں نے بلال کو دیکھا اور اس سے پوچھا

اگر تنوین والے اسم کے بعد کوئی ایسا اسم آجائے جو ہمزہ وصل سے شروع ہو رہا ہے تو تنوین کے نون کو کسرہ کے ساتھ پڑھیں گے۔ جیسے : شَرِبَ حَامِدٌ الْمَاءَ اس کو شَرِبَ حَامِدُ نِ الْمَاء پڑھیں گے . اس لئے کہ تنوین کا نون ساکن ہے اور ( ہمزہ وصل گر جانے کے بعد ) ل بھی ساکن ہے،

اس کو التقاء الساكنين کہتے ہیں اور ساکن کے بعد ساکن کی ادائیگی دشوار ہے، اس لئے پہلے سکون کو کسرہ سے بدل دیا جاتا ہے۔ اسی طرح :

سَأَلَ بِلَالٌ ابْنَهُ کو سَأَلَ بلال ن ابنه اور

سَمِعَ فَيْصَلِّ الْأَذَانَ کو سَمِعَ فَيْصَلُ نَ الْأَذَانَ پڑھیں گے

المفصل

المفصل۔ سبق:۱۱

المفعول بہ

هو الذي يقع عليه فعل الفاعل في مثل قولك ضرب زيد عمراً وبلغت البلد. وهو الفارق بين المتعدي من الأفعال وغير المتعدي . ويكون واحداً فصاعداً إلى الثلاثة على ما سيأتيك بيانه في مكانه إن شاء الله تعالى. ويجيء منصوباً بعامل مضمر مستعمل إظهاره أو لازم : إضماره المنصوب بالمستعمل إظهاره هو قولك لمن أخذ يضرب القوم، أو قال أضرب شر الناس زيداً بإضمار أضرب ولمن قطع حديثه حديثك، ولمن صدرت عنه أفاعيل البخلاء: أكل هذا بخلا، بإضمار هات وتفعل. ومنه قولك لمن ركنت أنه يريد مكة ورب الكعبة. ولمن سدد سهما القرطاس والله وللمستهلين إذا كبروا الهلال والله، تضمر يريد ويصيب وأبصروا، ولرائي الرؤيا خيراً وما سر، وخيراً لنا وشراً لعدونا أي رأيت خيراً. ولمن يذكر رجلاً. أهل ذلك وأهله أي ذكرت أهله. ومنه قوله:

لن تراها ولو تأملت إلا ولها في مفارق الرأس طيباً

أي وترى لها. ومنه قوله كاليوم رجلاً، بإضمار لم أر. قال أوس:

حتى إذا الكلاب قال لها كاليوم مطلوباً ولا طلبا

قال سبيويه وهذه حجج سمعت من العرب. يقولون اللهم ضبعاً وذئباً. وإذا قيل لهم ما يعنون، قالوا اللهم اجعل فيها ضبعاً وذئباً. وسمع أبو الخطاب بعض العرب وقيل له لم افسدتم مكانكم؟ فقال الصبيان بأبي أي لم الصبيان. وقيل لبعضهم أما بمكان كذا وجد؟ فقال بلى وجاذا أي أعرف به وجاذا .