علم الصرف Motion Lesson

علم الصرف · علمِ صرف کی بنیادی اصطلاحات

Lesson 1 · 11 chapters · Urdu captions

علم الصرف
علمِ صرف کی بنیادی اصطلاحات
علم الصرف
ذَهَبَ
يَذْهَبُ
اِذْهَبْ
ذَهَبَ
ذهب
حروفِ اصلیہ
ذهب
؟
ذَهَبَ
تلفظ
علم صرف: وہ علم ہے جس میں کلموں کے بنانے اور ان میں تغیر کرنے کا طریقہ قواعد کی روشنی میں بیان کیا جائے۔
ان تینوں کلموں میں ذ، ہ، ب ہر حال میں موجود رہتے ہیں، انہیں حروفِ اصلیہ کہتے ہیں۔
علم صرف کا فائدہ: اس علم کو سیکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہم صحیح طور سے کلمات کا تلفظ کر سکیں۔
کلمہ کی تعریف
مسجد
مَسْجِدٌ
قَلَمٌ
قظض
عربی زبان کی بنیاد، یعنی کوئی بھی بامعنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔
جو لفظ بامعنی مفرد ہو اس کو کلمہ کہتے ہیں، مثلاً: مَسْجِدٌ، قَلَمٌ
کلمہ کی تین قسمیں
اسم
قَلَمٌ، حَامِدٌ، مَسْجِدٌ، اَنَا
فعل
فَعَلَ، ذَهَبَ، يَفْعَلُ
حرف
اِلٰی، مِنْ، عَلٰی
اسم: وہ کلمہ ہے جو اپنا معنیٰ خود بتائے اور اپنا معنیٰ بتانے میں کسی دوسرے کلمہ کا محتاج نہ ہو اور تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس میں نہ پایا جائے۔
فعل: وہ کلمہ ہے جس سے کسی کام کا کرنا یا ہونا سمجھا جائے اور تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس میں ضرور پایا جائے۔
حرف: وہ کلمہ ہے جس کے معنی اسم یا فعل کے ساتھ ملے بغیر سمجھ میں نہ آئے۔
فعل کے تین زمانے
ماضی
ذَهَبَ، فَعَلَ، نَصَرَ
مضارع
يَفْعَلُ، يَذْهَبُ
امر
اِذْهَبْ، اِفْعَلْ
فعل ہمیشہ کسی نہ کسی زمانے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
ماضی: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا زمانہ گزشتہ میں ہونا سمجھا جائے۔
مضارع: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا کبھی زمانہ حال اور کبھی زمانہ آئندہ میں ہونا سمجھا جائے۔
امر: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کے کرنے کا حکم معلوم ہو، اور اس میں مستقبل کا زمانہ پایا جاتا ہے۔
فعل کی اقسام: لازم اور متعدی
لازم
ذَهَبَ حَامِدٌ
فاعل سے بات پوری
متعدی
حامد · فاعل محمود · مفعول
نَصَرَ حَامِدٌ مَحْمُودًا
لازم: جو فعل صرف فاعل کے ملنے سے پوری بات ظاہر کر دے، اسے لازم کہتے ہیں، جیسے ذَهَبَ حَامِدٌ
متعدی: جس فعل کو فاعل کے علاوہ مفعول کی بھی ضرورت ہو، اسے متعدی کہتے ہیں، جیسے نَصَرَ حَامِدٌ مَحْمُودًا
فاعل کی نسبت سے: معروف اور مجہول
معروف
مجہول
شَرِبَ حَامِدٌ مَاءً
شُرِبَ مَاءٌ
شَرِبَ ← شُرِبَمَاءً ← مَاءٌ
معروف: وہ فعل ہے جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو اور اس کا فاعل معلوم ہو، جیسے شَرِبَ حَامِدٌ مَاءً
مجہول: وہ فعل ہے جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو، اور اس کا فاعل معلوم نہ ہو، جیسے شُرِبَ مَاءٌ
مثبت اور منفی
مثبت
منفی
يَذْهَبُ(وہ جاتا ہے)
لَا يَذْهَبُ(وہ نہیں جاتا ہے)
نَصَرَ(اس نے مدد کی)
مَا فَعَلَ(اس نے نہیں کیا)
مثبت: جس فعل سے کسی کام کا ہونا معلوم ہو۔
منفی: جس فعل سے کسی کام کا نہ ہونا معلوم ہو۔
حرکات کی مکمل اصطلاحات
حرکاتِ ثلاثہ
بَ
زبر
نصب یا فتحہ
مفتوح
بِ
زیر
جر یا کسرہ
مکسور
بُ
پیش
رفع یا ضمہ
مضموم
بْ
جزم
سکون
ساکن
متحرک
حرکت: زبر، زیر، پیش میں سے ہر ایک کو حرکت اور اکٹھا تینوں کو حرکاتِ ثلاثہ کہتے ہیں۔
نصب یا فتحہ: زبر کو کہتے ہیں۔
جر یا کسرہ: زیر کو کہتے ہیں۔
رفع یا ضمہ: پیش کو کہتے ہیں۔
متحرک: حرکت والے حرف کو کہتے ہیں۔
مفتوح، مکسور، مضموم: وہ حرف جس پر زبر، زیر یا پیش ہو۔
سکون: جزم کو کہتے ہیں۔ ساکن: وہ حرف جس پر جزم ہو۔
تعداد کے اعتبار سے اسم کی قسمیں
واحد
مَسْجِدٌ، كِتَابٌ
تثنیہ
مَسْجِدَانِ، كِتَابَانِ
جمع
مَسَاجِدُ، كُتُبٌ
واحد: کسی لفظ کا ایسی حالت میں ہونا جس سے ایک چیز سمجھی جائے۔
تثنیہ: کسی لفظ کا ایسی حالت میں ہونا جس سے دو چیزیں سمجھی جائیں۔
جمع: کسی لفظ کا ایسی حالت میں ہونا جس سے دو سے زیادہ چیزیں سمجھی جائیں۔
شجرة القواعد
؟
یہ تمام اصطلاحات مل کر عربی زبان کا وہ خوبصورت درخت بناتی ہیں جس کا پھل قرآنِ پاک کا فہم ہے۔
علم کے درخت کی شاخیں سوالات ہی سے پھیلتی ہیں۔ کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے علمِ نافع کے دروازے کھولے اور قرآنِ پاک کو سمجھنا آسان فرمائے۔ (آمین)
آپ کے وقت اور توجہ کا شکریہ
0:00 / 4:19