كل المواضيع

معرب اسماء

معرب اسماء دیگر کتب میں

1 نصًا

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱

معرب اسماء کو ہم مرفوع، منصوب یا مجرور کہتے ہیں، مبنی اسماء کو فِي مَحَلِّ رَفْعِ“ ، فِي مَحَل نَصَبٍ“، فِي مَحَل جَرِّ » کہیں گے، اس لئے کہ اسم مبنی مرفوع منصوب یا مجرور نہیں ہو سکتا، ہاں وہ رفع ، یا نصب، یاجر کے مقام پرضرور واقع ہوتا ہے، اگر اسم مبنی کی جگہ اسم معرب رکھ دیا جائے تو وہ مرفوع منصوب یا مجرور ہوگا، جیسے: رَأَيْتُ بِلالا میں بلالا منصوب ہے اس لئے کہ وہ مفعول بہ ہے، لیکن رَأَيْتُ هذا میں اسم هذا نصب کے مقام پر (فــي مـحـل نصب) ہے، اس لئے کہ وہ اسم منصوب بلالا کی جگہ واقع ہے۔

مرفوع اسماء

مندرجہ ذیل حالتوں میں اسم مرفوع ہوگا:

۱۔۲۔ مبتدا اور خبر ہو، جیسے: الله اكبر. اللہ سب سے بڑا ہے۔

۳- کان کا اسم ہو ، جیسے: كَانَ الْبَابُ مَفْتُوْحًا. دروازہ کھلا تھا۔

۴- إنَّ کی خبر ہو، جیسے: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ یقینا اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔

۵- فاعل ہو، جیسے: خلقنا الله ہمیں اللہ تعالی نے پیدا کیا۔

اقرأ البقية (49)

۶- نائب فاعل ہو، جیسے: خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ طِيْنِ. انسان مٹی سے پیدا کیا گیا۔

منصوب اسماء

ا۔ إِنَّ کا اسم ہو، جیسے:إِنَّ الْعِلْمَ نَافِعٌ. بے شک علم فائدہ مند ہے۔

۲-گان کی خبر ہو، جیسے:كَانَ الطَّعَامُ لَذِيْدًا. کھانا ذائقہ دار تھا۔

۳۔ مفعول بہ ہو، جیسے:فَهِمْتُ الدَّرْسَ. میں سبق سمجھ گیا۔

۴ مفعول فیہ ہو، جیسے: سَافَرَ أَبِي لَيْلا. میرے والد نے رات کو سفر کیا۔

۵ - مفعول له ہو، جیسے: مَاخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ خَوْفًا مِّنَ الْحَرِّ گرمی کے اندیشہ سے میں گھر سے باہر نہیں نکلا۔

۶۔ مفعول معه ہو، جیسے: سِرْتُ وَالْجَبَلَ. میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چلا۔ ،ذَهَبْتُ وَخَالِدًا إِلَى السُّوْقِ. میں خالد کے ساتھ بازار گیا۔

۷۔ مفعول مطلق ہو، جیسے: اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا۔ اللہ تعالی کا خوب کثرت سے ذکر کیا کرو۔

۸- حال ہو، جیسے: جَدِّيْ يُصَلِّي قَاعِدًا. میرے دادا بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔

۹- تمیز ہو، جیسے: أَنَا أَحْسَنُ مِنْكَ خَطًا. میں خوش نویسی کے پہلو سے تم سے بہتر ہوں۔

۱۰۔ مستثنی ہو، جیسے: حَضَرَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ إِلَّا مُحَمَّدًا. محمد کے علاوہ سارے طلبہ حاضر ہوئے۔

۱۱:-منادی ہو، جیسے: يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اے عبد الله

توابع

عربی قواعد میں چار عناصر ایسے ہیں جن کا اپنا کوئی مستقل اعراب نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں پر منحصر اور ان کے تابع ہوتے ہیں، وہ یہ ہیں:

۱۔ نعت (صفت) یہ اعراب میں اپنے منعوت (موصوف) کے تابع ہوتی ہے، منعوت ( موصوف ) اس اسم کو کہتے ہیں جس میں وہ صفت پائی جائے، جیسے:

أَحَضَرَ الطَّالِبُ الْجَدِيدُ؟ کیا نیا طالب علم حاضر ہوا؟

يَطْلُبُ الْمَدِيرُ الطَّالِبَ الْجَدِيدَ. ہیڈ ماسٹر نئے طالب علم کو طلب کر رہے ہیں۔

هذَا دَفَتَرُ الطَّالِب الْجَدِيد. یہ نئے طالب علم کی کاپی ہے۔

ان مثالوں میں نعت الجدید اپنے منعوت الطالب کے اعراب کے تابع ہے، چنانچہ اگر وہ مرفوع ہے تو نعت بھی مرفوع ہے اور اگر وہ منصوب ہے تو نعت بھی منصوب ہے اور اگر وہ مجرور ہے تو نعت بھی مجرور ہے۔

۲ - توكيد، وہ اسم جو کلام میں تاکید یا زور پیدا کر دیتا ہے، جیسے: كُلُّهُمْ (وہ سب کے سب)،

نَفْسُه (وہی، وہ خود ) ، مثال کے طور پر:

حَضَرَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ. سارے طلبہ حاضر ہوئے۔

سَأَلْتُ الطُّلابَ كُلُّهُمْ. میں نے سارے طلبہ سے دریافت کیا۔

سَلّمْتُ عَلَى الطَُلابِ كُلِّهِمْ. میں نے سارے طلبہ کو سلام کیا۔

قَالَ لِي الْمَدِيْرُ نَفْسُهُ. مجھ سے خود ہیڈ ماسٹر نے کہا۔

سَأَلْتُ الْمَدِيرَ نَفْسَهُ میں نے ہیڈ ماسٹر ہی سے دریافت کیا۔

سلَمْتُ عَلَى الْمَدِير نَفْسِهِ. میں نے ہیڈ ماسٹر ہی کو سلام کیا۔

یہاں تو کید (كُلّ ، نَفس)مؤکد (المدير ، الطلاب) کے تابع ہے، مؤکد اس اسم کو کہتے ہیں جس کی تاکید کی جائے، جیسے: سابقہ مثالوں پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اگر الطلاب مرفوع ہے تو کل بھی مرفوع ہے اور اگر الطلاب منصوب ہے تو کُل بھی منصوب ہے اور اگر الطلاب مجرور ہے تو کل بھی مجرور ہے، یہی حال نـفـس (تو کید) اور المدير (مؤکد) کا ہے۔

۳۔ معطوف، وہ اسم جو کسی حرف عطف جیسے : واو وغیرہ کے ذریعہ دوسرے پر عطف کیا جائے، جیسے:

خَرَجَ حَامِدٌ وَصَدِيقُهُ. حامد اور اس کا دوست نکلے ۔

طَلَبَ الْمُدِيرُ حَامِدًا وَصَدِيقَهُ. ہیڈ ماسٹر نے حامد اور اس کے دوست کو طلب کیا۔

أَيْنَ كُتُبُ حَامِدٍ وَصَدِيقِهِ؟ حامد اور اس کے دوست کی کتابیں کہاں ہیں؟

ان مثالوں میں صدیقه معطوف ہے، یعنی حامد پر عطف ہے، اسی لئے جو اعراب حامد کا ہے وہی صدیقہ کا بھی ہے، اگر حامد مرفوع ہے تو صدیقہ بھی مرفوع ہے، اگر حامد منصوب ہے تو صدیقہ بھی منصوب ہے اور اگر حامد مجرور ہے تو صدیقہ بھی مجرور ہے۔

۴۔ بدل، وہ اسم جو کسی دوسرے اسم کے بدلے آئے ، جیسے:

أَنَجَحَ أَخُوْكَ هَاشِمٌ؟ کیا تمہارا بھائی ہاشم کامیاب ہو گیا ؟

أَعْرِفُ أَخَاكَ هَاشِمًا. میں تمہارے بھائی ہاشم سے واقف ہوں۔

أَيْنَ غُرْفَةُ أَخِيْكَ هَاشِمٍ؟ تمہارے بھائی ہاشم کا کمرہ کہاں ہے؟

أَنَجَحَ هذَا الطَّالِبُ؟ کیا یہ طالب علم کامیاب ہو گیا ؟

أَعْرِفُ هَذَا الطَّالِبَ. میں اس طالب علم کو جانتا ہوں۔

أَيْنَ غُرْفَة هَذَا الطَّالِب؟ اس طالب علم کا کمرہ کہاں ہے؟

یہاں اخوک (تمہارا بھائی) اور هاشم (ہاشم) دونوں ایک ہیں، اسی لئے جو اعراب اخوک کا ہے

وہی هاشم کا ہے، اسی طرح هذا (یہ) اور الطالب ( ایک طالب علم) ایک ہیں، اسی لئے جو اعراب هذا کا ہے وہی الطالب کا ہے۔